Daily Mashriq

2019ء کے بارے میں پیشگوئیاں

2019ء کے بارے میں پیشگوئیاں

جین ڈکسن کی موت کے بعد اہل مغرب نے اب مدتوں پہلے دنیا کو چھوڑ کر جانے والی دو شخصیات کی پیشگوئیوں سے استفادہ کرنا شروع کر رکھا ہے چونکہ جین ڈکسن ہر سال کے اختتام پر نئے سال کیلئے پیشگوئیاں کرنے تک محدود رہیں اس لئے وہ ایک بھولی ہوئی داستان بن کر رہ گئیں، ممکن ہے آج سے سو پچاس سال بعد ان کی بعض پیشگوئیوں کو آنے والے دور میں دوبارہ سامنے لاکر اس وقت کے حالات پر منطبق کرنے کی کوششیں مستقبل کی تاریخ کا حصہ بنیں تاہم فی الحال تو جین ڈکسن کی کہانی ختم ہو چکی ہے اس لئے اب ایک جانب ناسٹرا ڈیمس اور دوسری جانب بلغاریہ کی بابا وانگا نامی نابینا خاتون کا طوطی بولتا ہے یعنی ان دونوں کی صدیوں پہلے کی جانی والی پیشگوئیوں سے ہی کام چلایا جا رہا ہے، مزے کی بات یہ ہے کہ ان دونوں کی پیش بینی کے حوالے سے دنیا بھر کے اخبارات ورسائل میں تذکرے ہوتے رہتے ہیں۔ اور خاص طور پر ناسٹرا ڈیمس کے الفاظ کو موجودہ حالات کے تناظر میں نئے نئے معنی پہنائے جا رہے ہیں یعنی حالات پر منطبق کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں بلکہ اب تو سوشل میڈیا کے مختلف ایپس فیس بک، انسٹاگرام، یوٹیوب پر بھی ان کی کہی ہوئی باتیں وائرل ہوتی رہتی ہیں، ناسٹرا ڈیمس کے ان الفاظ کا بڑا چرچا رہا ہے کہ ’’جب لوہے کے بڑے بڑے پرندے فلک بوس بلڈنگوں سے ٹکرائیں گے‘‘ اور ان الفاظ کو نائن الیون کے ٹوین ٹاورز سانحے کے پس منظر میں دیکھا جاتا ہے۔ اسی طرح باباوانگانامی نابینا خاتون کی مستقبل بینی کے بھی بڑے چرچے ہیں ، ان میں سے تازہ ترین آنے والے سال2019ء کے حوالے سے کی جانے والی بعض پیشگوئیاں بھی بڑی دلچسپ اور بعض تشویش کاباعث قرار دی جاسکتی ہیں ۔ اب آنے والے سال میں سو دو زیاں کی کیا صورتحال رہتی ہے اور یہ پیشگوئیاں کن ملکوںکیلئے فائدہ مند کن کیلئے پریشان کن رہتی ہیں اس حوالے سے ان خرخشوںسے قطع نظر ایک بار میں نے کہا تھا

