Daily Mashriq


دعائوں کی چھتری

دعائوں کی چھتری

ہم ساری زندگی خواب دیکھتے رہتے ہیں۔ہماری خواہشات ہمیں چین لینے نہیں دیتیں خوب سے خوب تر کی جستجو میں ساری عمر گزرجاتی ہے لیکن ہم مطمئن نہیں ہو پاتے بہت کچھ پالینے کے باوجود بھی تشنگی کا احساس باقی رہتا ہے کوئی کروڑوں روپے کی جائیداد کا مالک ہے مگر اولاد سے محروم ہے کسی کی اولاد تو ہے مگر نافرمان ہے اسے اپنی ساری محنت رائیگاںجاتی نظر آتی ہے وہ یہ سوچ سوچ کر ہلکان ہوا جاتا ہے کہ میرے بعد میرے بچے سب کچھ اڑا دیں گے سادہ سے سادہ الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ حقیقی خوشی اور سکون اس دنیا میں اگر نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہیں حکیم بھی بہت ہیں اور نسخے بھی بے شمار ! آج ہم بھی اپنی پٹاری میں موجود ایک تیر بہدف نسخہ اپنے قارئین کے ساتھ اس یقین کے ساتھ شئیر کرنا چاہتے ہیں کہ اس سے بہتوں کا بھلا ہوجائے گا آزمائش شرط ہے ۔اس نسخے کا نام ہم نے ''دعائوں کی چھتری ''رکھا ہوا ہے۔ چھتریوں کی بہت سی اقسام ہیں لیکن شاندار بات یہ ہے کہ ہر چھتری آپ کے لیے ایک پناہ گاہ ہے۔ موسلادھار بارش میں بھیگتے ہوئے شخص کی حالت اس وقت دیدنی ہوتی ہے جب اس کے پاس ایک عدد چھتری نہیں ہوتی اور چھتری والا خراماں خراماںتیز بارش سے لطف اندوز ہوتا ہوا اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہوتا ہے اور پھر ہزاروں فٹ کی بلندیوں سے چھلانگ لگانے والا چھاتہ بردار فوجی کتنی بے خوفی کے ساتھ جہاز کے کھلے دروازے سے نیچے کود جاتا ہے۔ اسے اس وقت اللہ پاک کی ذات کے بعد صرف اس چھتری پر بھروسہ ہوتا ہے جو اس کے چھلانگ لگاتے ہی کھل جاتی ہے اور وہ بحفاظت زمین پر اترجاتا ہے اب آتے ہیں دعائوں کی چھتری کی طرف اسے آپ دعائیں سمیٹنے کا عمل بھی کہہ سکتے ہیں یہ دعائیں چھتری بن کر آپ کو دنیا کی بلائوں اور مصیبتوں سے اپنی حفاظت میں لے لیتی ہیں۔ آپ نے اپنے آس پاس بہت سے ایسے لوگ دیکھے ہوں گے جن پر زندگی مہربان ہوتی ہے۔ وہ بہت سی سہولتوں سے لطف اندوز ہورہے ہوتے ہیں۔دعائیں تو ہمارے چاروں طرف خوشبودار پھولوں کی طرح بکھری ہوتی ہیںصرف انہیں آگے بڑھ کر حاصل کرنا ہوتا ہے یہ تو ہر روز ہمیں پکار پکار کر اپنی طرف بلاتی رہتی ہیں مگر ہم ان کی طرف دیکھنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتے اور انہیں نظر انداز کرکے آگے بڑھ جاتے ہیں کیا کبھی اپنے آفس میں کام کرنے والے نائب قاصد کی زندگی کے بارے میں سوچا ہے؟اس کے ناتواں جھکے ہوئے کندھوں کو دیکھ کر کبھی یہ خیال آیا ہے کہ آخر وہ کون سا بوجھ ہے جس کی وجہ سے اس کے کاندھے وقت سے پہلے جھک گئے ہیں ؟اسے آگے بڑھ کر سینے سے لگا لوتمہاری محبت کی گرمی اسے نیا عزم اور حوصلہ عطا کرے گی تمہارا سہارا پاکروہ دنیا کی پریشانیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اٹھ کھڑا ہوگا ۔کبھی اپنے پریشان حال غمزدہ جھریوں بھرے چہرے والے پڑوسی سے آگے بڑھ کر اس کا حال پوچھا ہے؟کیا کبھی اس سے پوچھا ہے کہ تم کیسے اس کی مدد کرسکتے ہو۔ اسے کس چیز کی ضرورت ہے؟اپنے دروازے پر آنے والے ضرورت مند کا ہاتھ پکڑ لواپنے کمزور اور پریشان حال بہن بھائی کے دکھ درد کا مداوا بن جائو ! نیکی کا سب سے بڑا انعام یہی ہوتا ہے کہ نیکی کرنے والے کو مزید نیکی کرنے کی توفیق نصیب ہوتی ہے ۔ آج سے ان نعمتوں کا شمار شروع کردو جو تمہیں اللہ پاک نے عطا کر رکھی ہیں تم گنتے گنتے تھک جائو گے مگرتمہاری گنتی پوری نہیں ہوگی تم سوچو گے کہ اگر میں اللہ پاک کے سامنے رات دن بھی سجدے میں پڑا رہوں تو اس کی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرسکتا ۔کبھی اپنے گھر آنے والے خدمت گاروں کی زندگی کا احوال جاننے کی کوشش بھی کرو ان سے میٹھے بول بھی بول کر دیکھو تم پر یہ حقیقت بہت جلد آشکارا ہوجائے گی کہ انہیں تمھاری مدد کی ضرورت ہے ان کی خدمت کے عوض اجرت ادا کردینا اور ان کے قریب سے خاموشی کے ساتھ گزرجانا ! میرے دوست یہ محرومی ہے۔ بد قسمتی ہے اللہ پاک کی ناراضی ہے جب اللہ پاک کسی سے راضی ہوتا ہے تو اس کی طرف ضرورت مند بھجواتا رہتا ہے۔ خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ جو لوگوں کی ضرورتیں پوری کرتے رہتے ہیںیہی وہ لوگ ہیں جو حقیقی خوشیوں سے آشنا ہیں انہیں سکون کے صحیح مفہوم سے آشنائی ہے !