Daily Mashriq


نیت صاف منزل آسان

نیت صاف منزل آسان

پاکستان کے 22ویں وزیراعظم اور تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے ریڈیو اور ٹیلی وژن پر قوم سے خطاب کیا۔ وزیراعظم کے اس خطاب کو اندرون اور بیرون ملک بہت سراہا گیا۔ پاکستان کے 21کروڑ عوام کپتان کے اس خطاب کے بعد یہ سوچتے ہیں کہ انشاء اللہ اب ان کے مسائل کسی حد تک حل ہو جائیں گے۔ سوشل میڈیا پر خان کے پہلے خطاب کو حد سے زیادہ سراہا گیا۔ وہ لوگ جو سیاسی طور پر عمران خان سے اختلاف رکھتے تھے اس تقریر کو سننے کے بعد اب عمران خان کے گرویدہ ہوگئے اور ہر ایک کے دل سے یہ دعا نکلتی ہے کہ اللہ کرے عمران خان جس کام کیلئے نکلے اور جن کاموں کے وعدے کئے ہیں اللہ کرے یہ پورے ہوں۔ سوشل میڈیا کی ہر پوسٹ پر پاکستانیوں نے بھی عمران کو اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ہر حالت وصورت ہر اچھے کام میں اپنے وزیراعظم کیساتھ رہیں گے۔ عمران خان نے یہ بھی کہا کہ بعض لوگ جس میں کرپٹ سیاستدان اور افسر شاہی بھی شامل ہے اس کی راہ میں رکاوٹ ڈالیں گے مگر جب پاکستان کے عوام ان کیساتھ ہوںگے انشاء اللہ میں ان لٹیروں کو شکست دوں گا۔ میرے خیال میں پاکستانی تاریخ میں پہلی دفعہ ہر پاکستانی اپنے حکمران کی باتوں سے پُرامید اور مطمئن ہے اور سوچتے ہیں کہ انشاء اللہ اس کے مسائل حل ہوںگے۔ عمران خان نے قوم سے وعدہ کیا کہ وہ صرف دو گاڑیاں اور دو ملازم رکھیں گے۔ وزیراعظم ہاؤس کو ریسرچ یونیورسٹی بنائی جائے گی۔ وزیراعظم ہاؤس میں جتنی بھی بُلٹ پروف گاڑیاں ہیں ان کو نیلام کیا جائے گا۔ نیلام کا پیسہ ملکی خزانے میں جمع ہوگا۔ گورنر جو وفاق کی طرف سے صوبے میں نمائندہ ہوتا ہے گورنر ہاؤس میں نہیں رہے گا۔ نیب کو طاقتور ادارہ بنایا جائے گا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ملک میں اس وقت روزانہ 13کروڑ روپے اور سالانہ 5ہزار ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے جو ہمارے وفاقی بجٹ کے برابر ہے۔ عمران خان نے اعادہ کیا کہ ملک کو ہر صورت کرپشن اور بدعنوانی سے پاک کیا جائے گا۔ اس ملک میں کرپٹ رہیں گے یا ہم۔ کرپشن کی نشاندہی کرنے والوں کو انعام دیا جائے گا۔ کسی بھی مقدمے کی سماعت ایک سال میں ہوگی۔ پولیس کا نظام ٹھیک کیا جائے گا اور اس کی ذمہ داری کے پی کے سابق آئی جی ناصر خان درانی کو سونپ دی گئی۔ بیرون ملک پاکستانی جو ملک کو سالانہ 20ارب ڈالر بھیجتے ہیں ان کو مزید مراعات دی جائیں گی۔ جہاں تک پاکستان میں بینکنگ کا نظام ہے یہ بھی ٹھیک نہیں ان کو درست کیا جائے گا تاکہ سمندر پار پاکستانی ہنڈی کے بجائے پیسے بینکوں کے ذریعے بھیجیں۔ گورنمنٹ سکولوں اور ہسپتالوں کی حالت کو بہتر بنایا جائے گا۔ خیبر پختونخوا کی طرح پورے پاکستان میں صحت کارڈ کا اجرا کیا جائے گا۔ مدرسوں میں 25لاکھ بچے زیر تعلیم ہیں ان کو دینی تعلیم کیساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم دی جائے گی تاکہ یہ مستقبل میں اچھے ڈاکٹرز، انجینئرز اور جنرل بن سکیں۔ بچوں کیساتھ زیادتی کرنے والوں کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ پانی کا ہے، پانی کے مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔ ڈیموں کی تعمیر کا ذکر کرتے ہوئے کپتان نے کہا کہ اس سلسلے میں سب سے پہلا ڈیم بھاشا ڈیم بنایا جائے گا۔ کسانوں کیلئے زرعی پانی دینے کیلئے جدید سپرنکل اور ڈرپ ایریگیشن سسٹم سے کام لیا جائے گا۔ ساتھ ساتھ ہمیں بھارت یا کسی اور ملک سے بیج لانے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ ہم خود اپنے ملک میں زراعت سے متعلق اداروں کو جدید خطوط پر استوار رکھیںگے۔ جن جن لوگوں نے پاکستان کو لوٹا ہے ان پیسوں کو پاکستان واپس لانے کیلئے ٹاسک فورس قائم کی جائے گی اور لوٹی ہوئی رقم پاکستان لائی جائے گی۔ سول سروسز میں ریفارمز کی جائیں گی۔ جو ادارے اور ملازمین اچھا کام کریں گے ان کو زیادہ سے زیادہ معاوضہ دیا جائے گا۔ کسی بھی قومی اور صوبائی اسمبلی کے ممبرکا صوابدیدی فنڈ نہیں ہوگا۔ ترقیاتی اور ڈویلپمنٹ کا کام بلدیاتی اداروں کے ذریعے کرایا جائے گا۔ ناظم کا انتخاب ڈائریکٹ طریقے سے ہوگا۔ بچوں کیلئے پارک کا اہتمام ہوگا اور جن جن پارکوں اور کھیلوں کے میدانوں پر قبضہ مافیا نے قبضہ کیا ہوا ہے ان کو آزاد کریں گے۔ پاکستان اپنے پڑوسیوں کیساتھ اچھے تعلقات رکھے گا۔ اسٹریٹ چلڈرن، معذور لوگوں اور بیواؤں کی ذمہ داری ہم نے لینی ہے۔ انہوں نے پاکستانی عوام کے درمیان رحم کا جذبہ پیدا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ عوام کے ایک ایک پیسے کو بچایا جائے گا۔ مدینہ کی ریاست قائم کی جائے گی۔ اگر ہم غور کریں تو وزیراعظم عمران خان کی پہلی تقریر بیلنس اور خوش آئند ہے۔ ہر پاکستانی کی دل سے دعا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے 21کروڑ پاکستانیوں کیساتھ جو وعدے کئے وہ پورے ہوں۔ اگر ہم غور کریں تو پاکستانی قوم آج کل ناگفتہ بہ حالت کا سامنا کر رہے ہیں اور یہ قوم عرصہ دراز سے کسی مسیحا کی تلاش میں تھی۔ ایسا نہ ہو کہ ماضی کے حکمرانوں کی طرح پاکستان کے عوام کو ایک دفعہ پھر دھوکا دیا جائے۔ اس تقریر میں امریکہ، چین اور سعودی عرب کیساتھ تعلقات کی بات نہیں کی گئی۔ عافیہ صدیقی جو 15سال سے امریکہ کی قید میں ہے اس کا بھی ذکر نہیں کیا گیا۔ تقریر میں یہ بھی ذکر نہیں کیا کہ جو کرپٹ اور بدعنوان عمران کیساتھ ہیں کیا اس کیخلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں