Daily Mashriq

ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کا مستقبل 3 جائزوں پر منحصر

ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کا مستقبل 3 جائزوں پر منحصر

اسلام آباد: اکتوبر تک پاکستان کے فنانشل ٹاسک فورس(ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ سے اخراج کا فیصلہ تین مختلف جائزے کریں گے جو ابھی پیشرفت کے مرحلے میں ہیں۔

ایک سینیئر حکومتی عہدیدار نے بتایا کہ ایف اے ٹی ایف کی ذیلی تنظیم ایشیا پیسفک گروپ (اے پی جی) حال ہی میں آسٹریلین دارالحکومت کینبرا میں مالیاتی اور انشورنس کے شعبے میں نظام کی بہتری کے سلسلے میں پاکستان کا 5 سالہ جائزہ لے رہا ہے۔

یہ کارروائی دہشت گردی اور منی لانڈرنگ روکنے کے لیے ایف اے ٹی ایف کی شرائط پر پورا اترنے کے لیے پاکستان کی کارکردگی سے براہِ راست تعلق نہیں رکھتی اس کے باوجود اس سے اخذ شدہ رپورٹ گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے اسلام آباد کی پوزیشن پر براہِ راست اثر انداز ہوگی۔

اس ضمن میں اسٹیٹ بینک کے گورنر باقر رضا کی جانب سے پیش کردہ جائزاتی رپورٹس 23 اگست کو مکمل ہوجائے گی۔

اس سے قبل پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے 27 نکات پر مشتمل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے تعمیلی رپورٹ اے پی جی میں جمع کروائی تھی جو مالیاتی اور انشورنس سروسز سے متعلق 7 شعبہ جات کا جائزہ لے رہا ہے جو اس کے 5 سالہ نظرِ ثانی طریقہ کار کا حصہ ہے۔

ان شعبہ جات میں کالعدم تنظیموں اور غیر سرکاری اداروں کے ذریعے بینک اور نان بینکنگ دائرہ کار، کیپٹل مارکیٹس، کارپوریٹ اور نان کارپوریٹ سیکٹر مثلاً چارٹرڈ اکاؤنٹیسیم فنانشل ایڈوائزری سروسز، کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹینسی فرم، جیولرز اور اسی طرح کے دیگر ذرائع کے تحت منی لانڈرنگ اور دیشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف تحفظ شامل ہیں۔

عہدیدار نے وضاحت کی کہ اے پی جی کی جانب سے 2 سال پر محیط 5 سالہ جائزے کا یہ عمل 23 اگست کو مکمل ہوجائے گا۔

اس سلسلے میں حکومتوں کو ٹیکنالوجیز، رائج طریقہ کار اور جدید ترین تکینیک میں تبدیلیوں کے پیشِ نظر مستقبل کے اہداف پیش کرنے ہوتے ہیں۔

جس کے بعد تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں 5 سمتبر سے باہمی جائزہ کا ایک دور شروع ہوگا جو ایف اے ٹی ایف کے پلانری اور ورکنگ گروپ کے 13 سے 18 اکتوبر تک پیرس میں طے شدہ اجلاس میں پاکستان کے لیے کیے جانے والے حتمی جائزے کی بنیاد ہوگا۔

عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ اعلیٰ سطحی سیاسی روابط اور افغان مفاہمتی عمل میں تعاون کے بعد امریکا نے پاکستان کی حمایت کا رویہ اپنایا ہے۔

دوسری جانب امریکی قائم مقام اسسسٹنٹ سیکریٹری اسٹیٹ برائے جنوبی اور وسط ایشائی امور ایلس جی ویلز نے حالیہ دورے کے دوران پاکستان کو تجویز دی تھی کہ گرے لسٹ سے نکلنے کے سلسلے میں مزید ممالک کی حمایت حاصل کرنے کے لیے کالعدم تنظیموں اور ان کے سربراہان کے خلاف ٹھوس کارروائی کا مظاہرہ کرے۔

متعلقہ خبریں