ا ے پی این ایس کے وفد کی وزیر اعظم سے ملاقات

ا ے پی این ایس کے وفد کی وزیر اعظم سے ملاقات

آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی ( اے پی این ایس) کے وفد سے گفتگو کے دوران وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ وہ اسمبلی کسی صورت تحلیل نہیںکریں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت چلتی رہنی چاہیے کسی اندرونی یا بیرونی دباؤ پر اسمبلی تحلیل نہیں کریں گے۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی گفتگو میں اس اعلان سے اب یہ بات یقینی ہو گئی ہے کہ انتخابات وقت پر ہوجائیں گے ۔ تحریک انصاف اس امید پر کہ انتخابات قبل از وقت ہو جائیں گے چند ہفتے سے مختلف شہروں میں جلسے کر رہی تھی جسے اس کی انتخابی مہم بھی شمار کیا جا سکتا ہے۔ لیکن مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف نے گزشتہ روز لندن سے روانہ ہونے سے قبل کہا ہے کہ وہ پاکستان جا کر تحریک چلائیں گے ۔ اس طرح ن لیگ کے پاس انتخابی مہم چلانے کے لیے تحریک چلانے کا کافی وقت ہو گا۔ جب کہ تحریک انصاف کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی توانائیاں صرف کرنے کے باعث تھک چکی ہوگی۔ لیکن تحریک انصاف کے عمران خان نے ایک حالیہ جلسے میں اعلان کیا ہے کہ وہ میاں نواز شریف کی تحریک کے خلاف جوابی تحریک چلائیں گے ۔ اگر ایسا ہوا تو میدان میں یہ دونوں پارٹیاں ن لیگ اور تحریک انصاف اہم رہ جائیں گی اور نقصان پیپلز پارٹی کا ہو سکتا ہے جس کی قیادت ان دونوں پارٹیوں کے خلاف صف آرائی کا دعویٰ رکھتی ہے۔ نیب قانون کے بارے میں وزیر اعظم نے کہا ہے کہ یہ ایک برا قانون ہے جو آمر نے سیاسی جماعتوں کو توڑنے کے لیے بنایا تھا۔ لیکن سپریم کورٹ نے اس کا پلی بارگیننگ کا اختیار ختم کر دیا ہے۔ اس قانون کا یہی خاصہ اسے کرپشن کے ملزموں کو اعتراف اور کچھ رقم کی ادائیگی کے بعد کلین چٹ دینے کا سبب تھا۔ اگر اس بل میں بہتر تبدیلی آ گئی ہے تو اسے محض اس لیے مطعون نہیں کیا جا سکتا ہے کہ یہ قانون ایک آمر نے سیاسی جماعتوں کو نوازنے کے لیے بنایا تھا۔ اب جب نیب کسی ملزم کو معاف کردینے کی سکت سے محروم ہو گیا ہے تو اسے کرپشن کے انسداد کے لیے جاری رہنا چاہیے۔ اگر پلی بارگین ختم کرنے کے باوجود بھی اس میں کوئی سقم موجود ہے تو اسے دور کرنا چاہیے تاکہ احتساب کا عمل اپنے تمام تر تقاضوں کے مطابق جاری رہے۔ وزیر اعظم کے اس استدلال سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا کہ عدالتیں فیصلوں کے اثرات بھی دیکھیں اور ایسے فیصلے نہ کریں جن سے عدم استحکام پیدا ہو۔ انہوں نے کہا کہ ملکوں کے لیے معیشت اہم ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ’’عوام خود فیصلہ کریں کہ 28جولائی کو (میاں نوا زشریف کی نااہلی) کے فیصلے سے ملک کو فائدہ ہوا یا نقصان۔ عدالتوں کو اپنے فیصلوں کے اثرات بھی دیکھنے چاہئیں۔‘‘ عدالتیں فیصلے آئین اور قانون کے مطابق دیتی ہیں اور یہی عدالتوں کا منصب ہے۔ معیشت کا نظا م چلانا حکومت کا کام ہوتا ہے ‘ عدالتوں کے فیصلوں کو من وعن تسلیم کرنے سے ہی معاشرے آگے بڑھتے ہیں کہ اس طرح انصاف کی پاسداری کے اصول کو تقویت پہنچتی ہے۔ میاں نواز شریف نے 28جولائی کے فیصلے سے پہلے بار بار قوم کو یقین دلایا تھا کہ وہ عدالت کے فیصلے کو من و عن تسلیم کریں گے۔ عدالتوں کے فیصلوں کو تسلیم کرنے سے معاشرے مضبوط ہوتے ہیں۔ انصاف سے معاشرے کو فائدہ ہی ہوتا ہے کہ عدل کی قدر سارے معاشرے میں سرایت کرتی ہے۔ معاشروں کو نقصان انصاف کے فیصلے تسلیم نہ کرنے سے ہوتا ہے ۔ عدل پر انحصار بے یقینی کا شکار ہو جاتا ہے ۔ ایک طرف وزیر اعظم کہتے ہیں کہ ان کی جماعت میچور ہو چکی ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ سابق وزیر اعظم کی نااہلی کے فیصلے کے تین دن کے اندر نیا وزیر اعظم منتخب کر لیا گیا ۔ یعنی اس فیصلہ سے ملک میں کوئی عدم استحکام پیدا نہیں ہوا۔ جس جماعت کی حکومت تھی اسی جماعت کی حکومت قائم رہی ۔ دوسری طرف وہ اشارہ دے رہے ہیں کہ اس فیصلے کے باعث ملک کی معیشت کو نقصان پہنچا۔ سٹاک مارکیٹ میں مندی ن لیگ کے کیمپ سے پھیلائے جانے والے اس تاثر کے باعث آئی کہ حکومت کے خلاف کوئی سازش ہو رہی ہے اور تیسری قوت آنے والی ہے۔ فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ بارہا یہ یقین دہانی کرا چکے ہیں کہ وہ جمہوریت کی بالادستی کے حامی ہیں اور فوج کو سیاسی اقتدار سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ دھرنے اس وجہ سے ہوئے کہ انتخابی اصلاحات سے متعلق قانون کے ختم نبوتؐ کے بارے میں گوشوارے میں سیاسی حکومت نے ترمیم کر دی تھی۔ روپے کی قدر میں یکلخت کمی کی وجہ سے جو بحران پیدا ہوا ہے وہ ن لیگ کی حکومت کے سابق وزیر داخلہ کی ڈالر کی قیمت کو غیر حقیقی قیمت پر برقرار رکھنے کی پالیسی کی وجہ سے پیدا ہوا۔ اگر حکومت بتدریج ڈالر کی قدر میں اضافہ کرتی تو یہ بحران پیدا نہ ہوتا۔ اس میں عدالتی فیصلے کے اثرات کیسے تلاش کیے جا سکتے ہیں۔ اب میاں نواز شریف نے ایک بار پھر سیاسی تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔ وہ اس سے پہلے بھی راولپنڈی سے لاہور کے سفر کے دوران تحریک چلانے کا اعلان کر چکے ہیں جس کے لیے اگلا پروگرام انہوں نے لاہور پہنچ کر دینے کا اعلان کیا تھاجو انہوں نے نہیں دیا۔ اب جب وفاق میں اور بڑے صوبے پنجاب میں ان کی میچور پارٹی کی حکومت ہے اور اس پارٹی کے صدر کی سیاسی تحریک سے عدم استحکام پیدا ہوتا ہے یا ملک کو کوئی نقصان ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری مسلم لیگ ن کی حکومت ہی کی ہو گی۔ عدلیہ کی نہیں جس کا کام قانون کے مطابق انصاف کے فیصلے کرنا ہے۔ 

اداریہ