Daily Mashriq

مردم شماری پر اعتراضات؟

مردم شماری پر اعتراضات؟

گزشتہ کئی برس سے ملک میں مردم شماری نہ کرانے کی وجوہات کچھ بھی ہوں ان سے قطع نظر بالآخر سپریم کورٹ کے از خود نوٹس پر وفاقی حکومت کی بہ دقت تمام آئندہ برس اس ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے پر آمادگی سے جہاں یہ توقع روشن ہو چکی ہے کہ اب یہ مسئلہ کسی نہ کسی طور پایہ تکمیل تک پہنچ ہی جائے گا اورصوبوں کی آبادی کا تعین ہونے کے بعد قومی محاصل میں نئی مردم شماری کے تحت انہیں اپنا حصہ ملنے لگے گا جس کی وجہ سے مختلف منصوبوں کے لئے ضروری فنڈز کی فراہمی بھی ممکن ہوسکے گی۔ مگر اب اچانک وفاقی وزیر جہاز رانی و بندرگاہیں اور صدر نیشنل پارٹی سینیٹر حاصل بزنجو نے ایسا سوال اٹھا دیاہے جو اپنے اندر بہر صورت کچھ نہ کچھ حقائق ضرور رکھتا ہے اور اس حوالے سے اہم ہے۔ حاصل بزنجو نے کہا ہے کہ پاکستان میں قیام پذیر افغان مہاجرین کو جلد سے جلد افغانستان بھیجا جائے۔ ان کی موجودگی میں مردم شماری قابل قبول نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ محمود خان اچکزئی کے افغانیہ صوبہ بنانے کے مطالبے سے متفق نہیں۔ جہاں تک افغان مہاجرین کی ملک میں موجودگی کا تعلق ہے اس میں قطعاً شک نہیں کہ نہ صرف قانونی طور پر لاکھوں افغان یہاں قیام پذیرہیں بلکہ غیر قانونی طور پر بھی بناء رجسٹریشن کے پاکستان کے مختلف حصوں خصوصاً خیبر پختونخوا میں دندناتے پھرتے ہیں اور حکومت ہر بار ان کی مدت قیام کے خاتمے پر اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یو این ایچ سی آر کے دبائو میں آکر مزید وقت دے کر انہیں پاکستانی عوام کی مرضی کے بغیر ہمارے سروں پر مسلط کردیتی ہے جبکہ ان کے مقابلے میں خیبر پختونخوا کے حقیقی باشندوں کے شناختی کارڈز بلاک کئے جاچکے ہیں اور خصوصاً پنجاب کے مختلف شہروں میں کاروبار یا ملازمتوں کے لئے مقیم پختونوں کو تنگ کرنے کا سلسلہ بھی درازہوتا جا رہاہے۔ ایسی صورت میں مردم شماری پر اگرچہ سوال ضرور اٹھ سکتے ہیں مگر اس حوالے سے ذمہ داریوں کا تعین بھی لازمی ہے اور وہ ہے مرکزی حکومت کی وزارت سیفران جو ان مہاجرین کو مزید مہلت دیتی رہتی ہے۔ بہر حال اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ افغان مہاجرین کی وجہ سے اتنی مدت سے رکی ہوئی مردم شماری کو مزید ٹال کر عوام کے حقوق سلب کرنے کی راہ ہموار کی جائے۔ رجسٹرڈ یا غیر رجسٹرڈ مہاجرین کا تعین کرنا اس قدر مشکل بھی نہیں ہے۔ اس لئے مردم شماری کاکام اہمیت کاحامل ہونے کی وجہ سے جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے تو اچھا ہے۔

ریپڈ بس منصوبہ۔۔۔۔ٹریفک پلان

وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے ریپڈ بس منصوبے کی تعمیر کے دوران صوبائی دارالحکومت پشاور میں ٹریفک کے لئے متبادل انتظامات کے تحت سڑکوں کی تعمیر و توسیع کا کام جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ منصوبے کو احسن انداز میں عملی جامہ پہنایا جائے۔ اس مقصد کے لئے پہلے سے منظور شدہ متبادل ٹریفک پلان کے تحت مجوزہ سڑکوں کی تعمیر و توسیع کا کام مکمل ہونا چاہئے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ بڑھتے ہوئے ٹریفک رش پر قابو پانے کے لئے صوبائی دارالحکومت میں ریپڈ بس منصوبہ اہمیت کے لحاظ سے یقینا قابل ستائش ہے جس سے نہ صرف سڑکوں پر موجودہ رش کو کم کیا جا سکے گا بلکہ عوام کو سستے ٹرانسپورٹ کی سہولت بھی میسر آئے گی اور انہیں کم پیسوں میں آسانی سے مطلوبہ مقامات تک آنے جانے میں آسانی رہے گی اور اس وقت سڑکوں پر ٹریفک کا جس قدر اژدھام ہے اس سے بھی چھٹکارہ ملے گا۔ اس کاد وسرا فائدہ یہ بھی ہوگا کہ فضا میں آلودگی کم ہوگی اور سانس وغیرہ کی بیماریوں پر بھی قابو پانے میں مدد ملے گی۔ اس لئے منصوبے کی جلد از جلد تکمیل کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات پر پوری سنجیدگی سے توجہ دینی لازمی ہے۔ تاہم منصوبے کی تکمیل کے دوران مختلف علاقوں میں سڑکوںکی ٹوٹ پھوٹ سے ٹریفک کے نظام پر جو اثرات مرتب ہوں گے ان کے لئے جس طرح متبادل پلان ترتیب دیاگیا ہے۔ اس کی اہمیت اپنی جگہ مگر ایک اہم مسئلے کی جانب اس موقع پر متعلقہ حکومتی اداروں کی توجہ دلانا ضروری ہے اور وہ ہے سیاسی اور غیر سیاسی عناصر کی جانب سے اکثر و بیشتر اپنے مطالبات کے لئے جلوس نکال کر خصوصاً سورے پل' سوئیکارنو چوک اور بعض دیگر مرکزی مقامات کو بلا وجہ بلاک کرنا جس کی وجہ سے شہر میں ٹریفک کا نظام شدید طور پر متاثر ہوجاتا ہے۔ اگرچہ اس حوالے سے انتظامیہ پہلے ہی پابندی عائد کر چکی ہے مگر جب بعض عناصر ان ہدایات کو پائوں تلے روندتے ہوئے سڑکوں کو بلاک کردیتے ہیں تو شہر میں ٹریفک جام سے عوام کو کہیںبھی آسانی سے پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس لئے حکومت نہایت سختی سے اس قسم کی مردم آزاد سر گرمیوںپر پابندی لگانے کا اعلان کرتے ہوئے مظاہروں کے لئے کسی مناسب مقام کا تعین کرے تاکہ اس منصوبے کی تکمیل کے دوران عوام کو دوہرے تہرے عذاب سے نہ گزرنا پڑے۔وزیر اعلیٰ نے متبادل ٹریفک پلان کے جنوبی زون اے کے تحت یونیورسٹی روڈ کو ترجیحی بنیادوں پر ڈبل کرنے کی ہدایت کی ۔

متعلقہ خبریں