Daily Mashriq


بات ابھی نئی نئی ہے

بات ابھی نئی نئی ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کے خلا ف فیصلہ کن کا رروائی کر ے پاکستان کو ہر سال کر وڑوں ڈالر رقم دے رہے ہیں، دہشت گردی کے خلا ف مزید ہل جل کا مطا لبہ تو پر انا ہے مگر ڈونلڈ ٹرمپ نے کر وڑو ں ڈالر کی بات کی ہے ، پر ویزمشرف کے دور میں ڈالر ملنے کی بات ہو تی تھی تو وہ درست تھا کیو ںکہ مشرف نے اپنے بیا نا ت اور کتاب میں بھی تحریر ی طور پر تسلیم کیا ہے کہ اس نے امریکا کو مطلوب افرا د پکڑ پکڑ دئیے اور اس کے عوض اپنی جیبیں بھر یں ،اسی دولت کی ریل پیل سے وہ دنیا کے مہنگے تر ین علا قو ں میں مقیم ہیں اور اپنی رشک کمر کے جلو ے ٹھمکے لگا لگا کر دکھا رہے ہیں ِ، بہر حال ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ الزام پاکستانیو ں کے لیے فکر انگیز ہے ، کیوں کہ اب تک ہر حکومت اور خاص طور پر مقتدر حلقوں سے قوم کو یہ ہی سننے کو ملا کہ دہشت گردی کے خلا ف اپنی جنگ لڑ رہے ہیں مگر ٹرمپ کے بیان سے تو یہ واضح ہو رہا ہے کہ دہشت گردی کے نا م پر لڑی جانے والی جنگ دراصل امریکہ کی جنگ ہے جو پاکستان ڈالر وصول کرکے لڑ رہا ہے اس کی وضاحت قوم کے سامنے ہونا ضروری ہے ۔ جو بھی حقیقت ہو ایک بات تو سچی ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی امریکا نے افغانستان پر حملہ کر کے نہیں بلکہ مشر ف نے اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لیے شروع کی اگر مشرف امریکی مفاد ات کی جنگ اپنے اقتدار کے مفادات کے لئے نہ لڑ تا تو آج یہ دن دیکھنے کو نہ ملتے کہ امریکی صدر کر ایے کے گوریلے ہو نے کا طعنہ دے رہا ہے ۔ اگر چہ امریکا کے لیے کام کر نے والے اور بھی ہیں مگر امریکا کو سب سے زیا دہ بھر وسا مشرف پر ہے چنانچہ مشر ف نے جو یہ تجویز دی ہے کہ پا کستان میں طویل المدت نگر ان حکومت قائم کی جا ئے ایسا انہوں نے امریکی ایما ء پر کیا ہے کیو ں کہ امر یکا نہیں چاہتا کہ پاکستان میں کوئی منتخب حکومت قائم ہو۔ چونکہ امر یکا اور خود پر ویز مشر ف یہ جا نتے ہیں کہ وہ جمہوریت کے ہو تے ہوئے اقتدار میں اور پا کستان کی سیا ست میں نہیں آسکتے اس لیے انہو ں نے یہ راستہ اختیار کرنے کی سعی کی ہے ، پر ویز مشر ف نے امر یکی ایما پر اپنے دور اقتدا ر میں ہر ممکن کو شش کی پاکستان کو سیکو لر ، لبر ل اور روشن خیال قوتو ں کے حوالے کر دیا جائے کیو ں کہ امر یکا جانتا ہے کہ پاکستان کے اسلا می ریا ست ہو نے کے سبب اس کی دال یہا ں نہیں گل سکتی چنا نچہ انہو ں نے پا کستان کو بنگلہ دیش ما ڈل بنا نے کی مساعی کر رکھی ہے۔ کہتے ہیں کہ بندے کی تدبیر پر اللہ بزرگ وبرتر کی تد بیر بھاری ہو تی ہے ، دھر نو ں اور سیاسی جلسے وجلو سو ں اور تقریبا ت میں آزاد خیالی کے لیے گزشتہ پانچ سال کے دوران جتنے بھی جتن کیے گئے وہ سب الٹے ہو چلے ہیں۔