Daily Mashriq

فاٹا تختہ مشق کیوں ؟

فاٹا تختہ مشق کیوں ؟

صورتحال افسوس ناک بھی تھی ۔اور شرمناک بھی ۔۔۔ قبائلی عمائدین روایتی پگڑیاں باندھے ہال میں براجمان تھے۔گورنر خیبر پختونخوا اقبال ظفر جھگڑا بحیثیت مہمان خصوصی پہنچ گئے تھے۔ سپیکر صوبائی اسمبلی فاٹا سے منتخب ارکان پارلیمنٹ اور بیشتر قبائلی ایجنسیوں کی پولیٹیکل ایجنٹس بھی موجود تھے ۔تقریب کا اہتمام وزارت سیفران نے کیا تھا۔اور نگرانی فاٹا سیکرٹیریٹ کے پاس تھی۔یعنی نظم ضبط ،اور ادب واحترام کے تمام تقاضے مکمل تھے۔ لیکن پھر بھی ہنگامہ ہلڑ بازی ہوگئی۔ اس پر بس نہیں بلکہ لاتوں اور مکوں کا آزادانہ استعمال ہوا۔ اور زبان سے جو الفاظ ادا کئے گئے ان کو ضبط تحریر میں لانا کم از کم یہاں مناسب نہیں۔ سوال یہ ہے کہ بزرگوں کا احترام، محفل کے آداب ، اقداراور تقدس کے تقاضوں کا خیال رکھنا تو قبائل کے خمیر میں گندھا ہواہے۔ پھر یہ سب کچھ کیوں ہوا؟ یہ منظر وہاں موجود لوگوں کے علاوہ ملک بھر میں ٹی وی ناظرین نے بھی باربار دیکھا۔ یقینا قابل افسوس تھا ۔جی ہاں ؛قارئین۔۔ یہ تذکرہ اس سیمینار کا ہے ۔جو پشاور کے پنج ستارہ ہوٹل میں قبائلی اصلاحات کے موضوع پر منعقد کیا گیاتھا۔ ہر مکتبہ فکر کے نمائندے اس میں شریک تھے۔ ایک قبائلی بزرگ سٹیج پر تقریر کر رہے تھے۔ جیسے ہی انہوں نے اپنا نکتہ نظر پیش کرنا شروع کر دیا۔ ہال نعروں سے گونجنے لگا۔ یہ نعرہ بازی خیرمقدمی نہیں تھی۔ بلکہ مخالفانہ تھی ۔ اور پھر بات بڑھتی گئی۔ ایک طوفان بد تمیزی بپا ہوا۔ اور ڈائس کے سامنے دنگل شروع ہوا۔۔تقریب کے مہمانان خصوصی ہال سے کسک گئے۔اور تقریب درہم برہم ہوگئی۔ عین ممکن ہے کہ فاضل مقرر نے جمہور کی رائے کے برعکس بات کی ہو۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیںکہ اسے بولنے ہی نہ دیا جائے۔ اور اس پر جملے اور آوازیں کسے جائیں۔ یا ہاتھا پائی تک نوبت پہنچ جائے۔ تقریب ختم بلکہ سبوتاژ ہوئی۔ ور پھر الزامات کا سلسلہ چل نکلا۔ کوئی وہاں موجود نوجوانوں کو دوش دے رہا تھا۔ کسی نے مقرر کو ذمہ دار ٹھہرایا،کوئی اسے فاٹا سیکرٹریٹ اور پولیٹیکل انتظامیہ کی سازش قرار دے رہا تھا۔ اور کسی نے سازش کا سرا قبائلی ارکان پارلیمنٹ کے ہاتھ میں دیدیا۔ حکومت پر بھی انگلی اٹھائی گئی۔ کہ شاید اب وہ اصلاحاتی عمل کو روکنا چاہتی ہے۔یعنی جتنی منہ اتنی باتیں ۔تادم تحریر اصل ذمہ داروں کا تعین نہیں ہوا۔ بلوہ جس نے بھی کیا ۔وہ قبائل کا خیر خواہ اور ہمدرد ہر گز نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ ایف سی آر کے کالے قانون سے آزادی کی جدو جہد ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔۔ مان لیا کہ ایف سی آر کے حق میں بولنا قبائلیوں کی اکثریت کی منشاء کے برعکس اور اس فرسودہ نظام کو دوام دینے کے مترادف ہے۔ مگر کسی کو بولنے کے حق سے جبراًروکنا بھی تو اسی کالے قانون کا خاصہ ہے۔ اگر پتھر کے دور سے نکلنا ہے۔تو مہذب دنیا کے اخلاقی اقدار کو اپنا ناہوگا۔ برداشت اور حوصلہ بڑھا کر دوسروں کو اپنا ہمنوا بنا نا ہوگا ۔ ورنہ اس نازک مرحلے پر معمولی سی لغزش بھی مستقبل کا طعنہ بن سکتی ہے۔ ایسا نہ ہو کہ اس مرحلے پر قبائل باہم لڑتے رہیں اور فیصلے کا اختیار کسی اور کے ہاتھ میں چلا جائے ۔ یہ آئے روز قبائلی جرگے اور اجتماعات کا سلسلہ کیا ہے۔ اس کے پس پشت سیاسی مقاصد کتنے ہیں اور فاٹا کے عوام سے ہمدردی کتنی ؟ ہر سیاسی جماعت کا اپنا قبائلی جرگہ ہے۔ اور اس جرگے کے من پسند ارکان ہیں۔ سب کا دعویٰ ہے کہ بس وہی قبائل کا مسیحا ہے اور جو نسخہ وہ لایاہے۔ وہی کیمیا ہے۔یہ جرگے یہ کانفرنسز اور اجتماعات کب تک جاری رہیں گے ۔ ظاہر ہے جب تک فاٹا کے عوام خود اس قابل نہیں ہونگے کہ اپنی بات کرسکیں ۔ اور اسے پھر منوا بھی سکیں ۔ لیکن یہ منوانا بزور باز ونہیں بلکہ دلائل وبراہین کی بنیاد پر ہونا چاہیئے۔ ہمارے خیال میں اب بات واضح ہوتی جارہی ہے۔فاٹا کی حیثیت کے حوالے سے تین موقف سامنے آگئے ہیں۔ (١) فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کیا جائے۔(٢)فاٹا کو الگ صوبہ قراردیا جائے۔(٣) ایف سی آر میں مناسب ترامیم کرکے موجودہ حیثیت اور نظام کو برقرار رکھا جائے۔ قبائلی علاقے کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کی تجویز حکومت کی اصلاحاتی کمیٹی کی سفارشات میں نمایاں ہے۔ اور سیاسی جماعتوں کی اکثریت کا اس سے اتفاق ہے ہاں البتہ کمیٹی نے ا س تجویز کو عملی جامہ پہنانے کے لئے مرحلہ وار پروگرام کا تصور دیا ہے۔ جس میں امن وامان کی صورتحال یقینی بنانا۔ ۔بے گھر خاندانوں کی اپنے علاقوں میں واپسی ،تباہ شدہ انفرا سٹرکچر کی بحالی اور سال 2017ء کے آخر تک فاٹا میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد شامل ہیں۔ اس کے علاوہ فاٹا میں ''رواج ایکٹ ' ' کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ جہاں تک فاٹا کو الگ صوبہ قراردینے کی تجویز ہے ا سکے حق میں سب سے توانا آواز جمعیت علماء اسلام کی ہے۔ اس حوالے سے ان کے پاس دلائل بھی ہیں اور کئی قبائلی عمائدین بھی ان کے ہمنوا ہیں۔ فاٹا گرینڈ جرگہ کی سرگرمیاں جے یوآئی کی سرپرستی میں طویل عرصے سے جاری ہیں اور مولانا فضل الرحمٰن پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اس موقف کا اظہار کھل کر کر رہے ہیں۔ البتہ تیسرا موقف کچھ قبائل کے لئے اشتعال انگیز ہے۔ اور ہنگامہ آرائی بھی اسی پر ہوئی تھی۔ اس کے حمایتی موجودہ نظام کا مراعات یافتہ طبقہ ہے۔ جو اب پولیٹیکل انتظامیہ کے اشاروں پر چل رہا ہے۔ اور مبینہ طور پر انہی کی شہ پر اس نظام کو دوام دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے اس نظام سے استفادہ کرنے والے ہی اس کا تحفظ کریں گے۔ یہی بیوروکریسی کا وہ طبقہ جو قبائلی علاقوں میں تعیناتی کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر مفادات حاصل کرتے ہیں ۔ لیکن ترقی کیا ہے ۔ دستاویزات میں وہاں بے تحاشا فنڈز خرچ کرنے کے باوجوآج تعلیمی مراکز ہیں نہ صحت کی سہولیات، آمد ورفت کے مناسب ذرائع ہیںنہ روزگار کے مواقع امن وامان کی صورتحال کا تذکرہ ہی بے کار ہے ۔ بلاشبہ اس کے ذمہ دار یہی لوگ ہیں۔ اگر فاٹا میں دستیاب وسائل کو دیکھا جائے تو انسان ششدر رہ جاتاہے۔ معدنی ذخائر،قدرتی حسن، انسانی وسائل کی کثرت،پانی کے وسیع ذخائر،منفرد اور خوش ذائقہ پھلوں کے لئے سازگار ماحول اور سب سے بڑھ کر کاروباری شعور اورمحنت ومشقت کا جذبہ۔ یہ تما م عناصر قبائل میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ البتہ فقدان ہے تو صرف اتحاد ،اتفاق اور یگانگت کا ایک دوسرے پر اعتماد اور برداشت کا جس کی اس وقت فاٹا کے عوام کو اشد ضرورت ہے۔ 

متعلقہ خبریں