Daily Mashriq

بھارتی اقدام کے پس پردہ حقائق

بھارتی اقدام کے پس پردہ حقائق

کشمیر میں بھارت کے حالیہ اقدام کے بعد جو حالات سکرین پر دکھائی دے ہیں، کیا واقعی یہ اصل حقائق ہیں؟ ہرگز نہیں بلکہ پس پردہ حقائق اس سے بالکل مختلف ہیں۔ پاکستان کے ارباب حل وعقد تو اس بات پر ہی شاداں ہیں کہ 50سال بعد مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر اُجاگر ہوا اور اس مسئلہ کشمیر کے مستقل حل کیلئے سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کیا گیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ عالمی سامراجی قوتیں سمجھتی ہیں کہ وادی کشمیر کو ایک ایسا علاقہ بنا دیا جائے جہاں سے مستقبل کے ایشیا کو کنٹرول کیا جاسکے کیونکہ کشمیر ایک ایسا خوبصورت علاقہ ہے کہ جس کی سرحدیں ایشیا کی تمام بڑی طاقتوں سے ملتی ہیں۔ چین، بھارت، پاکستان اور روس جیسی چار ایٹمی طاقتوں کے سنگم میں سامراجی مرکز۔ ایک یہی تو علاقہ ہے جہاں پر بیٹھ کر دنیا کی آئندہ قسمت لکھنے کا ارادہ ہے۔ دنیا پر خفیہ حکمرانی کرنے والے شہ دماغوں کا خیال ہے کہ کشمیر مستقبل کی سپرپاور بننے کا خواب دیکھنے والے چین کو قابو میں رکھنے کی ایک کنجی ہے۔ پاکستان کو عرب ممالک کی مدد سے یکدم چین، روس کے علاقائی اتحاد سے نکال کر امریکی بلاک کا حصہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے، ملکی معیشت اور عالمی معاملات مالیاتی اداروں کے ذریعے کنٹرول کرنے کی کوشش ہے۔ افغان مسئلے پر پاکستان کی حوصلہ افزائی، کئی برسوں سے بند امداد کی بحالی، امریکی صدر کی جانب سے ثالثی کا خوشنما ’’ٹریپ‘‘، عالمی اداروں کی جانب سے امداد کے اعلانات وغیرہ اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ بھارت کی جانب سے لداخ کو باقاعدہ یونین کا حصہ بنانے اور کشمیر کی قانونی حیثیت میں تبدیلی مذاکرات میں حاوی رہنے کی کاوشیں ہیں۔ اب یہ مسئلہ پوری شدت سے اُٹھے گا، ایٹمی جنگ کے خطرات پیدا ہوں گے اور پھر کردار شروع ہوگا، امریکی ثالثی کی آفر اور اقوام متحدہ کا۔ کچھ عرصے بعد دنیا کا ’’معزز ومنصف ترین ادارہ‘‘ اقوام متحدہ امن وآشتی کا جھنڈا لہرانے آئے گا اور کشمیر میں استصوابِ رائے کرایا جائے گا۔ آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر یعنی پوری وادی میں ہونے والے اس الیکشن کو انٹرنیشنل امن افواج کی زیرنگرانی کرایا جائے گا۔ پاکستان کو عالمی دباؤ پر اسے تسلیم کرنا ہوگا جبکہ عوام کو بھی یقین دلایا جائے گا کہ ’’کشمیر آزاد ہورہا ہے‘‘ اور پھر کشمیری انتہائی آزادی کیساتھ ’’خودمختاری‘‘ کے حق میں ووٹ دیں گے۔ یہ دنیا کے نقشے پر اُبھرنے والی ایک نئی مسلم اکثریتی ریاست ہوگی۔ سارے ممالک فوراً ہی اسے تسلیم کرلیں گے اور امریکہ، عالمی بینک سمیت سارے بڑے عالمی ساہوکار کشمیر کیلئے اپنے خزانوں کے منہ کھول دیں گے۔ کشمیر میں بڑی بڑی عمارتیں بنیں گی اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے دفاتر کھلیں گے۔ آپ شاید سوچ رہے ہوں گے کہ بھارت اسے کیوں کر تسلیم کرے گا؟ یہ اہم ترین سوال ہے۔ دراصل لداخ کو بھارت نے یونین کا حصہ بنا لیا ہے، وہ اس کے پاس رہے گا۔ مقبوضہ کشمیر کو ستر سال سے کنٹرول کرنے کی کوشش بھی کرلی ہے، لیکن کامیابی نہیں ملی۔ بھارت کو سلامتی کونسل کا رکن بننا ہے اور ایشیا کا ٹھیکیدار۔ بھارت کو چین کے مقابلے میں علاقائی طاقت بنانے کا وعدہ بھی کیا گیا ہے جس کیلئے اسے پاکستان کیساتھ کشیدگی ختم کرنا ہوگی۔ عالمی ساہوکاروں کا ہدف چین ہے، بھارت کو اگر اس کا مقابلہ کرنا ہے، بھارت کو سلامتی کونسل کی ممبرشپ چاہئے، مغربی منڈیوں میں رسائی اور عالمی سرمایہ کاری میں بڑا حصہ چاہئے تو اسے کشمیر کو ’’سوئٹزرلینڈ‘‘ بنانا ہوگا جو ایک انٹرنیشنل علاقہ ہو، جہاں عالمی بینک اور سرمایہ دارانہ نظام کا مرکز بنے گا۔ مودی کی جانب سے ٹرمپ کو ثالثی کی پیشکش سوچ سمجھ کر ہی کی گئی ہے اور اسی ماہ کے آخر میں فرانس میں ہونیوالی جی ایٹ کانفرنس میں بھارتی وزیراعظم کو خصوصی دعوت دی گئی ہے حالانکہ بھارت اس فورم کا ممبر بھی نہیں ہے۔ چین کو جی ایٹ کا حصہ نہیں بنایا گیا ہے حالانکہ چین دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہے جبکہ بھارت کو خصوصی طور پر اس فورم میں شریک کیا جارہا ہے۔ ان ممالک کو چین سے غرض ہے اور اس کیلئے انہیں اس علاقے میں ایک پلیٹ فارم چاہئے جو پرامن ہو اور وہاں پر بڑے پیمانے پر معاشی سرگرمیاں ہوسکیں۔دوسری جانب پاکستان کو مجبور کرنے اور جکڑنے کیلئے گزشتہ چند ماہ میں کئی اقدامات کئے گئے ہیں۔ سب سے پہلے تو عربوں کے شاہی دورے کرائے گئے جن کا مقصد پاکستان کو چینی سرمایہ کاری سے دور کرکے امریکی بلاک میں شامل کرنا تھا۔ آئی ایم ایف اس بار صرف قرض ہی نہیں دے رہا بلکہ سیاسی وعالمی معاملات پر گائیڈ بھی کررہا ہے۔ بھارت کیساتھ موجودہ صورتحال میں آئی ایم ایف کے دو بیانات انتہائی خطرناک ہیں۔ ایک بیان چین کے قرضوں کی معلومات کے متعلق جبکہ دوسرا پاکستان کو سرحدی کشیدگی میں اضافے کی صورت میں امداد روکنے سے متعلق ہے۔ تاہم تمام تر نامساعد حالات کے باوجود پاکستان کیلئے ابھی بھی امید کی کئی کرنیں موجود ہیں۔ مسئلہ کشمیر حل ہو، یہ خواہش سب کی ہے، پاکستان کی بھی شدید خواہش ہے۔ ایٹمی طاقت ہوتے ہوئے اسے مجبور اور بے سہارا سمجھنے والے غلطی پر ہیں۔ پاکستان کو فوری طور پر علاقائی اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہے۔ پاکستان کو دوبارہ چین کے پاس جانا ہے، سی پیک کے سلسلے میں پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کا ازالہ کرنا ہے اور روس وچین کیساتھ ملکر کچھ سوچ بچار کرنی ہے۔ بھارت اب کشمیر نہیں رکھ سکتا، بس پاکستان کو اب اسے ٹف ٹائم دینے کی پلاننگ کرنی ہے۔ اگر پاکستان ہمسایہ ممالک چین، روس کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہوگیا کہ کشمیر پر عالمی ثالثی اس خطے پر کیا اثرات مرتب کرے گی تو یقیناً یہ بڑی کامیابی ہوگی۔

متعلقہ خبریں