Daily Mashriq


ہم نہیں سدھرنے کے!!

ہم نہیں سدھرنے کے!!

پاکستان کی سیاست کے ماتھے پر آج کل جو تیوریاں ہیں ان کی تحریر آج تک پاکستان میں دیکھی نہیں گئی۔ ہم سوچتے ہیں شاید ہماری تقدیر بدلنے والی ہے اور وہ جن کے محبوب اس ساری صورتحال میں صفائی کا شکار ہو رہے ہیں ان کا خیال ہے کہ معاملات میں ایسا بگاڑ کبھی پیدا ہی نہیں ہوا تھا جو اب دکھائی دیتا ہے۔ میں سوچتی ہوں کہ شاید امکانات میں اتنا تنوع ہے کہ ہمیں یہ سمجھنا مشکل ہو رہا ہے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔ کیا درست ہے ‘ کیا اچھاہے اور کیا برا۔ شاید سوچ کی اس الجھن نے کسی بات کو ایک حتمی شکل اختیار کرنے سے روک رکھا ہے۔ شہر اقتدار میں جذبات کی مختلف لہریں ہچکولے لے رہی ہے۔ کسی کے چہرے پر پریشانی ہے اور کوئی سینہ ٹھونک کر کہتا ہے میں محافظ بنوں گا اور یقین مانئے کہ کسی کی بات کا یقین کرنے کو دل نہیں چاہتا۔ ہم نے بحیثیت قوم اتنے دھوکے کھائے ہیں کہ ہم ان کی باتوں کا یقین کر ہی نہیں سکتے۔ یہ الگ بات ہے کہ پھر بھی ہم انہی کی صفوں میں کھڑے رہتے ہیں جہاں ہم سچ سننے سے پہلے کھڑے تھے اور یہ ایک ایسا کمال عمل ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔ دنیا میں موجود انسان کی یہ خصلت بنائی گئی ہے کہ وہ جہاں سے دھوکہ کھائے جہاں سے نقصان اٹھائے جس جانب سے اسے تکلیف پہنچے وہ ان راستوں سے ‘ ان لوگوں سے بچ کر چلنا چاہتا ہے۔ لیکن ہم وہ کمال لوگ ہیں شاہ پرستی تو ہمارے مزاج کا حصہ ہے ہی لیکن ہم دھوکہ دینے والوں کو‘ ڈاکوئوں اور لٹیروں کو دیکھتے بھالتے‘ انہیں اپنی وفاداری کا یقین دلاتے ہیں۔ انہیں کہتے ہیں کہ ہم جانتے ہیں کہ تم اپنے اپنے بدعنوانی کے دانت نکوسے‘ پنجے پھیلائے ہمارے ہی جسم اور وسائل ادھیڑنے کو تیار بیٹھے ہو پہلے بھی کرتے رہے ہو اور اب بھی تمہاری آنکھ میں کوئی حیا دکھائی نہیں دیتی لیکن ہم اس سب کو نظر انداز کریں گے۔ تم ہمیں ایک بار پھر لوٹو ہم اس کے لئے تیار ہیں اور ہمیں اپنے ہی برباد ہو جانے کا غم اتنا شدید نہیں کہ ہم تم جیسوں کے ساتھ اپنی وفاداری کا وعدہ توڑ دیں۔ ہم اپنے ہی جسموں کو خود اپنے ہاتھوں سے نوچ کر اقتدار کے پنجروں میں بند ایسے خون آشام درندوں کے سامنے پھینکتے رہتے ہیں تاکہ ان کے شکم سیر ہوتے رہیں۔کیا کمال حیرت ہے کہ چیف آف دی آرمی سٹاف سینٹ کمیٹی کے سامنے تشریف لے گئے اور انہیں یہ یقین دلایا کہ فوج کو اقتدار سنبھال لینے میں‘ صدارتی حکومتی نظام رائج کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں اور سینیٹر حضرات کے چہرے کا اطمینان دیدنی تھا۔ چیف آف آرمی سٹاف کو یہ بھی کہنا پڑا کہ اگر سیاست دان کسی صورت دھرنے کے معاملات میں فوج کی کسی قسم کی موجودگی ثابت کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو باجوہ صاحب استعفیٰ دے دیں گے۔ وہ سیاستدان جو پرائیویٹ میڈیا چینلز پر اس حوالے سے اپنے اطمینان کا اظہار کر رہے تھے ان پر جانے کیوں مجھے افسوس ہو رہا تھا۔ کسی نے نہ یہ سوچا کہ وہ اس ملک کے منتخب نمائندے ہیں اور نہ ہی انہیں خود سے وابستہ ان گنت لوگوں کی خواہشات اور جذبات کا خیال ہے۔ انہیں تو بس یہ معلوم کرنا ہے کہ ان کی د کانداری میں کسی قسم کی رخنہ اندازی ہونے کا امکان تو نہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ کوئی ان کی بساط الٹ دینے کے درپے ہے۔ انہیں یہ بھی احساس نہ ہوا کہ یہ ملک جس کی تقدیر کے وہ مالک بنے بیٹھے ہیں اس میں ایک عام آدمی ان سے کہیں زیادہ افواج پاکستان کے کردار پر یقین رکھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ سیاستدان کسی بھی صورت کوئی اور معاملات میں شامل ہونے کی مکمل اہلیت رکھتے ہیں جبکہ فوج اگر کوئی وعدہ کرے گی تو انہیں اپنے کہے کا پاس ہوگا۔ وہ اگر کسی معاملے میں ثالث ہوں گے تو یہ ثالثی اور اس کے نتیجے میں ہونے والا فیصلہ انہیں ہر بات پر مقدم محسوس ہوگا۔ جس بات کو مسلم لیگ کے سیاستدانوں نے فوج کے گلے کا طوق بنانے کی کوشش کی اور اس کے ذریعے اپنے نا اہل سیاستدان کو دوبارہ سسٹم میں لانے کو بے تاب ہیں اس کی سچائی کے حوالے سے کیا بات کی جاسکتی ہے۔ مسلم لیگ(ن) ملک میں صدارتی نظام حکومت چاہتی ہے تاکہ میاں صاحب کو ملک کا صدر بنایا جاسکے۔ انہیں صدارتی استثنیٰ حاصل ہوسکے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ملک میاں صاحبان اور ان جیسے سیاستدانوں کی جاگیر ہے کہ وہ ہی اس کے مالک رہ سکتے ہیں اور کوئی اور اس پر حاکم ہونے کی اہلیت نہیں رکھتا۔ اصل میں تو ان سیاستدانوں کے دلوں میں اپنی باری آجانے کا خوف بیٹھا ہے۔ وہ تو پریشان ہیں کہ ایک چور پکڑا گیا تو کوئی بھی نہ بچ سکے گا اور مسلم لیگ(ن) کے لیڈران کی اکثریت تو مافیا کو پالنے والے لوگ ہیں۔ یہ میرٹ کو کبھی نہیں دیکھتے تبھی تو ہر بار ایک نیا نام سامنے آتا ہے۔کتنی ہی مثالیں ہیں جن کی ایک لمبی فہرست تیار ہوتی جا رہی ہے۔ کتنے ہی لوگ ہیں جن کا نام آتے ہی یاد آتا ہے کہ وہ کہاں سے اٹھے اور کہاں تک پہنچ گئے۔ لیکن ہم ابھی منتظرین میں شامل ہیں اور ہمیں کسی بات کا کوئی احساس نہیں۔ ہم بس بیٹھے ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ کل کونسا بل کہاں سے پیسے ادھار لے کر ادا کرنا ہے۔ بچے کی فیس کیسے دینی ہے۔ ہمیں نواز شریف یاد ہے نہ جہانگیر ترین‘ ہاں ووٹ مسلم لیگ(ن) کے پیروکار مسلم لیگ کو دیں گے اور تحریک انصاف والے تحریک انصاف کو اور عدالتوں کا مذاق بنتا رہے گا۔

متعلقہ خبریں