Daily Mashriq

خوابوں کی تجارت سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے

خوابوں کی تجارت سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے

تبدیلی اور فلاحی ریاست کے قیام کا خواب عوام الناس پچھلے ستر برسوں سے دیکھتے چلے آرہے ہیں مگر اس کا کیا کیجئے کہ لوگوں کے خواب ہمیشہ تعبیروں سے پہلے چوری ہو جاتے ہیں اور ان کے مقدر میں ایک نئی سمت کا سفر اور نیا خواب لکھ دیا جاتا ہے۔ پاکستان کب بدلے گا، وہ دن کب آئے گا جب وسائل منصفانہ طور پر تقسیم ہوں گے، ہر شخص کو اس کی صلاحیت کے مطابق سماجی ارتقا میں حصہ ڈالنے کا موقع ملے گا، انصاف کا دور دورہ ہوگا، طبقاتی خلیج ختم نہ بھی ہو تو اس میں اتنی کمی بہرطور ہوگی کہ آبادی کا بڑا حصہ حسرتوں کو رزق اور اوڑھنی بنا کر جینے کی بجائے آبرومندی کیساتھ جیئے گا۔ یہ اور ان سے بندھے دوسرے سوال بالادست اشرافیہ کے نزدیک ہمیشہ گستاخی ٹھہرتے ہیں۔ وزیراعظم نے اگلے روز پھر سے یہ کہا ہے کہ ’’ہمارا مقصد پاکستان کو حقیقی فلاحی ریاست بنانا ہے جس میں نچلے طبقے کو اوپر لایا جائے گا‘‘ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ کیلئے بدلنے والا ہے۔ ان کے منہ میں گھی شکر اگر ایسا ہو پائے تو، ورنہ یہاں صورت یہ ہے کہ واہگہ بارڈر سے چند میل ادھر کھاد کی بوری اڑھائی سو روپے میں فروخت ہوتی ہے اور پاکستان میں کھاد کی ایک بوری کی قیمت کا تصور کرکے کاشتکار کے کلیجہ کو ہاتھ پڑتا ہے۔ بیرون ملک سے منگوائی گئی کھاد کی فی بوری قیمت بھی سترہ سو روپے مقرر کی گئی ہے۔ مختلف اقسام کی کھاد سترہ سے اٹھتیس سو روپے فی بوری مارکیٹ میں دستیاب ہے۔ کیا یہ دریافت کیا جانا غلط ہوگا کہ جناب وزیراعظم نے اپنی جماعت اور دوستوں میں موجود کھاد فیکٹریوں کے مالکان سے کبھی براہ راست یہ سوال پوچھا کہ بجلی اور گیس رعایتی نرخوں پر لینے کے باوجود کھاد کی فی بوری قیمت کاشتکار کی قوت خرید سے زیادہ کیوں ہے؟ مندرجہ بالا مسئلہ ایک مثال کے طور پر عرض کیا گیا ہے ایسی انگنت مثالیں موجود ہیں۔ شوگر مافیا گنے کے کاشتکاروں کیلئے ہر سال نیا جال بچھاتا ہے۔ عجیب بات نہیں کہ شوگر مل مالکان کی دولت میں تو مسلسل اضافہ ہو رہا ہے مگر گنے کے کاشتکاروں کی حالت دن بہ دن پتلی ہوتی جا رہی ہے۔

