Daily Mashriq

زرخطیر صرف کرنے کے باوجود ناقص منصوبہ بندی

زرخطیر صرف کرنے کے باوجود ناقص منصوبہ بندی

ہمارے سپیشل رپورٹر کی خبر کے مطابق پشاور بس ریپڈ منصوبے کیلئے صرف ڈیزائن کی تیاری پر 88کروڑ روپے خرچ کئے گئے۔ بی آر ٹی کیلئے ڈیزائن کی تیاری کا ٹھیکہ 5مختلف کمپنیوں کو دیا گیا۔ ڈیزائن کی تیاری کیلئے رقم میں ایشیائی ترقیاتی بنک کا حصہ ایک ارب ایک کروڑ روپے سے زائد ہے جبکہ صوبائی حکومت کا بی آر ٹی کے ڈیزائن کی تیاری کیلئے حصہ 23کروڑ40لاکھ روپے ہے۔ دستاویزات کے مطابق اب تک بی آر ٹی ڈیزائن پر 88کروڑ روپے خرچ کئے جا چکے ہیں جن کا ٹھیکہ 5مختلف کمپنیوں کو دیا گیا ہے۔ دستاویزات کے مطابق اب تک منصوبے کے ڈیزائن کی مد میں لاگت انٹرنیشنل نامی کمپنی کو سب سے زیادہ 24کروڑ 17لاکھ 26ہزار روپے کی ادائیگی کی جا چکی ہے۔ موٹ میکڈونلڈ (برطانیہ) کی کمپنی کو23کروڑ 77لاکھ 64ہزار روپے کی ادائیگی کی جا چکی ہے۔ ہالکرو پاکستان نامی کمپنی کو ڈیزائن کی تیاری کی مد میں 20کروڑ 37لاکھ 80ہزار روپے دیئے جا چکے ہیں۔ ایم ایم پی نامی کمپنی کو 12کروڑ 91 لاکھ 45ہزار 542 روپے اور ایکسپونٹ انجینئرز کو 6کروڑ 39لاکھ 57ہزار 89روپے ادائیگی کی جا چکی ہے۔ بی آر ٹی کے صرف ڈیزائن کی تیاری میں اٹھاسی کروڑ روپے خرچ کرنے کے باوجود بی آر ٹی کی تعمیر میں جس قسم کی تبدیلی‘ اکھاڑ پچھاڑ اور توڑپھوڑ کے مظاہر سامنے آئے اس سے کسی طور نہیں لگتا کہ ماہرین کی ٹیم اور شہری اداروں کے کرتا دھرتا افراد نے اس کی تیاری اور منصوبہ بندی میں عرق ریزی سے کام لیا ہوگا۔ بی آر ٹی کے تعمیراتی کام کے دوران جس قسم کی صورتحال دیکھنے میں آئی اور اب تک جس قسم کا سلسلہ جاری ہے اس سے نہ صرف شہریوں کو کئی گنا زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا بلکہ ہوا میں آلودگی کا تناسب خطرناک حدوں سے بھی گزر گیا۔ ٹریفک جام اور آمد ورفت کی مشکلات سامنے آئیں، وہاں یہ خطیر رقم کے ضیاع کا بھی باعث بنا۔ اگر اس منصوبے کی منصوبہ بندی سوچ سمجھ کر اور ماہرین کی ٹیم تفصیلی جائزہ اور سروے کے بعد کام شروع کیا جاتا تو نہ تو اس کی توسیع کی ضرورت پڑتی اور نہ ہی تبدیلی اور توڑپھوڑ کی نوبت آتی۔ اس کی لاگت میں اربوں روپے کے اضافے کی ایک بڑی وجہ ناقص منصوبہ بندی اور ہوم ورک تھا۔ اس طرح کے منصوبے بناتے وقت بڑی سوچ بچار کی ضرورت ہوتی ہے جس کا فقدان اور منصوبے کا عجلت میں شروع کیا جانا کوئی راز کی بات نہیں۔ مستزاد حکومت نے چھ ماہ مدت تکمیل کا جو مضحکہ خیز وعدہ کیا تھا اور بار بار یقین دہانیاں کرائی جاتی تھیں اس کا بھانڈا تو سال سے گزرنے پر پھوٹ ہی چکا ہے۔ منصوبے کی نیب کی جانب سے تحقیقات کی بازگشت بھی تھی مگر لگتا ہے کہ معاملہ دبا دیا گیا ہے۔ اس منصوبے کی تحقیقات موجودہ حکومت میں ممکن نہ ہو سکا تو آنے والی کوئی بھی حکومت یہ فرض پورا کرسکتی ہے۔ اس منصوبے کا جائزہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ آئندہ کسی اور منصوبے میں اس طرح کی صورتحال سے بچا جاسکے۔

وفاقی حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرے

خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے قبائلی اضلاع کی ترقی کیلئے وفاقی حکومت سے امدادی پیکج حاصل کرنے کیلئے وفاق سے رابطہ کئے بنا قبائلی اضلاع میں تعمیراتی ترقیاتی کاموں انضمام کی ضروریات پوری کرنا تو درکنار سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی بھی شاید ممکن نہ ہو۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اولاً یہ قبائلی اضلاع کے عوام کا حق ہے دوم یہ کہ وفاقی حکومت قبل ازیں این ایف سی ایوارڈ کا تین فیصد حصہ قبائلی علاقہ جات کے انضمام کے بعد سابقہ فاٹا کے عام کے حصے کے طور پر دینے سے اتفاق کر چکی ہے جس پر عملدرآمد نہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد بھی ملازمین اور محکمہ تو صوبوں کے حوالے کئے گئے مگر ان کے معاشی لوازمات پوری کرنے کیلئے وفاق نے رقم نہ دی جس کے باعث ابھی تک ملازمین کو ان کا مکمل حق نہیں مل رہا ہے جبکہ صوبائی حکومت پر اضافی بوجھ پڑنے کے باعث صوبے اضافی معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔ قبائلی اضلاع بارے اس قسم کے عمل کے اعادے کا تو امکان نظر نہیں آتا لیکن اس وقت تک مرکزی حکومت نے ایسا کوئی سنجیدہ قدم بھی نہیں اُٹھایا ہے جس پر اطمینان کا اظہار کیا جاسکے۔

متعلقہ خبریں