Daily Mashriq

اخلاقیات پر مبنی مواد کی نصاب میں شمولیت

اخلاقیات پر مبنی مواد کی نصاب میں شمولیت

خبر کے مطابق صوبائی محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم نے فیصلہ کیا ہے کہ تعلیمی نصاب میں اخلاقی مضامین کو جگہ دی جائے گی۔ ان میں زیادہ تر شہری زندگی سے متعلق موضوعات شامل ہیں۔ جیسے دیواروں ، واش رومز میں لکھائی نہ کرنا، عام جگہوں پر پیشاب کرنے اور کوڑا کرکٹ پھینکنے سے گریز کرنا ، پبلک مقامات پر قطار کی پابندی کرنا اور خاموشی اختیارکرنا،خواتین، بچوں اور بزرگوں کیساتھ احترام سے پیش آنا۔ غلط پارکنگ نہ کرناوغیرہ کے علاوہ بھی کافی موضوعات ہیںکہ جنہیںمحکمہ تعلیم نصاب کاحصہ بنانا چاہتا ہے ۔یقینا یہ ایک اچھی اپروچ ہے کیونکہ پرائمری سطح پر بچے کا ذہن کسی خالی سلیٹ جیسا ہوتا ہے کہ جس پر جو بھی لکھ دیا جائے وہ نقش انمٹ ہوجاتا ہے اور یہ نقش باقی کی ساری زندگی انسان کے ساتھ چلتا رہتا ہے بلکہ بچپن ہی کی یہ باتیں اور اسباق انسان کی شخصیت اور کردار کی ساخت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ بچپن کی کسی کلا س میں ایک کہانی پڑھی تھی کہ جس میں ایک بچہ کیلے کا چھلکا زمین پر گراتا ہے جس پر پھسل کر دوسرا بچہ زخمی ہوجاتا ہے ۔ اس کہانی کا اثر آج بھی ذہن میں نقش ہے ، کہیں کیلے کا چھلکا راستے میں پڑا ملے تو ہٹادیتے ہیں۔گویا پرائمری کی کلاسیں قوم کے اجتماعی شعورکو بنانے میں اہم کردارادا کرسکتی ہیں۔ ہمارے تعلیمی نظام کو اس وقت دوہری ذمہ داری اد اکرنی ہے۔ ایک تو اس نے آنے والے دنوں میں قوم کی ضرورتوں کو مدنظر رکھ کر گریجویٹس فراہم کرنے ہیں اور دوسری ذمہ داری یہ ہے کہ اسی نظام تعلیم نے اچھے شہری بھی دینے ہیں ۔ یہ بات بھی ہمیں تسلیم کرلینی چاہیئے کہ ہمارے سماجی نظام کوبہت سی بیماریاںلگ چکی ہیں کہ جن کا علاج بہرحال بہت ضروری ہے ۔جھوٹ ، دھوکہ ، فریب ، چھوٹی موٹی کرپشن تو ہم اپنے اردگرد سے بڑی آسانی سے سیکھ لیتے ہیں ۔باپ خود بچے کو یہ کہہ کر جھوٹ سکھا رہا ہوتا ہے کہ جائودروازے پر کھڑے انکل سے کہو کہ بابا گھر پہ نہیں ہے ۔ریڑھی والا چھپ چھپا کر گندے ٹماٹر شاپر میں ڈال رہا ہوتا ہے ۔ اورتو چھوڑیئے ہم تو سماجی زندگی کے ایک ایسے موڑ پر آچکے ہیں کہ جہاں نہ تو حجرے ہیں نہ ہی بیٹھکیں نہ ہی چوپالیں کہ جن سے ماضی میں بچہ خودکار طریقے سے سماجی رویوں کو سیکھ لیتا تھا۔ اب تو گھروں میں ایک ساتھ رہ کر ایک دوسرے سے ملاقات نہیں ہوتی ۔ الیکٹرانک اور سوشل میڈیانے انسان کو انسان سے دور کررکھا ہے ۔ اس وقت میڈیا اور سوشل میڈیا ہی استاد اور کتاب کا کردار ادا کررہا ہے ۔ماضی کا ہمارا سسٹم ایسا تھا کہ اس میں کوئی بچہ سماجی اقدار ، روایات اور تقاضوں کو اپنی عمر کے ساتھ ساتھ سیکھتا تھا لیکن سمارٹ فون میں دنیا جہان موجود ہے ۔