ایک ترقی پذیر سماج کے مرحلہ میں داخل ہونے کی جو ضروریات ہیں کیا ان پر غور وفکر کیساتھ حکمت عملی وضع کرلی گئی ہے۔ تجربہ کار معاشی ٹیم نے جو حشر برپا کیا اس سے نجات کی صورت کیا ہوگی۔ کیا محض روپے کی قدر میں کمی سے بحران ٹل جائیں گے۔ اس امر کا بخوبی اندازہ ہے کہ محض چار ماہ قبل اقتدار میں آنے والی قیادت کو دوش دینا صریحاً غلط ہوگا لیکن سوال ہمیشہ اہل اقتدار کے سامنے رکھے جاتے ہیں اور مسائل بھی۔ سوال اٹھانے اور مسائل کی نشاندہی کرنے پر ماضی کی طرح اب بھی برا منایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر حکومت تو میڈیا انڈسٹری کو درپیش بحران کے حوالے سے ہی حقائق سامنے لانے سے قاصر ہے اس صورت میں دیگر معاملات کے حوالے سے شہریوں میں اعتماد سازی کیلئے کیا اقدامات اُٹھا پائے گی۔ بجا ہے کہ پاکستان کو بدلنا چاہئے لیکن تنگ نظری‘ تعصبات‘ غربت‘ کرپشن اور اقربا پروری کا خاتمہ کئے بغیر آگے نہیں بڑھا جاسکتا۔ سوال یہ ہے کہ ان معاملات میں بہتری لانے کیلئے محض تقاریر اور طعنے کافی ہوں گے یا عملی اقدامات لازم ہیں؟ پاکستان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ کسی ایک شخص یا طبقے کو نشانہ بنا کر دیگر افراد وطبقات اور مسائل سے توجہ ہٹائی جاتی ہے۔ پچھلی حکومتیں بھی یہی کرتی تھیں۔ اب بھی اس بدعت پر عمل ہو رہا ہے۔ ٹیکسوں کے حجم میں اضافہ‘ یوٹیلٹی بلوں کے ذریعے بڑھتا ہوا بوجھ‘ پٹرولیم، گیس اور بجلی کے نرخوں میں اضافہ یہ سب تو مسائل کی سنگینی کو بڑھانے میں معاون ہوں گے۔ اصولی طور پر حکومت کے پیش نظر یہ ہونا چاہئے کہ کیسے طبقاتی خلیج کو کم کیا جائے وہ کیا اقدامات ہوں گے جن سے عام شہری براہ راست متاثر نہ ہوں اور بڑے طبقات کو اس امر پر آمادہ کیا جائے کہ وہ اپنے چار اور کے لوگوں کی خیر وبھلائی میں شریک ہوں۔

عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ کسی تاخیر کے بغیر حکومت کو روزمرہ کے گمبھیر ہوتے ان مسائل پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی جن سے لوگوں کی زندگی اجیرن ہو رہی ہے۔ نظریوں‘ رجعت پسندی اور خوابوں کی تجارت بہت ہوچکی۔ نئی قیادت کے مشیروں اور معاونین اور پُرجوش حمایتیوں میں زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو پچھلے تین ادوار میں مشرف‘ زرداری اور نواز شریف کے وفادار ساتھی کہلاتے تھے۔ کیا میدان سیاست کے نئے موسم میں ٹھکانہ تبدیل کر لینے والے ان سیاسی مہاجروں کے بارے میں کوئی یہ گارنٹی دے سکتا ہے کہ وہ اگلی باری میں موجودہ قیادت کیساتھ کھڑے دکھائی دیں گے؟ 22کروڑ کی آبادی والے ملک کے مسائل چوالیس نہیں تو چھتیس کروڑ بہرطور ہیں ان مسائل سے عوام الناس کو کیسے نجات دلائی جائے اور کیا جس سماج کی نصف آبادی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہو اس میں طبقاتی خلیج کو انقلابی اقدامات سے کم کئے بغیر بدلاؤ ممکن ہے؟ ہر دو سوال طنز وتضحیک ہرگز نہیں حقائق سے منہ موڑ کر آگے بڑھنا اور زندہ رہنا ممکن نہیں ہوتا۔ مخالفت برائے مخالفت یا آگے بڑھنے کیلئے حکمت عملی وضع کرنے کی بجائے پچھلی حکومتوں کو دوش دینا دونوں ایک طرح کی بیماریاں ہیں۔ پاکستان تبدیل تبھی ہوسکتا ہے جب اس کے حکمران طبقات اشرافیہ اور ادارے اپنے لوگوں کیلئے قربانی دینے پر آمادہ ہوں۔ عوام تو بہت قربانی دے چکے‘ جمہوریت‘ شرف آدمیت اور تعمیرنو کیلئے زمین زادوں کی قربانیاں لازوال ہیں۔ ہم ہرگز یہ نہیں کہتے کہ کسی لٹیرے کا احتساب نہ ہو، چاہتے بس یہ ہیں کہ احتساب قوانین پر یکساں عمل ہو، قانون کی حاکمیت قائم ہو، صحت وتعلیم کو کاروبار بنا لینے والوں کا بھی دوسروں کی طرح محاسبہ کیا جائے۔ کیا ہم اُمید کریں کہ موجودہ حکمران قیادت نازی ازم کو فروغ دینے کے خواہش مندوں کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے اخلاقی وسماجی اقدار اور روایات کی پاسداری کرے گی تاکہ حقیقی فلاحی ریاست کے قیام کا خواب تعبیر سے پہلے چوری نہ ہونے پائے؟

متعلقہ خبریں