Daily Mashriq

امریکا کا 'کچھ علاقوں میں داعش کے مضبوط' ہونے کا اعتراف

امریکا کا 'کچھ علاقوں میں داعش کے مضبوط' ہونے کا اعتراف

امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپو نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ کچھ علاقوں میں عسکریت پسند تنظیم داعش تقویت حاصل کر رہی ہے لیکن اس گروپ کی حملہ کرنے کی صلاحیت کو بہت کم کردیا گیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کے مورننگ شو میں ایک انٹرویو کے دوران مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ 'یہ بہت پیچیدہ ہے لیکن یقینی طور پر ایسئ علاقے موجود ہیں جہاں داعش گزشتہ 3 یا 4 سال کی نسبت آج زیادہ طاقتور ہے'۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس گروپ کی خودساختہ خلافت ختم ہوگئی ہے اور اس کی حملہ کرنے کی صلاحیت کو بہت مشکل بنا دیا گیا۔

دوران انٹریو مائیک پومپیو سے نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ کے بارے میں سوال کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ عراق اور شام میں عسکریت پسند گروپ نئی قوت حاصل کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس دسمبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ترمپ نے کہا تھا کہ امریکی افواج، شام میں داعش کو شکست دینے کے مشن میں کامیاب ہوگئیں اور اب ان کی وہاں مزید ضرورت نہیں۔

اس وقت امریکی صدر نے کہا تھا کہ 'ہم جیت گئے' ہیں۔

مائیک پومپیو نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ خطے میں داعش کو شکست دینے کے لیے دیگر 80 ممالک کے ساتھ مل کر ایک منصوبے پر عمل کیا گیا اور یہ بہت کامیاب رہا۔

تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ القاعدہ اور داعش سمیت 'بنیاد پرست دہشت گرد گروپس' کے دوبارہ ابھرنے کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں افغانستان کے دارالحکومت کابل میں شادی کی تقریب میں ہونے والے دھماکے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی، اس دھماکے کے نتیجے میں 63 افراد ہلاک اور 182 زخمی ہوگئے تھے۔

'ایران کے ساتھ کشیدگی میں دانشمندی سے کام لے رہے ہیں'

دوسری جانب اپنے انٹرویو میں امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی پر بھی بات چیت کی اور زور دیا کہ واشنگٹن 'دانشمندی سے کام کررہا' ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'مشترکہ جامع منصوبہ بندی (جے سی پی او اے) سے دستبرداری دانشمندی ہے کیونکہ یہ ایران کو جوہری ہتھیار کی راہ پر گامزن کرنے والا تھا اور امریکی صدر اس عمل کو نہ ہونے کے لیے پرعزم ہیں'۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس امریکی صدر نے ایرانی معاہدے کے نام سے معروف جے سی پی او اے سے امریکا کی دستبرداری کا اعلان کیا تھا، جسے ان کے دور کی خارجہ پالیسی کی سب سے بڑی کامیابی مانا جارہا تھا، تاہم اس معاہدے پر دستخط کرنے والے سابق امریکی صدر باراک اوباما، برطانیہ، فرانس، جرمنی، چین اور روس نے امریکی انتظامیہ پر زور دیا تھا کہ وہ اپنے اقدام پر نظرثانی کرے۔

علاوہ ازیں فاکس نیوز چینل کو ایک اور انٹرویو میں مائیک پومپیو کا کہنا تھا یہ بد قسمتی ہے کہ قبضے میں لیے گئے ایرانی آئل ٹینکر کو جبرالٹر نے جانے کی اجازت دے دی گئی۔

امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے کہا کہ 'یہ بدقسمتی ہے کہ ایسا ہوا'۔

'شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات میں کئی رکاوٹیں آئیں گی'

ادھر سی بی ایس کو دیے گئے انٹرویو میں مائیک پومپیو نے شمالی کوریا کے معاملے پر بھی بات کی اور تسلیم کیا کہ امریکا پیونگ ینگ کے ساتھ مذاکرات کی میز پر اتنی جلدی نہیں آیا، جتنی امید تھی۔

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن جانتا ہے کہ جوہری ہتھیار کی تخفیف کے معاہدے میں 'کئی رکاوٹیں' آئیں گی۔

ساتھ ہی مائیک پومپیو نے کہا کہ واشنگٹن کو شمالی کوریا کی جانب سے مختصر فاصلے پر مار کرنے والے میزائلز کے تجربے پر تحفظات ہیں۔

انہوں نے اس تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 'میری خواہش تھی کہ وہ ایسا نہیں کرتے'۔

واضح رہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے گزشتہ ہفتے اپنی شمالی بندرگاہ سے سمندر میں مختصر فاصلے پر مار کرنے والے 2 میزائلوں کا تجربہ کیا تھا۔

متعلقہ خبریں