نہ ہی اس پر کوئی حد مقرر ہے کہ کون کتنا اور کیاکچھ دیکھ سکتا ہے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا جن کی ایجاد ہے انہوں نے اپنی سماجی حدود کو مدنظر رکھ کر اس میڈیا کو پروان چڑھا یا ہے جبکہ ہم اسے جوں کا توں اٹھا کراپنے یہاں لے آئے ہیں ۔ اور ہم نے اس کے لیے کوئی کنورٹر بھی استعمال نہیں کیا ۔ بازار میں سیکنڈ ہینڈجاپانی الیکٹرانک کی اشیاء آتی ہیں ۔ جاپان میں لوکل استعمال کے لیے 110وولٹ بجلی کی اشیاء بنائی جاتی ہیں جبکہ ہمارے یہاں 220وولٹ بجلی کی سپلائی ہوتی ہے سو کوئی بھی 110الیکٹرانک چیز چلانے کے لیے ہم کنورٹر استعمال کرتے ہیں ورنہ وہ چیز چل جاتی ہے ۔میڈیا اور سوشل میڈیا میں یہ معاملہ الٹا ہے کہ وولٹیج 440ہے اور ہم اسے 220پر چلا رہے ہیں ۔ اب اس کا نتیجہ کوئی دھواںدار دھماکہ ہی ہوسکتا ہے ۔ میرے خیال میں اس کا کنورٹر صرف اور صرف تعلیم اور نظام تعلیم ہی میں مضمر ہے ۔ کیونکہ ہم چین کی طرح اتنے طاقتور نہیں کہ فیس بک ، ٹیوئیٹ اور یوٹیوب کے متبادل قومی سوشل میڈیا بنا کر دے دیں سو جب اسی امپورٹڈ میڈیا پر چلنا ہے تو اپنے سسٹم کی بنیاد کو مضبوط بنانا ہے ۔ صوبائی حکومت جو سچ بول رہی ہے اس کو قابل تحسین سمجھتے ہوئے یہ گزارش بھی کرتا ہوں کہ اس سلسلے میں مزید تحقیقی انداز کی سٹڈی ہونی چاہیئے اور موضوعات کا تعین کیا جائے کہ جو ہم آئندہ دنوں میں اپنے بچوں کو پڑھاسکیں ۔ اس ضمن میں سب سے اہم بات ٹیکسٹ بک بورڈ کی ہے کہ جس میں کتاب ٹھیکیداری نظام پربنائی جاتی ہے ۔ پبلشر ز کوکتاب بنانے کا کہہ دیا جاتا ہے اور پھر پبلشروں کی جمع کروائی گئی کتابوں میں مقابلہ کیا جاتا ہے ۔ ان کتابوں کے مقابلے کا معیار کیا ہوتا ہے اس پر پھر کبھی بحث کریں گے ۔ فی الحال اتنی گزارش ہے کہ پبلشر مخصوص لوگوں سے کاروباری بنیادوں پر ، مکھی پر مکھی مارنے کے انداز سے کتاب لکھواتے ہیں جو تخلیقی کیفیات سے عاری ہوتی ہے ۔ میرا موقف یہ ہے کہ ٹیکسٹ بک بورڈ نے جو اتنے سارے سبجیکٹ سپیشلسٹ رکھے ہیں انہی کی زیرنگرانی تخلیقی صلاحیتوں کے مالک لوگوں کی ٹیم بنا کر نصاب سازی کرنی چاہیئے۔جبکہ رائٹرز کی رائلٹی کا بھی قانون ہونا چاہیئے کیونکہ پبلشر چند ہزار دے کر رائٹر کا کام خرید لیتا ہے اور خود کروڑوں کماتا ہے ، کم از کم نصاب سازی میں تو اس قسم کے سرمایہ دارانہ نظام کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیئے ۔بات کو سمجھنے کے لیے عرض ہے کہ صرف یہ جملہ ’’اتفاق میں برکت ہے ‘‘کسی بچے کے کردار اور شخصیت پر اتنا اثر نہیں ڈال سکتا جتنا فرق اس بابے کی کہانی ڈال سکتی ہے جو اپنے بچوں کو لکڑیوں کی مدد سے اتفاق کی اہمیت سکھاتا ہے ۔بس یہی فرق ہے تخلیقی اور غیر تخلیقی نصاب میں۔بہرحال محکمہ ابتدائی وثانوی تعلیم کا نصاب میں اخلاقی موضوعات کا شامل کرنے کا فیصلہ قابل ستائش ہے ۔

اداریہ