Daily Mashriq

ہم نے خود آگ لگائی ہے چمن میں اپنے

ہم نے خود آگ لگائی ہے چمن میں اپنے

بزرگوں نے کیا غلط کہا ہے کہ چھری سونے کی ہو تو اسے پیٹ میں نہیں اُتارنا چاہئے؟ بات تو درست ہے کہ چھری نے تو زخم دے دینا ہے اور زخم مہلک بھی ہوسکتا ہے، جان کے لالے بھی پڑ سکتے ہیں مگر اسے کیا کیا جائے کہ یہ کم بخت ناک چیز ہی ایسی ہے جسے اونچا رکھنے کیلئے لوگ جان بوجھ کر سونے کی چھری اپنے پیٹ میں اُتارنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ اس لئے اصولی طور پر خیبر پختونخوا اسمبلی میں جس میرج بل کی منظوری دیدی گئی ہے اس پر اسمبلی ارکان کو خراج تحسین پیش کیا جانا چاہئے۔ بل کے مطابق ولیمہ پر مہمانوں کی تواضع چاول، ایک سالن، ایک خشک ڈش اور سویٹ ڈش، بارات اور نکاح پر صرف مشروبات سے کی جائے گی، رات گیارہ بجے تقریبات ختم کرنا لازمی قرار، شادی پر20 ہزار سے زائد مالیت کا تحفہ نہیں دیا جا سکے گا، اونچی آواز میں میوزک پر بھی پابندی ہوگی۔ خلاف ورزی پر ایک لاکھ جرمانہ، 3 ماہ قید یا دونوں سزائیں مل سکتی ہیں۔ یہ سب درست مگر اس پر یہی کہا جاسکتا ہے کہ

