Daily Mashriq

ملک بھر میں ایک لاکھ امیر ٹیکس نان فائلزز کو نوٹسز جاری

ملک بھر میں ایک لاکھ امیر ٹیکس نان فائلزز کو نوٹسز جاری

وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس نیٹ کو وسعت دیتے ہوئے ایک لاکھ امیر ٹیکس نان فائلزز کو نوٹسز جاری کردیے۔

ایف پی آر نے عندیہ دیا کہ آئندہ چند روز میں مزید ایک لاکھ نوٹسز ارسال کیے جائیں گے جبکہ نوٹسز کا جواب نہ دینے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

اسلام آباد میں ایف بی آر کے ممبر ان لینڈ ریونیو پالیسی ،ممبر آئی آر آپریشنز اور ممبر آئی ٹی نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

ممبران لینڈ ریونیو پالیسی ڈاکٹر حامد عتیق سرور نے کہا کہ سالانہ 6لاکھ روپے بجلی کا بل ادا کرنے والے دکانداروں کو سیلز ٹیکس رجسٹریشن میں لائیں گے اور ٹیکس رجسٹرڈ افراد کی تعداد 4 لاکھ تک بڑھائیں گے۔

اس موقع پر ممبر آئی آر آپریشنز سیما شکیل نے کہا کہ ایک لاکھ ’ہائی نیٹ ورتھ‘ والے افراد کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے نوٹسز جاری کردیے ہیں جبکہ مزید ایک لاکھ افراد کو نوٹس جاری کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ نوٹسز کے اجرا کا عمل مرحلہ وار جاری رہے گا اور نوٹسز بینک سے رقوم نکلوانے سمیت معاشی سرگرمیوں کی بنیاد پر جاری کیے جائیں گے۔

اسی حوالے سے ممبر آئی آر پالیسی ڈاکٹر حامد عتیق سرور کا کہنا تھا کہ سیلزٹیکس رجسٹریشن والوں کی تعداد 3 سے 4 لاکھ تک بڑھائیں گے، جو اس وقت ڈھائی لاکھ ہے۔

انہوں نے کہا کہ سالانہ 6 لاکھ روپے یا اس سے زائد بجلی کا بل ادا کرنے والے، ایک ہزار مربع فٹ سے بڑی دکان والے، ریٹیلرز اورصنعتی کنکشنز رکھنے والوں کی سیلزرجسٹریشن ترجیح ہے۔

ڈاکٹرحامد عتیق سرور نے کہا کہ ملک میں 4 ہزار بڑے ری ٹیلرز رجسٹرڈ ہیں جو کپڑے اور جوتوں سمیت 15 سے 20 بڑے برانڈز پر مشتمل ہیں۔

علاوہ ازیں ممبر آئی ٹی ایف بی آر محمود اسلم کا کہنا تھا کہ سیلز ٹیکس رجسٹریشن میں لوگوں کو شکایات تھیں، تاہم سیلز ٹیکس رجسٹریشن کو آسان کردیا گیا ہے ، کوئی بھی شخص اپنے کمپیوٹر اورموبائل فون کے ذریعے سیلز ٹیکس رجسٹریشن کرسکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سیلز ٹیکس رجسٹریشن کے لیے کاغذات کو کم سے کم کردیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مینوفیکچررز کو مشینری اور بجلی کے بل کی کاپی ساتھ منسلک کرنا ہوگی، سسٹم کے ذریعے بینک اکاونٹس کی تصدیق کی جائے گی، رجسٹریشن کے بعد متعلقہ افراد کو 30 روز کے اندر نادرا ای سہولت مراکز میں بائیو میٹرک تصدیق کروانا ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ مقررہ مدت میں بائیو میٹرک تصدیق نہ ہونے پر رجسٹریشن ان ایکٹو کردی جائے گی۔

ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ بائیو میٹرک تصدیق کی وجہ سے شناختی کارڈ کا غلط استعمال ممکن نہیں رہے گا۔

ممبر آئی ٹی کا کہنا تھا کہ جعلی ای میلز کی روک تھام کے لیے سائبر کرائمز ونگ سے رابطہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد 25 لاکھ سے تجاوز کرچکی، جو بڑی کامیابی ہے۔

متعلقہ خبریں