Daily Mashriq

پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کا تنا زعہ

پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کا تنا زعہ

اس وقت پو ری دنیا اور بالخصوص ایشیاء اور جنوبی ایشاء پانی کی قلت کا شکار ہیں اور اسکی اصل وجہ دنیا میں ما حولیاتی تبدیلی اور دنیا کے درجہ حرارت میں اضافہ ، جنگلات کی بے دریغ کٹائی اور بڑھتی ہوئی آبادی ہے ۔پاکستان کو 1994ء سے پانی کی قلت کا شکار ملک گردانا گیا تھا۔پاکستان جب 1947 ء میں معرض وجود میں آیا تو اُس وقت ہر پاکستانی کا فی کس پانی کا حصہ 5600 مکعب میٹر تھا مگر 2012 میں یہ کم ہوتے ہوتے 1000 مکعب میٹر تک رہ گیا ۔ اسی طرح بھارت کے 678 ضلعوں کے ہزاروں گائوں میں پانی کی شدید قلت ہے۔بھارت میں 35 ملین کسان حیدرآباد اور بھارت کے کچھ شہروں سے اُن جگہوں پر منتقل ہوئے جہاں پر پانی کی قلت میں کسی حد تک کمی ہے۔بھارت کے مہا را شٹرا میں تقریباً 3228 لوگوں نے پانی کی قلت اور قحط سالی کی وجہ سے خود کشی کی پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ عالمی بینک کی مدد سے 19 ستمبر 1960 ء کو معاہدے پرجنرل ایوب خان اور بھارت کی طرف سے جواہر لال نہرونے دستخط کئے۔اس معاہدے کی رو سے بھارت 3 دریا بیاس ، سُتلج اور راوی کا پانی استعمال میں لائے گا جبکہ پاکستان تین دریائوں چناب، جہلم اور راوی کے پانی سے مستفید ہو گا۔مگر بد قسمتی سے بھارت عالمی بینک کے اس معاہدے سے منحرف ہے اور ستلج بیاس اور راوی کے ساتھ ساتھ دریائے چناب کا پانی بھی بجلی بنانے اور ڈیم بنانے کے لئے استعمال کرتا ہے۔ اگر بھارت نے جموں کشمیر اور پاکستان کے حصے میں دریائوں پر ڈیم بنائے تو فی کس پانی مزید کم ہو جائے گا۔ ایک اور سروے میں بتا یاگیا ہے کہ سال 2050تک ایشیاء میں ایک ارب انسان پانی سے محروم رہیں گے۔ڈیوڈ اوتھل کا کہنا ہے کہ کوئی اسلحہ، فوج اور جنگ پا کستان کواتنا نقصان نہیں پہنچا سکتے جتنا نقصان بھارت کی طرف سے پاکستان کا پانی بند کر نے سے ہوگا۔ بھارت کے ایک سابق جرنیل جی ڈی بخش نے کہا کہ اگر ہم نے پاکستان کے پنجاب پرایٹمی مواد گر ا دیا تو اس سے پنجاب تباہ ہوجائے گی اور یہاں پر آئندہ 800 سال تک کوئی فصل نہیں اُگے گی۔بھارت کا صرف پا کستان کے ساتھ پانی پر تنا زعہ نہیں بلکہ اپنے دوسرے پڑوسیوں جس میں بنگلہ دیش، بھوٹان چین شامل ہے اُنکے ساتھ بھی بھارت کے اس قسم کے تنا زعات ہیں۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہمالیہ سے جوسمندر نکلے ہیںاس سے پاکستان، بھارت ، بنگلہ دیش اور بھوٹان کو پانی ملتا ہے جس کو یہ ممالک مختلف قسم کی ضروریات کے لئے استعمال کرتے ہیں۔میری تحقیق کے مطابق اس وقت بھارت میں 4710 ڈیمز ہیں اور 390 پر کام جا ری ہے جبکہ پاکستان میں چھوٹے بڑے 149 ڈیمز ہیں ،جن میں پاکستان کا آخری ڈیم تربیلا ڈیم1974ء میں تعمیر کیاگیا۔اسکے بعد کوئی ڈیم نہیں بنا یا گیا۔ابھی کچھ ڈیموں پر کام جاری ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کالا با غ ڈیم ایک متنازعہ آبی منصوبہ ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق پاکستان پانی سے ایک لاکھ میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلا حیت رکھتا ہے مگر ہمارے حکمران اس سے استفا دہ نہیں کر سکے۔اگر وہ اس سے استفادہ کرتے تو تیل اور گیس سے چلنے والے بڑے بڑے آئی پی پیز کیسے چلتے اور ہمارے حکمران اُن میں کمیشن کیسے لیتے۔اسکے علاوہ بھارت با رہویں 5 سالہ منصوبے کے تحت مقبو ضہ کشمیر میں 7036 میگا واٹ مزید بجلی پیدا کرے گا۔ اس میں بگلیہار II سے 450 میگا واٹ، سوال کوٹ سے 1200میگا واٹ، کرتھائی سے 240میگا واٹ، کرتھائی IIسے 990 میگا واٹ، لور کیلانی سے 50میگا واٹ، نیوگندر بل سے 93 میگا واٹ، ہر نائی سے 38 میگا واٹ، کیرو سے 600میگا واٹ کا روار سے 56 میگا واٹ، کرشن گنگا سے 330 میگا واٹ، ریٹیل سے 690 میگا واٹ ، پکا دی سے 1000 میگا واٹ اوچ سے 280 میگا واٹ اور بر سر سے 1020 میگا واٹ پیدا کرے گا اسکے علاوہ بھارت مقبو ضہ جموں اور کشمیر میں 500میگا واٹ کے ایک اور منصوبے پر کام کر رہا ہے جس میں سیو سے 120 میگا واٹ چوتک سے 12 میگا واٹ، اوڑی II سے 280 میگا واٹ ، پارک چا رٹ سے 30میگا واٹ اور اسکے علاوہ ایک اور منصوبے پر کام ہو رہا ہے جس سے 900 میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی۔ مند رجہ بالا ڈیموں کے مکمل ہو نے کے بعد پنجاب کے 9 اضلاع میں 6000 ملین ایکڑ پر پانی کی شدید کمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ما ہرین کے مطابق مقبو ضہ جموں کشمیر میں ان ڈیموں کی تعمیر سے 410 نہریں اور 1125 چھوٹی نہریں سوکھ جائیں گی۔ 

اسکے علاوہ بھارت اور افغانستان اس کو شش میں ہے کہ دریائے کابل پرایک ڈیم بنایا جائے اور جب یہ ڈیم بن جائے گا تو پاکستان مزید پانی کی قلت کا شکار ہو گا۔ ڈیمز بنانے کے ساتھ ساتھ بھارت کی کو شش ہے کہ پاکستان کی زراعت کو بھی ختم کیاجائے اور یہی وجہ ہے کہ بھارت پاکستانی ما رکیٹ پر قبضہ کرنے کے لئے اپنے کسانوں کو کھاد، پانی، بجلی، چاول ، کپاس، مکئی روئی اور دالوں کی فصلوں پر 60 ارب ڈالر کی سبسڈی دے رہا ہے تاکہ وہاں کی سستی زراعتی پراڈکٹ پاکستان منتقل کر کے پاکستانی ما رکیٹ پر قبضہ کیاجائے۔اصل بات یہ ہے کہ ہمارے سیاست دان ایک دوسرے کے پیچھے لگے ہوئے انکو ملک اور قوم کی کوئی فکر نہیں ۔ حالانکہ بھارت کے ساتھ پانی کے معاملات پر سنجیدہ بات چیت کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں