Daily Mashriq

ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ پر اٹھتے سوال

ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ پر اٹھتے سوال

ایبٹ آباد کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر) جاوید اقبال نے مطالبہ کیا ہے کہ اسامہ بن لادن کی موجود گی پر ایبٹ آباد میں امریکی آپریشن کے بعد کمیشن کی مرتب کردہ رپورٹ کو منظر عام پر لایا جائے ، انہوں نے کہا کہ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کسی کو بری الذمہ قرار نہیں دیا بلکہ ذمہ داروں کا مکمل تعین کر دیا ہے کہ کون کس مر حلے پر ذمہ دار تھا اور کون کس مرحلے پر ذمہ داری پوری نہ کر سکا ۔ رپورٹ کی سفارشات پر عمل در آمد کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ پیر کے روز پارلیمنٹ لاجز میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ کسی الماری میں پڑی ہوگی ۔ اس کو منظر عام پر لایا جائے ۔یہ بات غلط ہے کہ رپورٹ میں کسی کو بری الذمہ قرار دیا گیا ہے ۔ میں نے حلف اٹھا رکھا ہے اس لیے رپورٹ سے متعلق کچھ بتا نہیں سکتا ۔ ذمہ داروں اور ذمہ داری کا تعین رپورٹ میں کر دیا ہے کہ کون کس مرحلے پر ذمہ دار تھا اور کس مرحلے پر کس کی ذمہ داری تھی ۔ اب حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ سفارشات پر عمل در آمد کرائے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں اس وقت کے آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کو ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا ہے تاہم جو بھی ذمہ دار ہیں ان کے بارے میں لکھ دیا گیا ہے ۔یہ بڑی بد قسمتی کی بات ہے کہ ہمارے ہاں قومی سانحو ں ، یا اہم واقعات کے حوالے سے تحقیقات کرانے کے لئے آج تک جتنے بھی کمیشن قائم کئے گئے ہیں ان میں سے بہ مشکل ہی کسی تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کبھی سامنے آسکی ہے ۔ قیام پاکستان کے ابتدائی برسوں میں قائد ملت لیاقت علی خان کی شہادت کے بارے میں سکاٹ لینڈ یارڈ کے ایک ماہر کی خدمات حاصل کی گئیں اور اس نے اپنی تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ کو متعلقہ حلقوں تک پہنچا نے کا قصد کیا تو ایک اور سازش کے ذریعے وہ چھوٹا جہاز جس میں اپنی رپورٹ سمیت ماہر سفر کر رہا تھا ۔ ایک دھماکے کے ذریعے اڑا کر اصل حقائق کو ہمیشہ کے لئے دفن کر دیا گیا ۔ اسی طرح سابق آمر جنرل ضیاء الحق کی ''پر اسرار'' موت کا جوا یک فضائی حادثے کا شاخسانہ تھا راز بھی آج تک راز ہی ہے ۔ اگر چہ اس حوالے سے بعض حقائق دوسرے ذرائع کی مدد سے کسی نہ کسی طور پر سامنے آجاتی ہیں تاہم اصل رپورٹ یا حقائق پوری طرح سامنے نہیں آسکے ۔1971ء کی پاک بھارت جنگ اور اس کے نتیجے میں سقوط ڈھاکہ کے سلسلے میں محمود الرحمان کمیشن رپورٹ بھی سب سے پہلے بھارتی میڈیا کے ذریعے سامنے آئی تو اس کے بعد اسے سامنے لایا گیا مگروہ بھی نامکمل اور نیم دلانہ کوشش تھی ، جبکہ اس رپورٹ پر ہمیشہ یہ سوال اٹھتے رہے ہیں اس کمیشن کے لئے دائرہ کار کا تعین کرتے وقت بھی سیاسی وجوہات کو ایک طرف رکھتے ہوئے صر ف فوجی وجوہات پر سوالنا مہ جاری کیا گیا ۔ اگر چہ اس کے باوجود سیاسی وجوہات کا ذکر روکنے کی کوششیں ناکامی سے دوچار ہوگئی تھیں اور کچھ نہ کچھ حقائق سامنے آہی گئے تھے یہی وجہ تھی کہ بھٹو حکومت نے اس رپورٹ کو ضائع کرنے ہی میں عافیت جانی ، مگر پھر بھی ایک کاپی کسی نہ کسی ذریعہ سے لیک ہوہی گئی ۔ یہی صورتحال اسی نوع کے دوسرے واقعات کے حوالے سے رہی ہے اور ہمیشہ صرف وہی رپورٹ منظر عام پر لانے کی اجازت دی جاتی رہی جس سے ''کسی خاص حلقے ''کو کسی قسم کی شرمندگی کا سامنا نہیں کرنا پڑا ۔ حالانکہ قوموں کی تاریخ میں انہونے واقعات کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا اور ان واقعات سے سبق سیکھ کر ہی کامیابی کے راستوں کا تعین کیا جاتا ہے ۔ غلطیاں سرزد ہونا کوئی بڑی بات نہیں مگر ان کو تا ہیوں ، کمزوریوں اور غلطیوں کو سامنے رکھ کر مستقبل کی راہیں متعین کرنے ہی میں کامیابی کا راز پوشیدہ ہوتا ہے ، اب جہا ں تک ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ کا تعلق ہے تو یہ ہماری تاریخ کا ایک اہم واقعہ ہونے کے ناتے ہم سے قومی سطح پر اسی بات کا تقاضا کرتا ہے کہ جن حقائق کا پردہ ہٹانے کی سعی کی گئی ہے ان کا سنجید گی سے نوٹس لیکر ذمہ داروں کے خلاف اقدامات کیے جائیں ، تمام حقائق قوم کے سامنے بلا کم وکاست رکھ کر اپنے اداروں اور متعلقہ اہلکاروں کی غفلت سے آگاہ کیا جائے ، کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر) جاوید اقبال نے جس ذمہ دارانہ کردار کا مظاہر ہ کرتے ہوئے بقول انکے اپنی چھوٹی صاحبزادی تک کو یہ بتا نے سے گریز کیا ہے کہ اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں موجود تھے یانہیں اس سے ان کی جانب سے قومی راز کو صرف متعلقہ اداروں تک پہنچا نے کی ذمہ داری نبھانے کی بہ حسن و خوبی ادائیگی واضح ضرور ہوتی ہے تاہم کمیشن پر میڈیا میں اٹھتے ہوئے سوالوں کی بنیاد پر خود ان کا یہ مطالبہ بھی جائز ہے کہ اب حکومت اس رپورٹ کو منظر عام پر لا کر اپنی ذمہ داری نبھائے تا کہ قوم جان سکے کہ ان کے ادارے کس حد تک اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں کامیاب یا ناکام ہوئے ہیں ، رپورٹ کو مزید پوشیدہ رکھنے کا اب کوئی جواز باقی نہیں رہا ۔

متعلقہ خبریں