Daily Mashriq

حیات آباد کے عوامی مسائل بھی کم نہیں

حیات آباد کے عوامی مسائل بھی کم نہیں

مشرق ٹی وی کی جانب سے عوام کے مسائل اُجاگر کرنے‘ حکام اور عوام میں رابطے اور پل کا کردار ادا کرنے کا جو نیا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اس سے عوام الناس اور حکام دونوں کو مسائل سامنے لانے‘ مسائل سے آگاہی اور اس ضمن میں سرکاری اقدامات کا تذکرہ سمیت سوال وجواب کی صورت میں تجاویز اور ممکنہ حل تجویز کرنے کی سہولت ایک پلیٹ فارم پر ممکن ہو جاتی ہے جسے عوام اور حکام دونوں کی جانب سے نہ سراہنے کی کوئی وجہ نہیں۔ مشرق گروپ کے چیف ایڈیٹر سید ایاز بادشاہ کی جانب سے متحدہ مجلس عمل کے دور حکومت میں پشاور کے مسائل کو اُجاگر کرنے اور ان کے حل کی سعی کے طور پر ’’پشاور بچاؤ‘‘ کے نام سے ایک تحریک شروع کی گئی تھی جس میں شہر کے عمائدین اور میڈیا کے نمائندے بھی شامل تھے مگر اس وقت کی حکومت یہ غیرسیاسی پلیٹ فارم بھی برداشت نہ کرسکی حالانکہ یہ مکمل طور پر ابلاغیاتی اور سول سوسائٹی کا مشترکہ پلیٹ فارم تھا جس کا مقصد عوام کے مسائل کو اُجاگر کرتے ہوئے عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان پل کا کردار ادا کرنا تھا۔ ہم سمجھتے ہیں سوشل میڈیا کے آنے سے رابطوں اور اشاعت کا جو انقلاب آیا ہے جہاں مسائل ومعاملات کو انگلی کی پوروں پر سیکنڈوں میں منظرعام پر لایا جاتا ہے اس کے باوجود ٹی وی اور خاص طور پر مطبوعہ مواد کی اہمیت اور موثر ہونے کی پوری گنجائش موجو ہے۔ ٹی وی اور اخبار کا ذمہ دارانہ کردار اور ان پر عوام کا اعتماد ہی ان کی اس ذمہ داری میں اضافے کا باعث ہے کہ وہ عوام اور حکام میں پل کا کردار ادا کریں۔ صوبائی دارالحکومت کی جدید متصور ہونے والی بستی حیات آباد میں مشرق ٹی وی کے پلیٹ فارم پر جس طرح اہم محکموں کے اعلیٰ سرکاری حکام‘ منتخب نمائندوں اور عوامی نمائندوں کا آمنے سامنے مکالمہ کرایا گیا اس کا سب سے مثبت پہلو ہی یہ ہے کہ پی ڈی اے‘ پولیس اور پیسکو کے حکام اور عوام ایک اچھے ماحول میں ایک غیرجانبدار فورم پر اکٹھے ہوئے اور اپنے مسائل اور موقف بیان کیا۔ ایک دوسرے کی سنی‘ مسائل اُجاگر کرنے‘ مسائل سے آگاہی اور حل کی راہیں تلاش کرنے کی سعی کی گئی اور یہی اس پروگرام کا مقصد اور کارفرما جذبہ تھا اور رہے گا۔ اسی پلیٹ فارم سے نوتھیہ میں فورم میں سامنے لانے پر اگلے ہی دن تجاوزات کیخلاف کارروائی اور دیگر مسائل بارے اصلاح احوال کی مساعی حکام کی مستعدی اور ذمہ دارانہ کردار کا مظاہرہ ہے جسے قدر کی نگاہ سے دیکھنا فطری امر ہے۔ ہمیں بجاطور پر توقع ہے کہ حیات آباد کے فورم میں سامنے آنے والے مسائل پر متعلقہ اداروں کے سربراہان بھی اسی طرح کے کردار وعمل کا مظاہرہ کریں گے۔ جہاں تک حیات آباد کے مسائل کا تعلق ہے شہر کا نسبتاً بہتر اور مہنگا علاقہ کہلائے جانے کے باوجود اس کے مکینوں کی شکایات دیگر علاقوں کے مکینوں سے زیادہ مختلف نہیں۔ حیات آباد کے مکینوں کو بھی صفائی‘ آبنوشی‘ ٹاؤن شپ میں جرائم‘ چوری اور خاص طور پر منشیات فروشی‘ عوامی اجتماعات کیلئے جگہوں کا نہ ہونا‘ کمیونٹی سنٹرز اور قبرستان کی اراضی پر پولیس کا قبضہ‘ حیات آباد انڈسٹریل سٹیٹ کے کارخانوں سے ماحولیاتی آلودگی اور خاص طور پر ٹشو پیپرز کے کارخانوں سے اٹھنے والے گہرے رنگ کے تیز اور زہریلے دھویں سے فضا کی کثافت‘ پارکنگ کی سہولتوں کی کمی‘ لوڈشیڈنگ‘ ہاسٹلز اور ہر دوسری تیسری گلی میں قحبہ خانوں کی موجودگی حیات آباد میں پولیس کے علاوہ سیف حیات آباد کے نظام کی موجودگی میں بڑھتے جرائم اور عدم تحفظ کا احساس جیسے مسائل کی نشاندہی کی گئی۔ حیات آباد کا قبائلی علاقہ سے اتصال کے باعث درپیش مسائل خاص طور پر قابل ذکر ہیں جن کی نشاندہی بار بار ہوتی ہے اور متعلقہ حکام ان کے حل کا وعدہ بھی کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود حقیقت کو جھٹلانے کی گنجائش نہیں کہ حیات آباد کی شکستہ چاردیواری کی نہ تو مرمت کی گئی اور نہ ہی جگہ جگہ دیوار گرا کر آمد ورفت کرنے والوں کی روک تھام ہوسکی ہے حالانکہ حیات آباد کی چاردیواری کی حفاظت کی ذمہ داری فرنٹیئر کانسٹیبلری کی ہے جس کے جوانوں کیلئے باقاعدہ پختہ پوسٹیں تعمیر کرکے ان کی تقرری بھی کردی گئی ہے مگر وہ عمارت کے بالائی مقام سے دیوار کی حفاظت اور غیرقانونی آمد ورفت کی روک تھام کی زحمت ہی نہیں کرتے۔ اس مسئلے کی نشاندہی روزنامہ مشرق کے ایک مکمل رنگین صفحے میں باتصویر رپورٹ کی اشاعت پر اس وقت کے کمانڈنٹ ایف سی صفوت غیور شہید نے فوری کارروائی کرکے عوام کے خدشات دورکردئیے تھے ان کے بعد کسی کمانڈنٹ ایف سی کو یہ توفیق نہ ہوسکی کہ وہ اپنے عملے کو فرائض منصبی کی ادائیگی کا پابند بنائے۔ یہ اقدام صرف عوام کے جان ومال کے تحفظ کیلئے ہی ضروری نہیں بلکہ ایسا کئے بغیر منشیات فروشوں کی آمد ورفت اور منشیات کی وباء کی روک تھام بھی ممکن نہیں۔ حیات آباد کے مکینوں کا بہت بڑا مسئلہ اشیائے صرف اور اشیائے خورد ونوش کی مہنگائی ہے۔ دکانداروں کے اس موقف سے اتفاق ممکن نہیں کہ ان کے کرائے زیادہ ہیں۔ تو یہ اس امر کا جواز نہیں کہ وہ دس روپے کی چیز بیس روپے میں فروخت کرکے صارفین کو لوٹیں۔ پی ڈی اے دکانیں نیلام کرنے کے بعد مہنگے داموں ان کو آگے فروخت کرنے کے سلسلے میں کوئی اقدام کرتی یا پھر دکانوں کو کرایہ پر صرف اور صرف حقیقی دکانداروں کو موزوں ریٹ پر دیتی تو یہ مسئلہ سامنے نہ آتا۔ اب بھی اس سلسلے میں امکانات کا جائزہ لینے اور لیز پر دی گئی دکانوں کو عوامی مفاد میں واپس لینے یا کرایوں کو حقیقت پسندانہ بنانے کے اقدام کا جائزہ لیکر شہریوں کو اضافی مہنگائی سے بچانے کا اقدام کرے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ اس فورم میں جتنے عوامی مسائل سامنے آئے متعلقہ حکام بساط بھر ان کا حل کرنے کی سعی کریں گے اور عوام کی شکایات کا ازالہ کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں