Daily Mashriq

سچ کو قتل کرنے کا پہلا جنگی اُصول

سچ کو قتل کرنے کا پہلا جنگی اُصول

ایوبی آمریت کے دور میں ہمارے ہاں امریکہ اور سوویت یونین کے حوالے سے ایک لطیفہ بہت مشہور ہوا تھا اور یار لوگ اکثر نہ صرف محفلوں میں اسے دہراتے رہتے بلکہ اکثر کالم نویس اور تجزیہ کار بھی اپنی تحریروں میں بکثرت اسے اس لئے استعمال کرتے کہ اسی لطیفے میں وہ اپنے ملک کے اندر کے سیاسی حالات اور تحریر وتقریر پر لگی قدغنوں کو اشاروں اشاروں میں واضح کر کے اپنا پیغام اپنے قارئین تک پہنچانے میں کامیاب ہو جاتے، کیونکہ ابتداء میں تو جب مارشل لاء کا دور تھا تو حکومت کے نکتہ نظر سے کوئی بھی خبر، تبصرہ یا مضمون چھاپنے کی اجازت نہیں ملتی تھی اور اس دور کے اخبارات اُٹھا کر دیکھیں تو اکثر جگہیں خالی نظر آئیں گی، جہاں سے خبر وغیرہ کاٹ لئے جاتے تو صحافتی بزرجمہروں نے اس کا یہ ’’علاج‘‘دریافت کر لیا تھا کہ محکمہ اطلاعات میں ایسی خبریں نکال دی جاتیں تو وہاں’’چربہ اڑگیا‘‘ کے الفاظ لکھ کر اخبارشائع کرنے پریس کو بھیج دیتے اور اگلے روز اخبارات میں صفحات چربہ اڑگیا کے الفاظ سے یوں بھرے ہوتے جیسے اکثر کسی فقیر کی گدڑی کو دوسرے رنگوں کے کپڑوں کے ٹانکے لگے ہوں ، خیر اس سے پہلے کہ بات کوئی اور رخ اختیار کرلے،واپس اپنے موضوع پرآتے ہیں اور اس لطیفے کا ذکر کر لیتے ہیں جس سے پاکستان میں بھی مقدوربھر استفادہ کرتے ہوئے ایوبی آمریت میں زبان وبیان پر لگائی گئی قدغنوں کا پردہ چاک کیا کرتے تھے، تب فیض نے بھی تو کہا تھا کہ

بول کہ لب آزاد ہیں تیرے

بول زباں اب تک تیری ہے

لطیفہ کچھ یوں تھا کہ ایک بار کچھ امریکی اور روسی صحافیوں کی کسی سیمینار یا تقریب میں ملاقات ہوئی،آزادی اظہار کے حوالے سے بات چلی تو امریکی صحافیوں نے بڑے فخر سے کہا کہ ہمارے ملک میں تو صدر امریکہ کیخلاف بھی اخبارات میں کھل کر تنقید کی جاتی ہے،تقریروں میں بھی لوگ ان کیخلاف جو مرضی بولیں،کوئی قد غن نہیں کیونکہ ہمارے ہاں جمہوریت ہے،یہ وہ دور تھا جب سوویت یونین کے بارے میں مشہور تھا کہ وہاں کے عوام ایک آہنی دیوار کے پیچھے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، نہ وہاں سے کوئی بات،کوئی خبر باہر آتی ہے نہ وہاں کے عوام کو دوسرے ممالک کے بارے میں کچھ جاننے کی اجازت ملتی ہے، سچی بات تو یہ ہے کہ اس دور میں یہ ترکیب یعنی’’آہنی دیوار‘‘ہماری سمجھ سے بالا تر تھی،ہم سکول کے دور میں تھے اور کالج جانے کی تیاریوں میں مصروف تھے،ہم سمجھتے تھے کہ شاید جس طرح سکندر ذوالقرنین نے یاجوج ماجوج کیخلاف اس دور کے لوگوں کی شکایات سننے کے بعد سد سکندری مختلف دھاتیں پگھلا کر ان مظلوم لوگوں کو یاجوج ماجوج کے شر سے محفوظ کیا تھا اور جس دیوار کے بارے میں یہ روایت مشہور ہے کہ یاجوج ماجوج اسے زبانوں سے چاٹ چاٹ کر پتلا کردیتے ہیں اور شام پڑتے ہی باقی کام اگلے روز پر چھوڑ دیتے ہیں،مگر اگلی صبح دیوار پھر اسی حالت میں ہوتی ہے یوں روایت کے مطابق یہ سلسلہ قیامت تک چلتا رہے گا،تو سوویت یونین کے عوام کی آہنی دیوار کو بھی ہم سد سکندری سے تشبیہ دیتے تھے،مگر بعد میں معلوم ہوا کہ دراصل اس سے مراد وہ سخت سنسرشپ ہے جس کی وجہ سے سوویت یونین کے عوام بولنے سے معذور، لکھنے سے محروم کر دیئے گئے تھے جبکہ امریکی صحافیوں کے طنزیہ گفتگو کا جواب دیتے ہوئے سوویت صحافیوں نے ایک لمحے کیلئے انہیں لاجواب کر دیا تھا، سوویت صحافیوں نے کہا آپ کے ہاں امریکی صدر کیخلاف صرف بولنے اور مضامین لکھنے کی آزادی ہے جبکہ ہم تو اس سے بھی بہت آگے جاتے ہوئے گالیاں تک دینے میں بھی آزاد ہیں، مگر امریکی صدر کو۔۔۔ ایک شاعر نے کہا تھا

نکل جاتی ہو جس کے منہ سے سچی بات مستی میں

فقیہہ مصلحت بیں سے وہ رند بادہ خوار اچھا

لگتا ہے بھارتی حکمرانوں پر بھی سابق سوویت یونین کے اس دور کے اثرات پڑنے لگے ہیں جو آہنی دیوار کی ترکیب کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے،مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بھارتی حکمرانوںکے اُٹھائے گئے اقدامات اور وہاں مظلوم کشمیریوں پر ریاستی دہشتگردی مسلط کرنے کے بعد بھارت میں اُٹھنے والی حکومت مخالف آوازوں کو جس طرح دبایا جا رہا ہے اور ان کے پیچھے کہیں آر ایس ایس کے غنڈے تلواریں سونت کر باہر نکل آتے ہیں بلکہ آپے سے ہی باہر ہو رہے ہیں توکہیں سرکاری قوانین کا سہارا لیکر مخالفانہ آوازوں کو دبایا جارہا ہے،بھارت سے آنے والی خبریں اور سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی ہوئی پوسٹوں سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ جو لوگ سرکار کے فیصلوں پر تنقید کررہے ہیں ان کیخلاف ایک طوفان بد تمیزی برپا ہے جبکہ سچ بولنے پر ایک بھارتی لیفٹیننٹ کرنل دھرم ویر سنگھ کو کورٹ مارشل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے،موصوف نے کشمیر میں مظالم پر لب کشائی کرتے ہوئے فیض احمد فیض کی نظم کے مصرعوں پر عمل کیا تھا اور بول کہ لب آزاد ہیں تیرے کا ورد کرتے ہوئے جو ضمیر کے مطابق درست سمجھا بول دیا تھا،مگر اب بھارت میںوہ حالات نہیں رہے جب لوگ جمہوری اقدار کو مقدس اور مقدم سمجھتے ہوئے جو جی میں آتا بول دیتے کوئی پوچھنے والا نہیں تھا، بلکہ اب تو اس مشہور مقولے پر عمل کیا جارہا ہے کہ جنگ کے دوران پہلی ضرب سچ پر پڑتی ہے اس لئے بھارتی حکمرانوں نے مقبوضہ کشمیر کے نہتے مسلمانوں کیخلاف جو اعلان جنگ کیا ہے اس میں پہلا لاشہ’’سچ‘‘ ہی کا گرا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں