Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

ابو عثمان مدینیؒ نے کتاب النشان‘‘ میں لکھا ہے کہ بغداد میں ایک شخص کو کتوں کا بہت شوق تھا۔ ایک مرتبہ وہ کسی ضرورت سے ایک گائوں کے لئے روانہ ہوا تو اس کے کتوں میں سے کوئی کتا جس کو وہ بہت چاہتا تھا اس کے ساتھ ہولیا۔اس گائوں کے لوگ اس شخص سے عداوت رکھتے تھے۔

چنانچہ گائوں کے لوگوں نے جب اس شخص کو تنہا اور نہتا دیکھا تو اس کو پکڑ لیا اور گھر میں لے گئے۔ گائوں کے لوگوں نے اس شخص کو ہلاک کردیا اور اس کو ایک سوکھے ہوئے کنویں میں ڈال کر اس پر ایک تختہ رکھ کر اس کو مٹی سے چھپا دیا اور کتے کو مار مار کر وہاں سے بھگا دیا۔ کتا مار کھا کر گھر سے نکلا اور اپنے مالک کے گھر پہنچ کر خوب زور زور سے بھونکنے لگا مگر کسی نے اس کی پروانہ کی۔ اتفاقاً ایک دن اس کے مالک کے قاتلوں میں سے ایک شخص کا اس گھر کے سامنے سے گزر ہوا۔ کتے نے فوراً اس شخص کو پہچان کر اس کا دامن پکڑ لیا اور اس پر خوب بھونکنا شروع کردیا۔ اسی شور و غل کی آواز اندر گھر میں گئی تو مقتول کی والدہ گھر سے باہر آگئی۔ اسے علم ہوا کہ یہ تو ان لوگوں میں سے ایک ہے جو میرے بیٹے کے دشمن تھے اور اس کی تلاش میں رہتے تھے‘ ضرور اسی نے میرے لڑکے کو قتل کیا ہے۔

ادھر کوتوال شہر کو اس واقعے کا علم ہوا تو وہ بھی جائے وقوعہ پر آگیا۔ چنانچہ لوگ دونوں (کتا اور اس شخص) کو خلیفہ راضی کے پاس لے گئے۔

مقتول کی ماں نے ملزم پر استغاثہ دائر کیا۔ خلیفہ راضی نے ملزم کو زد و کوب کرایا مگر اس نے کسی طرح بھی جرم کا اقرار نہ کیا۔ آخر کار خلیفہ نے اس کو قید خانہ میں بھیج دیا۔ چنانچہ وہ کتا بھی قید خانہ کے دروازہ پر جا پڑا۔ ایک دن خلیفہ نے اپنے ایک غلام کو حکم دیا کہ ملزم اور کتے کو چھوڑ دیا جائے اور تم ان دونوں کے پیچھے پیچھے جائو اور جب یہ شخص اپنے گھر میں داخل ہو تو تم بھی کتے کو ساتھ لے کر اس کے گھر میں جائو اور پھر دیکھو کیا معاملہ پیش آتا ہے اور جو بھی بات ہو اس کی فوری مجھے اطلاع دو۔

چنانچہ خلیفہ کی ہدایت پر عمل کیاگیا۔ جب ملزم اپنے گھر میں داخل ہوا اور اس کے پیچھے غلام اور کتا بھی گھر میں داخل ہوگئے تو غلام نے گھر کی تلاشی لی۔ مگر اسے وہاں ایسی کوئی چیز نظر نہ آئی جو اس راز سے پردہ ہٹا سکتی۔ مگر کتے کی یہ کیفیت تھی کہ وہ برابر بھونک رہا تھا اور کنویں کی جگہ کو اپنے پیروں سے کروندتا جاتا تھا۔ غلام نے جب کتے کی اس حرکت پر غور کیا تو اس کو حیرت ہوئی۔ چنانچہ اس نے خلیفہ کو اس حال کی اطلاع دی۔ خلیفہ نے اس جگہ کو کھودنے کا حکم دیا۔ جب وہ جگہ کھودی گئی تو کنواں ظاہر ہوا اور اس کنویں سے مقتول کی لاش برآمد ہوئی۔ چنانچہ خلیفہ کے کارندے اس کو پھر پکڑ کر خلیفہ کے پاس لے گئے۔ وہاں پر اس نے کافی مار کھانے کے بعد جرم کا اقرار کیا اور اپنے ساتھیوں کے نام بھی بتائے۔ چنانچہ خلیفہ نے اس کو قصاصاً قتل کرا دیا اور بقیہ ملزمان کو پکڑنے کے لئے کارندے روانہ کئے۔

(حیات الحیوان ‘ جلد د وم)

متعلقہ خبریں