سال نو میں بھی کھلا رکھنا مرے دل کا حساب

میں نے سب سودوزیاں نام ترے رکھا ہے

تو میں بتارہا تھا کہ بابا وانگانے آنے والے سال کیلئے بھی کچھ پیشگوئیاں کر رکھی ہیں ، جو اخبارات نے ڈھونڈ ڈھانڈ کر شائع کردی ہیں،ان پیشگوئیوں کے مطابق 2019ء میں قدرتی آفات آئیں گی جبکہ دنیا کے دورہنمائوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق رہیں گے۔ روسی صدر پیوٹن پر قاتلانہ حملے کا خدشہ ہے جبکہ امریکی صدر ٹرمپ ایک پراسرار بیماری کا شکار ہو جائیں گے ۔2004ء کی طرح ایک اور سونامی ایشیاء کو نشانہ بنائے گا جس میں پاکستان، بھارت، انڈونیشا، جاپان سمیت کئی ملکوں کا (خدانخواستہ) صفایا ہو جائے گا۔ صدر پیوٹن کے حوالے سے جو پیشگوئی بابا وانگانے کی ہے اس کے مطابق ان ہی کی سیکورٹی ٹیم کا ایک اہلکار انہیں ہلاک کرنے کی کوشش کرے گا، اس حوالے سے قابل ذکر بات یہ ہے کہ خود صدر پیوٹن نے بھی اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ انہیں کئی مرتبہ جان سے مارنے کی کوششیں کی گئی ہیں۔ اسی وجہ سے انہوں نے اپنی حفاظت کیلئے سنائپرز کی ٹیم مقرر کر رکھی ہے،ان معاملات کو صدر پیوٹن سے زیادہ بہتر کون جان سکتا ہے کہ وہ کئی سال تک روسی خفیہ ایجنسی کے جی بی کے سربراہ رہے ہیں ، لیکن تاریخ میں ایسے واقعات بھی کم نہیں ہیں جب’’یوٹربروٹس‘‘ کے الفاظ کی حقانیت اور اہمیت کا اندازہ ہوچکا ہے۔ ماضی میں اندرا گاندھی کے ساتھ خود ان کی سیکورٹی اہلکاروں نے کیا کیا؟اس لئے کیا پتہ کہ باباوانگاکی پیشگوئی اپنا رنگ دکھائے لیکن ماضی میں یہ بھی تو ہوتا رہا ہے کہ سی آئی اے کے اشارے پر اسی نوع کے کھیل کھیلے گئے۔صدر ٹرمپ کے بارے میں بابا وانگا نے جس پراسرار بیماری والی پیشگوئی کی ہے ، اس کے آثار تو کئی سال سے نظر آرہے ہیں اور اغلب خیال یہی ہے کہ ان کے دماغ میں مالیخو لیا نے جڑیں مضبوط کرنا شروع کررکھی ہیں۔ ان کی حرکتوں سے اس بات کی تصدیق آسانی سے کی جاسکتی ہے ، یہاں تک کہ ان کی ا ن حرکتوںکی وجہ سے اب خود امریکی قوم کو بھی یہ احساس ہورہا ہے کہ انہوں نے کس’’گدھے‘‘کو منتخب کر کے امریکیوں پر مسلط کر رکھا ہے ، لفظ’’گدھے‘‘ سے کسی کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے کہ امریکی سیاسی جماعتوں کے د و انتخابی نشان ہیںیعنی ہاتھی اور گدھا، کبھی گدھوں کی جماعت اقتدار میں آجاتی ہے اور گدھوں والی حرکتیں کرتی ہے ، دو لتیاں جھاڑ کر دوسری قوموںاور خود امریکیوں کو پریشان کرتی ہے اور کبھی ہاتھی والی جماعت اقتدار کے سنگھاسن کو اپنے پائوں تلے روندتی رہتی ہے ، تب اس پارٹی کے رہنمائوںکو مکہ مکرمہ پر حملہ کرنے والے ابرہہ کے لشکر فیل کا حشر یاد نہیں رہتا۔ اب دیکھتے ہیں کہ بابا وانگا کی پیشگوئی کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ واقعی اس پر اسرار بیماری کے ہاتھوںقے کرتے کرتے اتنے نحیف ہو جاتے ہیں کہ ان کی قوت سماعت متاثر ہوجائے گی، ویسے غور سے دیکھیں تو صرف ڈونلڈ ٹرمپ ہی نہیں گزشتہ کئی برس سے ہر امریکی صدر اور دوسرے لیڈروںکی نہ صرف قوت سماعت بلکہ قوت بصارت بھی متاثر ہو چکی ہے کیونکہ نہ انہیں کشمیر میں بھارتی مظالم نظر آتے ہیں نہ مظلوم کشمیریوں کی چیخیں سنائی دیتی ہیں ، اسی طرح عالم اسلام میں انہوں نے سازشوں کے جو جال پھیلا رکھے ہیںان سے بھی یہ انہی دونوں قوتوں کی کمزوری کی وجہ سے بے خبر رہتے ہیں۔

متعلقہ خبریں