موجو دہ حکمر ان پا رٹی اور پی پی کو اقتدار سے آئند ہ باہر رکھنے کے لیے لبر ل قوتو ںکو جس طر ح ابھار ا گیا اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ حکومت کو جا م کر نے اور اقتدار کی نئے انداز میںتبدیلی کے لیے مذہبی قوتو ں کو استعمال کر دیا گیا اور وہ بھی ایک ایسے مسلک کے حوالے سے کیا گیا جو اپنے عقائد میں انتہا پسند ی کے حا مل ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان میں مذہب کی لہر سونامی بن کر اچھل پڑی اور مذہب کی یہ سوچ ایک نئی مگر مضبوط طاقت کے ساتھ ابھر گئی ہے جس سے لبر ل ازم ، آزاد خیالی اور سیکو لر ازم کو شدید جھٹکے آئے ہیں اس نئی سیا سی صورت حال پر امر یکا بھی انگشت بدنداں رہ گیا ہے۔ امر یکا کے تھنک ٹینکرولسن کے تجزیہ نگار مائیکل نے پا کستان میں دینی قوتوں کی جانب سے دھر نے اور ان کے ضمنی انتخابات میں حصہ لینے پرپر یشان کن تجزیہ کیا ہے۔ انہو ں نے امریکی حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ پا کستان پر دباؤ ڈالا جا ئے کہ وہ سخت گیر مذہبی قوتو ں سے چھٹکار ہ حاصل کر نے کے اقدام کر یں ۔ پاکستان میں خانقاہوں سے نکل کر مذہبی شخصیات کا سیا ست میں درآنا اور پھر انتخابی سیاست میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا بذات خود پاکستان میں لبر ل اور آزاد خیال قوتو ں کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے گو پا کستان میں سیا سی طور پر یہ ما حول پید ا کرنے کی کو شش کی گئی تھی کہ مذہبی جما عتو ں کا ووٹ تقسیم کر دیا جائے چنا نچہ خانقاہوں کو سیا ست میں ملوث اسی بنیا د پر کیا گیا تھا مگر بد قسمتی یہ رہی کہ ایسے مذہبی معاملا ت پر ان کو استعمال کیا گیا جس پر پوری پاکستانی قوم یکسو ہے چنا نچہ اب حالا ت یہ لگ رہے ہیں کہ مسلم لیگ ن اور پی پی جن کو معتدل اور سادہ لبرل جما عتو ں کی صف میں شامل کیا گیا تھا اور تحریک انصاف کی اڑان آزاد خیال ولبر ل جما عت کے طورپر ہوئی تھی اب ان قوتو ں کاآئند ہ انتخابات میں خانقاہوں کی قوت سے ہو گا جو پہلے سیاست میں عدم دلچسپی رکھتی تھیں مگر اب وہ پو ری تیاری کررہی ہیں گویا پا کستان کی صحیح جمہوری قوتو ں کی راہ روکتے روکتے سارے ازم ہڈی بن کر گلے میں پھنس گئے ہیں ۔ ان حالا ت کے پیش نظر نظریہ ضرورت کے طر ز پر نظریہ تو از ن لا یا گیا ہے بعض حلقے نو از شریف اور عمر ان خان کے مقدما ت کو نظریہ ضرورت کی بجائے نظریہ توازن کانا م دے رہے ہیں لیکن خانقاہوں کا سیا ست میں وارد ہو نے کی وجہ سے نظریہ تو ازن کی بجائے نظریہ ضرورت کو نئے انداز میں اختراع کیا جارہا ہے کیو ں کہ امریکی تھنک ٹینک نے کہہ دیا ہے کہ خانقاہوں کو روکا جائے ۔ مشر ف جو امریکی مفاد ات میں اب بھی ملوث ہیں انہو ں نے یہ سعی بھی کی تھی کہ پاکستان میں جس طر ح انہو ں نے اقتدار پر قبضہ کیا تھا ایک مر تبہ پھر فوج اقتدار پر قبضہ کر لے مگر اب ایسا نہیں ہو گا کیونکہ پاکستا ن کے تمام قومی ادارے اس بات کے شعور پر آگئے ہیں کہ پاکستان کے تما م قومی اداروں کو اپنی آئینی اور قانو نی حدو د میں رہ کر کام کرنا چاہیے اور آپس میں ٹکر اؤ نہیں پید اکر نا چاہیے ، فیض آباد کا دھر نا اس نہج پر تھا کہ اگر فوج چاہتی تو اقتدار کو اپنے ہاتھ میںلے لیتی مگر اس نے اس بارے میں سوچا بھی نہیں اور مسئلے کا حل تلا ش کرکے سول حکومت کو بالا دستی دلا دی چنا نچہ مشرف اپنے خواب غفلت میںہی مگن رہ گئے ۔

متعلقہ خبریں