Daily Mashriq

سب ایک ہی قرطاس پر ہیں

سب ایک ہی قرطاس پر ہیں

پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ کی ملازمت میں مزید تین سال کی توسیع پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی ارشاد فرما ہوئے ہیں کہ وزیراعظم نے اپنا آئینی اور صوابدیدی اختیار استعمال کیا ہے، خطے اور سرحدوں کی موجودہ صورتحال میں یہ واضح پیغام دینا ضروری تھا کہ پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت تسلسل اور یکسوئی کیساتھ ایک پیج پر ہے، انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر علاقائی سیکورٹی اور افغان امن کیلئے تسلسل کی ضرورت تھی۔ ناقدین کی نظر میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا بیان غیرضروری تھا، ہر فرد اس امر سے آگاہ ہے کہ یہ وزیراعظم کا آئینی اور صوابدیدی اختیار تھا ایسا اختیار ماضی میں سابق وزیراعظم نوازشریف بھی استعمال کر چکے ہیں جب انہوں نے پرویز مشرف کی جگہ جنرل ضیاء الدین بٹ کی تقرری بطورآرمی چیف کی تھی، تاہم زمانہ ایک سا نہیں رہتا، وقت وقت اور حالات حاضرہ کے اپنے تقاضے ہوا کرتے ہیں، جنرل قمر جاوید باجوہ کی تقرری نواز شریف نے کی تھی اور انہی اختیار کے تحت وزیراعظم عمران خان نے اس تقرری میں تین سال کی توسیع فرما دی ہے۔ اس میں کونسے اچنبے کی بات ہے کہ وزیرخارجہ کو جس کی وضاحت کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی، سرکاری ملازمتوں میں مدت میں توسیع دینا معمول کی بات ہے اور کسی بھی معروف سیاسی قیادت کی طرف سے کوئی منفی ردعمل نہ آیا اور نہ آنے کی ضرورت ہے۔ جہاں تک شاہ محمود قریشی کا یہ کہنا ہے کہ سیاسی اور فوجی قیادت ایک پیج پر ہیں یہ پیغام کس کو دینا تھا اس کی وضاحت کرنی چاہئے تھی تاہم یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے جس پر بیرونی مداخلت قبول نہیںکی جا سکتی۔ ویسے بھی کسی ملک کے تمام اداروں کو بالخصوص سرکاری اداروں کو حکومت کیساتھ ایک ہی قرطاس پر ہونا لازمی ہے اور یہ ریاست سے وفاداری کی شرط اولین بھی ہے، جہاں ادارے چاہے وہ کلی طور پر سرکاری ہوں، نیم سرکاری ہوں، خودمختار ہوں یا پھر کلی طور پر نجی ہوں اگر وہ سرکار کیساتھ ایک پیج پر نہیں ہوںگے تو وہاں انارکی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ شاہ محمود جو منجھے ہوئے وزیرخارجہ کا تجربہ رکھتے ہیں ان کی فکرمندی عجب محسوس ہوئی ہے یا پھر شاید انہوں نے وہ ویڈیوز دیکھ لی ہوںگی جو ان دنوں سوشل میڈیا میں تیزی کیساتھ پھیلائی گئی ہے کہ وزیراعظم عمران خان سے معروف کالم نگار اور اینکر پرسن جاوید چودھری اور معروف اینکر پرسن عاصمہ شیرازی نے اپنے اپنے ٹی وی چینلز کیلئے انٹرویو کیا تھا جس میں ان سے استفسار کیا گیا تھا کہ کیا جنرل پرویز کیانی کو مدت ملازمت میں توسیع دی گئی تو اس بارے میں ان کا کیا ردعمل ہوگا جس کا انہوں نے جواب یہ دیا تھا کہ ادارے مضبوط ہونے چاہئیں، ادارے شخصیات پر نہیں چلا کرتے، اداروں کو اپنے قوانین، اصولوں اور قواعد کے مطابق چلنا چاہئے جب ہی ترقی ممکن ہو سکتی ہے۔ اگر ادارے اختیارات سے تجاوز کر جائیں اور شخصیات کو اہمیت دی جائے تو ادارے تباہ ہو جاتے ہیں جس طرح موجودہ حکومت نے میرٹ اور قوانین پر عمل نہ کر کے اداروں کو تباہ کر دیا ہے، جاوید چودھری نے بار بار اصرار کیا کہ وہ پرویز کیانی کے بارے میں اپنا ردعمل بتائیں تو انہوں نے کہا کہ شوکت خانم ہسپتال اٹھارہ سال سے کامیابی سے چل رہا ہے، وہ اس ادارے کے بانی اور چیئرمین ہونے کے ناتے وہاں سفارش نہیں کرپاتے، ان اٹھارہ سالوں میں ایک مرتبہ انہوں نے ایک ایسے شخص کی سفارش کی تھی جس نے شوکت خانم کو کروڑوں روپے کا چندہ دیا کہ اس کی والدہ کینسر کے موذی مرض میں مبتلا تھی لیکن اس کا علاج شوکت خانم ہسپتال میں اسلئے نہیں ہو سکتا تھا کہ مریض کی عمر کی جو حد مقرر تھی اس سے مریضہ کی عمر ایک دو سال زیادہ تھی لیکن قواعد وضوابط پر عمل کرتے ہوئے انکار کر دیا، میری سفارش بھی رد کر دی کیونکہ وہ خلاف قاعدہ تھی، آج شوکت خانم کامیابی اور ترقی سے ہمکنار اسلئے ہے کہ اصول وضوابط پر کاربند ہے۔ اداروں کو شخصیات پر نہیں اصولوں پر چلنا چاہئے۔خان صاحب نے ماضی قریب میںایسی کئی باتیں کیں جس سے انہوں نے اقتدار میں آکر جلدی جلدی یوٹرن لیا،یوٹرن لینا بھی ایک اصول ہی قرار پاتا ہے جس پر وہ استحکام سے ڈٹے ہوئے ہیں یہ بھی ان کا حسن ہی تو ہے۔