کچھ تم کو بھی عزیز ہیں اپنے سبھی اصول
کچھ ہم بھی اتفاق سے ضد کے مریض ہیں
ہم نے بھی من حیث القوم قسم کھا رکھی ہے کہ خود ہمارے مفاد میں حکومت کوئی اچھا اقدام اُٹھائے تو اس کی ہم نے بہر صورت مخالفت کرنی ہے۔ اب یہی دیکھ لیجئے کہ رحیم یار خان میں شادی کی ایک بارات میں باراتیوں نے مقامی افراد پر ڈالرز، ریال اور موبائل فونز نچھاور کرکے ایک انوکھی روایت قائم کردی۔ جس کے بعد توقع یہی کی جا سکتی ہے کہ جس گاؤں سے دولہا والوں کا تعلق ہے ان کی دیکھا دیکھی دیگر لوگ بھی اس روایت کو آگے بڑھائیں گے بلکہ ہو سکتا ہے کہ ناک اونچی کرنے کیلئے آنے والے دنوں میں کسی بارات میں ڈالروں اور ریالوں کے ساتھ ساتھ لیپ ٹاپ کی بارش کرکے نیا ریکارڈ قائم کر دیں۔ چلیں جن لوگوں نے یہ حرکت کر کے اپنی جھوٹی شان بڑھائی ان کے حوالے سے کیا بات کی جائے، تاہم جس بھیڑچال کے ہم شکار ہیں اسی کا خوف دامن گیر ہے یعنی اب جس کا بس نہ بھی چلے، جو ایسی بدمستی کی طاقت نہیں بھی رکھتے، وہ بھی برادری میں کسی سے پیچھے رہ جانے کے خوف سے قرض لیکر ان خرخشوں کا اہتمام کرنے پر مجبور ہوں گے۔یہی وہ غلط رویہ ہے جس نے آج معاشرتی طور پر ہمیں اس مقام پر لاکھڑا کیا ہے کہ ہم اپنی استطاعت سے بڑھ کر بلاوجہ خود کو زیربار کرتے رہتے ہیں اور اگر کم ازکم خیبر پختونخوا کی سطح تک صوبائی اسمبلی نے ایک اچھا اور قابل تقلید اقدام کرتے ہوئے عوام کو سیدھی راہ دکھانے کی کوشش کی ہے تو اس پر عمل کرنے میں کیا حرج ہے، مگر جھوٹی انا، اور ہندکو زبان کے مطابق ’’نک نموش‘‘ کو نقصان سے بچانے کیلئے ہم اسلام کے زریں اصولوں کو بھی پس پشت رکھتے ہوئے محض نمائش کی غرض سے شادی بیاہ کے موقع پر اپنی چادر سے پاؤں باہر نکال کر نام کمانے کیلئے اپنی ہستی لٹا بیٹھتے ہیں، بقول نجیب احمد
پتوں پہ رخصتی کی رسومات قرض تھیں
ظالم ہوا کے ہاتھ میں شہنائی آگئی
کیا دور تھا جب شادی بیاہ کے مواقع پر نہایت سادگی کا اظہار کیا جاتا تھا۔ کیا امیر، کیا غریب، بارات اور ولیمے میں پلاؤ (چنا میوہ اور گوشت)، قورمہ (دال چنا اور گوشت کا سالن) اور میٹھے چاول سے مہمانوں کی تواضع کی جاتی تھی، جسے عوامی زبان میں تین چھتی روٹی بھی کہتے تھے۔ یہ اخراجات آسانی سے برداشت بھی کر لئے جاتے تھے۔
اب صورتحال کہاں پہنچ چکی ہے اس بارے میں کچھ کہنا تضیع اوقات ہی ہے کیونکہ اب تو لوگوں نے اپنے گھروں، گلی محلوں میں تقاریب کے انعقاد کو خیرباد کہہ دیا ہے اور شہر شہر بلکہ بڑے قصبوں میں بھی شادی ہال کھل چکے ہیں اور حالات اس نہج پر جا پہنچے ہیں کہ ان شادی ہالوں میں تقاریب کیلئے تاریخیں بھی نہیں ملتیں۔ یہاں تک کہ شادی کی تاریخ مقرر کرنے کیلئے بھی شادی ہالوں کی انتظامیہ سے پہلے تاریخ لینی پڑتی ہے۔اس وقت جس میرج بل میں تقریبات رات گیارہ بجے ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے یہ بھی کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ بعض مقامات پر تو دس بجے رات کو ہی شادی ہال والے کچھ روشنیاں کم کرکے الرٹ جاری کر دیتے ہیں کہ بس ایک گھنٹہ مزید رہ گیا ہے جبکہ پنجاب سے ملنے والی خبروں کے مطابق وہاں شادی ہالوں والے بڑی ڈھٹائی سے یہ کہتے رہے ہیں کہ رات گیارہ بجے کے بعد عاید کیا جانے والا جرمانہ ہم ادا کریں گے۔ اسی طرح پہلے بھی شادیوں پر ون ڈش کی پابندی لگائی جا چکی ہے مگر رفتہ رفتہ یہ پابندی لوگوں نے جوتے کی نوک پر رکھنا شروع کر دی اور پھر جس کا جتنا بس چلا اس نے اپنی استطاعت کے مطابق ڈشوں کی تعداد بڑھائی۔ اسلام نے تو شادی کو نہایت ہی آسان بنا رکھا ہے مگر برصغیر میں مسلمانوں نے غیر مسلموں کے ساتھ صدیوں کے سفر میں ان کی بری رسمیں اپنالی ہیں اور انہیں عین اسلام قرار دے کر اپنے لئے مشکلات بڑھا دی ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ صوبائی اسمبلی نے عوام کے بہتر مفاد میں قانون بنا تو لیا ہے مگر عمل کون کرے گا۔ اس بارے میں ماضی کے حالات کو نظر میں رکھا جائے تو پھر توقعات پر سوال اُٹھتے دکھائی دے رہے ہیں تاہم پھر بھی اُمید پر ہی تو دنیا قائم ہے۔ بقول اقبال عظیم
ہم نے خود آگ لگائی ہے چمن میں اپنے
بے سبب گردش ایام کو الزام نہ دے

اداریہ