Daily Mashriq

چوہدری شوگر ملز کیس: مریم نواز کے جسمانی ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع

چوہدری شوگر ملز کیس: مریم نواز کے جسمانی ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع

لاہور کی احتساب عدالت نے چوہدری شوگر ملز کیس میں گرفتار مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور ان کے کزن یوسف عباس کے جسمانی ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع کردی۔

قومی احتساب بیورو (نیب) نے آج جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر مریم نواز اور یوسف عباس کو احتساب عدالت کے جج نعیم ارشد کے روبرو پیش کیا۔

سماعت کے دوران پراسیکیوٹر نیب نے اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کی ملزمان سے تفتیش مکمل نہیں ہوئی، اسے مکمل کرنے کے لیے مزید 15 روز کا جسمانی ریمانڈ درکار ہے۔

مریم نواز کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ ان تمام کیسز کی تحقیقات ہو چکی ہیں اور ٹرائل بھی مکمل ہو چکا ہے۔

جج نعیم ارشد نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد ملزمان کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا منظور کی اور سماعت 4 ستمبر تک کے لیے ملتوی کردی۔

اس سے قبل نیب کی ٹیم مریم نواز اور یوسف عباس کو لے کر عدالت پہنچی تو لیگی کارکنان کی بڑی تعداد پہلے ہی وہاں موجود تھی، جہاں کارکنان نے وزیراعظم عمران خان اور تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

کمرہ عدالت میں بھی لیگی کارکنان نے شور شرابا کیا اور مریم نواز کے ساتھ سیلفیاں بنوائیں جس پر جج نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سماعت کچھ دیر کے لیے ملتوی کردی تھی۔

مریم نواز کی پیشی کے باعث خواتین پولیس اہلکاروں کی اضافی نفری بھی احاطہ عدالت کے اندر اور باہر تعینات کی گئی تھی۔

اس موقع پر مریم نواز کے شوہر کیپٹن (ر) محمد صفدر اور ان کے صاحبزادے جنید صفدر بھی کمرہ عدالت میں موجود رہے۔

پرویز رشید، نہال ہاشمی، سابق اسپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال، خرم دستگیر، حنا پرویز اور سیف الملوک کھوکھر سمیت دیگر رہنما بھی مریم نواز سے اظہار یکجہتی کے لیے کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

یاد رہے کہ 8 اگست کو نیب نے چوہدری شوگر ملز کیس میں مریم نواز کو والد سے کوٹ لکھپت جیل میں ملاقات کے بعد واپس جاتے ہوئے تحویل میں لے لیا تھا اور انہیں نیب ہیڈ کوارٹرز منتقل کردیا تھا جبکہ ان کی گرفتاری کے کچھ گھنٹے کے بعد ہی یوسف عباس کو بھی گرفتار کرلیا گیا تھا۔

دونوں کو نیب حکام نے 9 اگست کو احتساب عدالت کے جج نعیم ارشد کے روبرو پیش کیا جہاں لیگی نائب صدر اور ان کے کزن کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی گئی جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے کیس کی سماعت 21 اگست تک ملتوی کردی تھی۔

چوہدری شوگر ملز کیس

خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت کے دوران جنوری 2018 میں مالی امور کی نگرانی کرنے والے شعبے نے منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت چوہدری شوگر ملز کی بھاری مشتبہ ٹرانزیکشنز کے حوالے سے نیب کو آگاہ کیا تھا۔

بعدازاں اکتوبر 2018 میں نیب کی تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی تھی کہ نواز شریف، مریم نواز، شہباز شریف اور ان کے بھائی عباس شریف کے اہلِ خانہ، ان کے علاوہ امریکا اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے کچھ غیر ملکی اس کمپنی میں شراکت دار ہیں۔

ذرائع نے بتایا تھا کہ چوہدری شوگر ملز میں سال 2001 سے 2017 کے درمیان غیر ملکیوں کے نام پر اربوں روپے کی بھاری سرمایہ کاری کی گئی اور انہیں لاکھوں روپے کے حصص دیے گئے۔

جس کے بعد وہی حصص متعدد مرتبہ مریم نواز، حسین نواز اور نواز شریف کو بغیر کسی ادائیگی کے واپس کیے گئے جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ کمپنی میں بھاری سرمایہ کاری کے لیے غیر ملکیوں کا نام اس لیے بطور پراکسی استعمال کیا گیا کیوں کہ شریف خاندان کی جانب سے سرمایہ کاری کے لیے استعمال کی جانے والی رقم قانونی نہیں تھی۔

جس پر 31 جولائی کو تفتیش کے لہیے نیب کے طلب کرنے پر وہ پیش ہوئیں تھیں اور چوہدری شوگر ملز کی مشتبہ ٹرانزیکشنز کے سلسلے میں 45 منٹ تک نیب ٹیم کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا۔

رپورٹ کے مطابق یوسف عباس اور مریم نواز نے تحقیقات میں شمولیت اختیار کی تھی لیکن سرمایہ کاری کرنے والے غیر ملکیوں کو پہچاننے اور رقم کے ذرائع بتانے سے قاصر رہے اور مریم نواز نوٹس میں بھجوائے سوالوں کے علاوہ کسی سوال کا جواب نہیں دے سکی تھیں۔

جس پر نیب نے مریم نواز کو 8 اگست کو دوبارہ طلب کرتے ہوئے ان سے چوہدری شوگر ملز میں شراکت داری کی تفصیلات، غیر ملکیوں اماراتی شہری سعید سید بن جبر السویدی، برطانوی شہری شیخ ذکاؤ الدین، سعودی شہری ہانی احمد جمجون اور اماراتی شہری نصیر عبداللہ لوتا سے متعلق مالیاتی امور کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی۔

اس کے ساتھ مریم نواز سے بیرونِ ملک سے انہیں موصول اور بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر/ٹیلیگرافگ ٹرانسفر کی تفصیلات بھی طلب کی گئی تھیں۔

متعلقہ خبریں