Daily Mashriq


اعتماد سازی اور شکوک و شبہات کے ازالے کی اچھی ابتداء

اعتماد سازی اور شکوک و شبہات کے ازالے کی اچھی ابتداء

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی پارلیمنٹ ہائوس جا کر سینیٹرز کو بریفنگ دینے کی روایت قائم کرنا پاک فوج اور سیاستدانوں کے درمیان جاری غلط فہمیوں اور ایک دوسرے سے شکایات میں کمی آنا فطری امر ہوگا۔ گوکہ یہ ایک ان کیمرہ کارروائی تھی لیکن پارلیمانی روایات کے برعکس اس بریفنگ اور سوال و جواب کے بعض حصے میڈیا پر آگئے اور ایسا لگ رہا تھا کہ ہر سینیٹر پوچھے گئے سوال یا پھر اپنے معلومات کے تبادلے میں اپنے نقطہ نظر کو زیادہ درست ثابت کرنے کی سعی میں تھا حالانکہ جہاں مکالمہ ہوتا ہے وہاں کسی ایک نقطہ نظر کا بیان نہیں ہوتا بلکہ د وسرے کے خیالات کی بھی گنجائش ہوتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس اجلاس کو ان کیمرہ قرار نہ دیا جاتا اور اگر ان کیمرہ قرار دیاگیاتھا تو رازداری برتنے کے اصول کی پوری پوری پاسداری کی جاتی۔ اس کی پاسداری نہ کرکے ناطقین نے از خود پارلیمانی روایات اور اخفا برتنے کی ضرورت کا پاس نہ رکھا جو قانونی آئینی اور اخلاقی طور پر معقول طرز عمل کا مظاہرہ نہ تھا گو کہ میڈیا پر آنے والے معاملات کا تعلق حساس معاملات سے نہ تھا بلکہ بعض غلط فہمیوں کا اس سے ازالہ کرنے کا بھی موقع ملا اس کے باوجود ہمارے تئیں اس کی گنجائش نہ تھی ایسا اس لئے بھی زیادہ ضروری تھا کہ پاک فوج کے سربراہ نے سینیٹروں سے جو بھی بات کی یا سوالات کے جواب دئیے وہ یا ان کے ترجمان کے پاس وہ آزادانہ مواقع نہیں جو سیاستدانوں اور عوامی نمائندوں کے پاس ہے ایسے میں بعض غلط فہمیوں کا جنم لینا اور کچھ شکوہ شکایات کے مواقع کا امکان رہتا ہے۔ بہر حال قطع نظر اس کے ہمارے تئیں آرمی چیف کا سینٹ کے اراکین کو پارلیمنٹ ہائوس آکر بریفنگ کا اقدام کم از کم چیئر مین سینٹ اور دیگر ان شکایت کنندگان کے شکوہ شکایات کی نفی ہے جس میں وہ بار بار پارلیمنٹ کی بالادستی کے حوالے سے اظہار خیال کرتے آئے ہیں حالانکہ آئین و دستورکے مطابق ہر ادارے کا کردار اور درجہ طے ہے۔ یہ الگ بات کہ قبل ازیں اس طرح کا عملی اقدام سامنے نہیں آیا کہ سیاسی عناصر کے پاس اس قسم کا واویلا کرنے کی گنجائش نہ رہے۔ آرمی چیف نے سینٹ میں آکر عملی طور پر پارلیمنٹ کی بالادستی اور اپنے ادارے کے جوابدہ ہونے کا ثبوت دیا۔ حال ہی کے واقعات کے بعد پاک فوج اور حساس قومی ادارے کے کردار کے حوالے سے جو چہ میگوئیاں ہونے لگی تھیں آرمی چیف نے اس کی صراحت اور دلیل سے وضاحت کردی جس کے بعد اس طرح کے اظہار خیال کا اب موقع نہیں رہا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ آرمی چیف کی سینٹ آمد پر ارکان کے لب و لہجے میں تبدیلی بھی فطری بات تھی۔ طرفین کی جانب سے رواداری کا ایک عملی مظاہرہ غلط فہمیوں کے ازالے اورایک دوسرے کے قریب آنے کا ا چھا موقع تھا جس کے بعد کم از کم ان غلط فہمیوں اور تلخ بیانی کا خاتمہ ہوجانا چاہئے تھا جو اب تک دکھائی دے رہا تھا۔ ہم سمجھتے ہیں وطن عزیز میں اداروں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے جو پیشرفت اب دیکھنے میں آئی ہے اس کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ آرمی چیف سے ملاقات اور تبادلہ خیال کے بعد بہت سے توہمات اور شکوک و شبہات کا ازالہ ہونا فطری امر تھا۔ اس کے بعد کی صورتحال ہر فریق کی جانب سے احتیاط کا متقاضی ہے تاکہ مفاہمت کی اس فضاء کو قومی سطح پر مستحکم ہونے کا موقع ملے اور کسی طرف سے یہ تاثر نہ دیا جائے کہ ان کی مشکلات اور ناکامی کی وجہ کوئی اور ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب ملک میں اپنے دائرہ اختیار کے اندر رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں گے اور دوسروں کے معاملات میں بلا وجہ مداخلت نہیں ہوگی تبھی ملک کا مفاد مقدم رہے گا اور ملکی معاملات کو اعتماد کی فضاء میں آگے بڑھایا جاسکے گا۔ آرمی چیف نے سیاستدانوں کو فوج کو موقع نہ دینے کا جو مشورہ دیا ہے اس کے صائب ہونے میں کلام اس لئے نہیں کہ درون خانہ جو بھی ہو بظاہر سیاستدان ہی نہ صرف فوج کو موقع دیتے رہے ہیں بلکہ ان کو کھلے عام مداخلت کی دعوت بھی سیاستدانوں ہی کی طرف سے ملتی رہی ہے۔ سیاستدان اگر قومی اداروں کو از خود مداخلت کی دعوت نہ دیتے اور اپنے معاملات کا از خود حل نکالتے اور مخالفین کی حکومت گرانے کے لئے دوسری طرف دیکھنے کی بجائے سیاسی طریقہ کار اختیار کرتے تو ملک میں مارشل لاء لگنے کی راہ ہموار نہ ہوتی۔ بہر حال یہ گزرا ہوا باب ہے جسے دہرانا مناسب نہیں البتہ آئندہ اس غلطی کا کسی طور اعادہ نہیں ہونا چاہئے تاکہ جمہوریت مستحکم اور نظام مضبوط ہو۔ اس وقت بھی اگر دیکھا جائے تو گو کہ پہلے کی طرح حالات نہیں لیکن سیاسی جماعتوں کا اپنا کردار سنجیدگی و متانت کے اس د رجے پر نظر نہیں آتا کہ وہ پارلیمنٹ اور جمہوری استحکام کو مقدم رکھیں۔ جب تک ملک میں سیاسی نظام اور سیاسی جماعتیں جمہوری رویہ نہیں اپنائیں گے اور طاقت کی بجائے دلیل اور سیاسی طور طریقوں کا استعمال نہ ہوگا تب تک نہ صرف باہم بلکہ اداروں کے ساتھ بھی پوری طرح اعتماد کے تعلقات کا قیام ممکن نہ ہوسکے گا اورعدم استحکام کی اس کیفیت سے نکلنا بھی دشوار ہوگا۔

متعلقہ خبریں