شاہ محود قریشی جیسے تجربہ کار پارلیمنٹرین کو گھبرانا نہیں چاہئے، پاکستان میں باصلاحیت افراد کا کوئی قحط نہیں ہے، وزیراعظم نے جو کیا وہ آئین اور صوابدیدی اختیار سے ہٹ کر نہیں کیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے ماضی کے انٹرویوز میں بات سوفیصد کھری کی ہے کہ ادارے مضبوط ہونے چاہئیں، اللہ کا بڑا کرم ہے کہ پاکستان کا ہر ادارہ چاہے وہ عسکری ہے یا سویلین مضبوط ہے اور ان سب کو مضبوط ومستحکم قیادت بھی حاصل ہے لیکن یہ بات سمجھ سے ماورا ہے کہ اکثر وبیشتر وزراء بھی اور ملکی سیاستدان بھی یہ راگ الاپتے رہتے ہیں کہ سیاسی قیادت اور عسکری قیادت ایک پیج پر ہے ایسی بات ماسوائے پاکستان کے کسی بھی ملک سے سننے کو نہیں ملتی، ان کے ایسے غیرذمہ دارانہ بیانات سے دنیا میں پاکستان کے بارے میں غلط تاثر جاتا ہے، سیاسی قیادت اور عسکری قیادت کوئی دوئی نہیں ہے سب ایک ہی قوم کا حصہ ہیں ان کو چاہئے کہ یہ کہیں کہ پوری قوم ایک پیج پر ہے جس کی مثال 1965کا سال ہے، آج بھی ایسا ہی ہے کوئی تفریق پیدا نہیں ہوئی ہے، سیاستدانوںکی اپنی اپنی سوچ اور نظریہ ہوا کرتے ہیں ایسا پوری دنیا میں ہے جس کا یہ تاثر دینا کہ سب ایک پیج پر نہیں ماسوائے حماقت کے کچھ اور نہیں ہے، امریکا میں کیا حزب اختلاف کی جماعتیں ٹرمپ حکومت پر تنقید نہیں کرتیں جس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ایک پیج پر نہیں ہیں اگر جائزہ لیا جائے تو ٹرمپ حکومت سے پہلے کی تمام امریکی حکومتوں کی جو پالیسی رہی ہے آج بھی ٹرمپ کی حکومت کی پالیسی ویسی کی ویسی ہے، خاص طور پر پاکستان اور بھارت کے بارے میں تو ایسی مماثلت ہے کہ لگتا ہی نہیں کہ امریکا میں حکومتیں بدلیں بھی ہیں یا نہیں۔

متعلقہ خبریں