Daily Mashriq

صوبائی خودمختاری کا زلزلہ

صوبائی خودمختاری کا زلزلہ

ایسی کیا بات ہوئی کہ وزیراعظم عمران خان نے تین ماہ پورے ہوتے ہی درمیانی مدت کے انتخابات کے شیرے میں انگلی ڈبو کر اسے دیوار پر مل دیا لیکن نہ تو مکھیاں بھنبھنائیں اور نہ کسی نے دیوار کو چاٹا، لیکن بات تو تعجب خیز ضرور ہے۔ اس بارے میں کہا جا رہا ہے کہ مضبوط مرکز کے پروزنے چاہتے ہیں کہ جتنا جلد ہو سکے آٹھویں ترمیم کا چراغ گل کر دیا جائے، سابق صدر ایوب خان کے دور میں مضبوط مرکز کا فلسفہ نہ صرف نافذ تھا بلکہ بار بار اسے آموختہ کے طور پر دہرایا جاتا تھا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان مضبوط مرکز کے فلسفہ کی آڑ میںکھیلے گئے سیاسی داؤپیچ کی وجہ سے ہی دولخت ہوا، اگر قائداعظم کے فلسفہ صوبائی خودمختاری پر عمل ہوتا یا کم ازکم صوبوں کو 56 کے آئین کے مطابق ہی خودمختاری حاصل ہوتی تو پاکستان کے پانچوں بازو ایک ناقابل تسخیر قوت ہوتے۔ کہا یہ ہی جا رہا ہے کہ لاڈلا ملک میں صدارتی نظام لانے کی سعی میں ہے اور جن کیساتھ اس کی گاڑھی چھن رہی ہے ان کی خواہشات کے احترام میں وہ چاہتا ہے کہ جب تک اٹھارہویں ترمیم کی آڑ ہے اس وقت تک خواہشات کو پورا نہیںکیا جا سکتا اور پارلیمنٹ میں دوتہائی اکثریت کی ضرورت ہے تاکہ خواہشات کی تکمیل کی جا سکے چنانچہ درمیانی مدت کا خواب اسی لئے دکھایا جا رہا ہے۔ ممکن ہے کہ ایسا ہو مگر خان صاحب کے پاس آج بھی اختیارات کی کمی نہیں ہے کیونکہ وہ جن صوبوں میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے جب دل کرتا ہے وہاں کی صوبائی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہیں۔ صوبائی کابینہ میں تمام ارکان ان کی اجازت کے بعد رکھے گئے ہیں اور ان کی ایسی ڈانٹ ڈپٹ ہوتی ہے کہ جیسا کہ پرنسپل صاحب نالائق طلباء کی سرزنش کرتے ہیں، ابھی حال میں خان صاحب نے اعلان کیا کہ جس وزیر نے ڈیوٹی پوری طرح نہ دی اس کو گھر بھیج دیا جائے گا، کارگزاری پر بھی بھرپور نظر ہے، گویا کہ پی ٹی آئی کے وزراء کابینہ میں نہیں بلکہ کمرہ امتحان میں تشریف فرما ہیں۔

پاکستان کی قسمت کے فیصلوں پر اثرانداز ہونے والی قوتوں کو یہ بات ازبر ہونا چاہئے کہ اگر ایوب خان کے دور میں مضبوط مرکز کے فلسفہ کو نافذ نہ کیا جاتا بلکہ قائداعظم کے مطابق صوبوں کو خودمختاری حاصل ہوتی تو شیخ مجیب الرّحمان کو کبھی چھ نکات پیش کرنے کی ہمت نہ ہوتی، 73ء کا آئین کئی ترامیم کے باوجود متفقہ ہے اور جب یہ تشکیل پا رہا تھا تو اس وقت کی حزب اختلاف نے ملکی حالات کے پیش نظر اس امر کو قبول کر لیا تھا کہ امور خارجہ، دفاع، کرنسی اور تجارت سے متعلق معاملات کو کنکرنٹ فہرست میں شامل رکھا جائے اور دس سال کے بعد اس فہرست کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا مگر دس برس بیت گئے لیکن اس آئینی ضرورت کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا۔ تاہم پی پی کے گزشتہ دور میں 15اپریل2010 کو پارلیمنٹ کی دوسری بڑی جماعت کے تعاون سے 342ارکان پارلیمنٹ کے مقابلے میں 282 کی دوتہائی اکثریت سے اٹھارہویں ترمیم منظور کی گئی جس کے تحت صوبہ شمال مغربی سرحدی صوبہ کا نام خیبر پختونخوا رکھا گیا اور یہ بھی قرار پایا گیا کہ آئین کو سردخانے میں ڈالنا بھی آئین کو اُکھاڑ پھینکنے کے مترادف قرار پائے گا جس کی سزا آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت غداری ہوگی۔ اس ترمیم کے ذریعے مشترکہ مفادات کونسل کی تشکیل بھی ازسرنو کی گئی جس میں وزیراعظم کو اس کا سربراہ قرار دیا گیا اور ارکان میں تمام صوبائی وزراء اعلیٰ شامل کئے گئے اور ان صوبوں کا ایک ایک نمائندہ بھی شامل کیا گیا، مشرف نے کسی بھی شخص کو تیسری مرتبہ وزیراعظم نہ بننے کی شرط عائد کر دی تھی وہ بھی ختم کر دی گئی۔

اٹھارہویں ترمیم کی وجہ سے صوبوںکو جو خودمختاری حاصل ہوئی ہے حقیقت یہ ہے کہ وہ ملک کے استحکام، خوشحالی، ترقی، یکجہتی اور ناقابل تسخیر اتحاد کیلئے ازبس ضروری ہے مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پس پردہ طاقتوں کو یہ قبول نہیں ہے کیونکہ یہ قوتیں جب چاہتیں پاکستان میں مارشل لا لگا دیتیں۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد یہ اس لئے ممکن نہیں رہا کہ اس میں یہ بات شامل ہو گئی ہے کہ آئین کو سردخانے میں ڈالنا آرٹیکل چھ کے تحت آئین سے غداری کے مترادف ہے، جس کا مطلب واضح ہے کہ اب کوئی بھی طا قت آئین کو پس پشت نہیں ڈال سکتی۔

اس کے علاوہ پہلے آئین میں تھا کہ اٹھاون ٹو بی کے تحت صدر مملکت جب چاہتا اسمبلیاں تحلیل کر دیتا مگر اٹھارہویں ترمیم کے بعد وزیراعظم بھی اب ایسا نہیں کر سکتا، اس کیلئے صوبوں کے وزراء اعلیٰ کی رضامندی ضروری ہے، اس وقت درمیانی مدت کے انتخابات کیلئے یہ ہی رکاوٹ ہے کہ کے پی اور پنجاب میں تو پی ٹی آئی کی حکومت ہے وہاں کے وزراء اعلیٰ جو شاید خان صاحب کی بات مان جائیں کیونکہ وہ تو اپنی میز پر پڑے کاغذ کو بھی ہاتھ لگانے کیلئے خان صاحب کے اشارے کے منتظر رہتے ہیں مگر مسئلہ سندھ کا ہے جہاں پی پی کی حکومت ہے جو فی الحال رضامند نظر نہیں آرہی ہے، جس کو لائن پر لانے کی سعی ہو رہی ہے چنانچہ انہی کاوشوں کے نتیجے میں آصف زرداری گزشتہ دنوں چہکے تھے کہ اگر درمیانی مدت کے انتخابات ہوئے تو پی پی کی حکومت ہوگی لیکن پھر انہوں نے مفاہمت کا چولا بدلا ہے (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں