Daily Mashriq

قوانین اُجرت‘ غیرمحفوظ سونامی ٹری اور طلبہ کی شکایات

قوانین اُجرت‘ غیرمحفوظ سونامی ٹری اور طلبہ کی شکایات

بے شمار مسائل ایسے ہیں جو حکمرانوں کو بخوبی معلوم ہیں۔ یہ مسائل بلکہ قواعد وضوابط قانون پر عدم عملدرآمد نوشتہ دیوار ہیں لیکن آنکھیں بند کی جائیں اور شعور وانصاف کو تالا لگادیا جائے تو ظاہر ہے مسائل حل نہیں ہوسکتے۔ کم سے کم اُجرت کے حوالے سے ایک سیکورٹی گارڈ کی شکایت کیا چھپی کہ مختلف اداروں کے ملازمین کی شکایتوں کا ڈھیر لگ گیا۔ مختصر یہ کہ سوائے سرکاری محکموں کے اور خال خال کسی اچھے ادارے کے باقی کہیں بھی کم سے کم اُجرت کے قانون پر کوئی بھی عمل درآمد نہیں کراتا۔ حکومت نے قانون پاس کر دیا، اعلان بھی ہو گیا، اجیروں نے اُمیدیں تو باندھ لیں لیکن وہ محکمہ محنت ہی کیا جو حکومت کے وعدے اور قانون پر عملدرآمد کراسکے۔ حکومت کا قاعدہ قانون بنکوں کے ذریعے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی بھی ہے مگر یہاں قابل ٹیکس تنخواہوں کی ادائیگی بھی کیش میں ہوتی ہے۔ بہتر ہوگا کہ یا تو حکومت قانون نہ بنائے اور اگر قانون سازی ہوتی ہے تو اس پر عملدرآمد بھی کرائے، خوا مخواہ لوگوں کو کیوں آس دلائی جاتی ہے۔

گزشتہ کالم میں بی ایس کے حوالے سے ایک طالبعلم کی شکایت تھی کہ یہ پرائیویٹ نہیں ہوسکتا، اب بی ایس کے ایک طالبعلم کا پیغام آیا ہے کہ بی ایس پروگرام تو بہت اچھا ہے لیکن بی ایس کے سارے مضامین پڑھانے کیلئے اساتذہ ہی موجود نہ ہوں تو اس کا فائدہ کیا۔ طالبعلم نے کالج کا نام نہیں لکھا یقینا کہ سرکاری کالج یا یونیورسٹی کا طالبعلم ہی ہوگا۔ بہرحال مجھے بھی اس کی شنید تھی صرف یہی نہیں بلکہ بعض بڑی جامعات میں بھی بی ایس پڑھانے والے اساتذہ سے طالبعلم مطمئن نہ تھے یہاں تک کہ ایک ایسی یونیورسٹی جو لینگویجز کیلئے معروف ہے، پشاور کیمپس میں بعض مضامین کیلئے موزوں اساتذہ ہی بھرتی نہیں کرتی۔ ایچ ای سی کو ان تمام کالجوں اور جامعات کے معاملات کی چھان بین کرنی چاہئے جہاں بی ایس میں داخلے تو دے دئیے گئے ہیں طالب علموں نے فیسیں بھر دی ہیں لیکن اب ان کو پڑھانے کیلئے اساتذہ ہی دستیاب نہیں۔ جہاں اساتذہ ہیں وہ بی ایس پروگرام سے زیادہ واقفیت نہیں رکھتے۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اس نظام کو چلانے کی مناسب استعداد نہیں۔ بڑے بڑے جامعات میں کنٹریکٹ اور وزٹنگ فیکلٹی سے کام چلایا جاتا ہے۔ جامعات میں جہاں تدریسی عملے کی بھرتی مکمل ہونی چاہئے انتظامی عمال کی بھرتی پر زور دیا جاتا ہے اور وہ بھی نااہل اور سفارشوں کی بھرتی ہوتی ہے، ایسے میں بی ایس پروگرام ہو یا سالانہ یا پھر ایسوسی ایٹ ڈگری جب پڑھانے والے اور کورس کی مناسب سہولتیں ہی دستیاب نہیں تو پھر معیار تعلیم کا جو حال ہے یہی رہے گا۔ بہتری کی بجائے ابتری ہی آئے گی۔ اس موضوع پر بہت سے اخروٹ دیوار میں ٹکانے کی کوشش ہوسکتی ہے مگر لاحاصل کا لاحاصل ہی رہنا ہے۔

حیات آباد فیز6 اور فیز3 کے مکینوں کی جانب سے بائونڈری وال کو جگہ جگہ سے توڑ کر آمد و رفت کے باعث چوریوں‘ منشیات فروشی یہاں تک کہ باہر لگائے گئے پودے تک اُکھاڑ لے جانے کی شکایات آئی ہیں اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور وزیر بلدیات سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ٹوٹی دیواروں سے ارد گرد کے مویشی آکر ٹری سونامی کے پودے بھی ہڑپ کرجاتے ہیں۔ اچینی گیٹ کیساتھ ایک پودا بھی سلامت نہیں، سب جانور کھا گئے۔ پی ڈی اے حکام کو بار بار شکایات کی گئیں، کھلی کچہری میں متعلقہ ممبران اسمبلی کے گوش گزار کی گئیں، اب تو وزیراعظم آفس سے ہی شکایت باقی ہے۔ میرے خیال میں یہ حیات آباد کے مکینوں کا حق ہے کہ ان کو حکومت تحفظ فراہم کرے۔ عجیب بات ہے کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ شجرکاری کرواتے ہیں، جنگلات لگوانے میں دلچسپی لیتے ہیں لیکن اگر حیات آباد جیسے ایریا میں جانوروں سے پودوں کا تحفظ نہیں تو صوبے کے دیگر علاقوں میں کیا عالم ہوگا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ حزب اختلاف نے جب بلین ٹری سونامی کے مقامات کا دورہ کرنا چاہا تو حکومت پیچھے ہٹ گئی یا تو پودے لگائو نہیں، لگاتے ہو تو ان کو جانوروں سے تو بچائو۔ دیہات‘ قصبات اور پہاڑی علاقوں میں مشکل ہے تو حیات آ باد میں تو مشکل نہیں۔

ایک قاری نے صوبے کے مختلف علاقوں کی سیاحت کے حوالے سے اپنے خراب تجربات کا ذکر کیا ہے۔ ان کے طویل برقی پیغام کو یہاں نقل کرنا مناسب نہیں سمجھتی اسلئے کہ ممکن ہے کہ یہ صرف اس قاری کیساتھ ہونے والے حالات ہوں جن کے تذکرے سے صوبے کی سیاحت کے خواہشمندوں کا ارادہ بدل جائے۔ میں خود خیبر پختونخوا میں رہ چکی ہوں‘ سرکاری فرائض کی انجام دہی سے لیکر معاشرے تک کے برتائو اور تجربات کے تناظر میں میرا خیبر پختونخوا کے لوگوں کے حوالے سے تجربہ بہت خوشگوار اور شاندار ہے۔ میرے قاری نے جن امور کی نشاندہی کی ہے ان سے سراسر انکار کی بھی گنجائش نہیں، ان کو خاص طور پر کاروباری لوگوں اور پولیس کے روئیے اور تنگ کرنے کی شکایت ہے۔ سیاحوں کیلئے انتظامات کی کمی کی حقیقت سے انکار ممکن نہیں، کاروباری افراد سے بالخصوص میں یہ کہوں گی کہ ان کو بائیکاٹ مری کی مہم تو یاد ہوگی جس سے مری کی سیاحت ختم ہو کر رہ گئی تھی۔ پاکستان کے کسی قانون میں سیاحوں اور عوام سے توہین آمیز روئیے کی گنجائش نہیں۔ سخت رویہ اختیار کرنے والوں کو مزید تربیت اور ان کی اصلاح کی ضرور ت ہے۔ صوبے میں سیاحت کے فروغ کیلئے سیاحوں کو مہمان خصوصی کا درجہ دیا جانا چاہئے نہ کہ ان کو دھتکار کر بد دل کیا جائے۔

نمبر:

متعلقہ خبریں