Daily Mashriq

منقسم کل جماعتی کانفرنس

منقسم کل جماعتی کانفرنس

جمعیت علمائے اسلام(ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتوں نے اس بات کا فیصلہ کرلیا ہے کہ متحد طور پر اسلام آبادجاکر حکومت کے تابوت میں آخری کیل ٹھوکیں گے، اس سلسلے میں رہبر کمیٹی کو کہا گیاہے کہ وہ اس سلسلے میںایک ہفتے میں چارٹر آف ڈیمانڈ تیار کرے۔ یہ دعویٰ ایک ایسے اجلاس کے بعد کیا گیا جس میں دو بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہان نے شرکت تک نہیں کی۔اسلام آباد میں مسلم لیگ(ن)کے صدر شہباز شریف اور پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی غیرموجودگی میں اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی)ہوئی، جس کی صدارت مولانا فضل الرحمن نے کی۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ حکومت کی ایک سالہ کارکردگی پر ہم سب اس پر متفق ہیں کہ حکومتی نااہلیوں کے باعث ملک بحران میں جکڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی طور پر ملک کمزور ترین دور سے گزررہا ہے اور اسی معاشی کمزوری کے سبب سوویت یونین اپنی بقا کی جنگ نہیں لڑسکی۔ سربراہ جے یو آئی (ف )کا کہنا تھا کہ ملک میں قومی یکجہتی کا فقدان ہے، عوام مہنگائی سے تنگ ہیں جبکہ نوجوان بیروزگاری کا شکار ہیں، اس کے علاوہ تاجربرادری وکلا اور ڈاکٹرز بھی اس صورتحال سے پریشان ہیں۔مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے حکمرانوں کو کشمیر پر سودے بازی کا ذمہ دار قرار دیدیا۔حزب اختلاف کی جماعتوں کی رہبر کمیٹی چارٹرآف ڈیمانڈ تیار کرے گی جس کا26اگست کو کمیٹی کا اجلاس ہوگا تاکہ مشترکہ حکمت عملی بنائی جاسکے جبکہ29اگست کو دوبارہ اے پی سی ہوگی۔جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ نے عام انتخابات میں شکست کے بعد سے مسلسل حکومت کے حوالے سے جو سخت لب ولہجہ اختیار کررکھا ہے اس سے حزب اختلاف کی دو بڑی جماعتوں کو اتفاق نہیں کافی تگ ودو کے بعد گزشتہ اے پی سی ہی میں مسلم لیگ ن اور پی پی پی کی قیادت شریک ہوئی لیکن اگلے اجلاس میں ایک مرتبہ پھر ان کی غیرحاضری ازخود اس امر کا اظہار ہے کہ وہ جے یو آئی کے سربراہ کے برعکس حکومت گرانے یا تبدیل کرنے کے حامی نہیں، کسی بھی حکومت کیخلاف منظم تحریک کیلئے سیاسی جماعتوں میں ہم آہنگی کے علاوہ حالات پر بھی منحصر ہوتا ہے جو اس وقت کلی طور پر موجود نہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر کے مقبوضہ کشمیر پر قبضہ جمانے کی بڑی کوشش کی ہے سرحدوں پر کشیدگی اور لڑئی کا ماحول ہے، سرحدی جھڑپوں میںتیزی آگئی ہے، مستزاد ملکی معیشت کے صورتحال بھی نازک ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ عوام کسی طور سڑکوں پر نکلنے کیلئے تیار نہیں، ایسے میں تحریک انصاف کے ڈی چوک کے دھرنے کا اعادہ تو جے یو آئی کرسکتی ہے لیکن اس کا بھی نتیجہ تحریک انصاف کے دھرنے جیساہی کا نکلے گا۔حزب اختلاف کی جماعتوں کو سینیٹ کے چیئرمین کیخلاف تحریک عدم اعتماد میں ناکامی کے باعث جس مایوسی کا سامنا ہوا وہ ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان غلط فہمی اور دوریوں کا باعث ہو یا نہ ہو اس سے ایک بات توبہر حال طے ہے کہ تبدیلی لانے میں ناکام ہونے والوں کی تبدیلی ابھی ممکن نہیں، ہمارے تئیں چند ہی دنوں بعد ایک اور اے پی سی طلب کرنے کی بجائے اگر اس اجلاس کی ناکامی اور غیر مئوثر ہونے کے اسباب کا جائزہ لیا جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا، اے پی سی اگر دو بڑی سیاسی جماعتوں سے سینیٹ کے چیئرمین کو ہٹانے کی کوششوں میں ناکامی کی وجوہات اور ملوث سینٹروں کے نام سامنے لانے کیلئے کیا جاتاتو زیادہ بہتر تھا کیونکہ چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کا فیصلہ بھی اے پی سی ہی میں ہوا تھا جس میں ناکامی کا جائزہ لینے کی ضرورت تھی تاکہ حزب اختلاف کی جماعتوں اور صفوں میں موجود غیرمرئی حکومتی جماعتوں کو سامنے لایا جا سکتا ۔ہمارے تئیں اس وقت ملک کی سیاسی قیادت پر انگشت نمائی کی بجائے پوری قوم کو اتحاد ویکجہتی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملکر بھارت کیساتھ تنازعات نمٹائے اور ہر فورم پر اس کا مقابلہ کرنے کی جستجو کی جاسکے۔سیاسی معاملات ملکی معاملات سے الگ نہیں کئے جاسکتے ان حالات میں جب حکومت کو داخلی اوربین الااقوامی سطح پر عوامی اور سیاسی تائید و حمایت کی جو ضرورت ہے اس کے پیش نظر اگر اور کچھ نہ ہوسکے تو کم از کم حزب اختلا ف کی جماعتوں کو آئندہ اے پی سی کے انعقاد کی تاریخ ہی بدل لینی چاہئے تاکہ جاری حالات میں کسی طور یہ پیغام نہ جائے کہ پاکستان جن حالات سے گزر رہا ہے بجائے اس کے کہ ان حالات میں اتحاد کا مظاہرہ کرنے کے، یہ تاثر دیا جائے کہ خدا نخواستہ ملک داخلی طور پر سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے، اس طرح کی صورتحال سیاستدانوں کو قابل قبول ہو سکتی ہے لیکن عوام کو نہیں۔ بہتر ہوگا کہ سیاسی معاملات کو موخر کیا جائے حزب اختلاف کی جماعتیں اگر ایسا نہ بھی کریں تو اُن کی ممکنہ مساعی کا جو نتیجہ نکلنا ہے وہ کوئی حوصلہ افزا صورت نظر نہیں آتی ۔

متعلقہ خبریں