Daily Mashriq

تصور ریاست مدینہ۔۔ مولانا طارق جمیل اور تنقیدنگار

تصور ریاست مدینہ۔۔ مولانا طارق جمیل اور تنقیدنگار

ایک سوال میرا آپ سے ہے۔ یہ بیٹھے بٹھائے مولانا طارق جمیل کو کیا سوجھی جو انہوں نے وزیراعظم عمران خان کی حمایت میں ایک باقاعدہ ویڈیو بیان ریکارڈ کروا دیا۔ مولانا طارق جمیل بڑی قدر ومنزلت والے دینی رہنما ہیں۔ وہ قبل ازیں دعوت وتبلیغ کے سلسلے میں نواز شریف‘ چوہدری شجاعت‘ پرویز الٰہی اور دیگر قومی رہنماؤں سے ملتے رہے ہیں لیکن انہوں نے کبھی اس طرح آگے بڑھ کر عامۃ الناس سے اپیل نہیں کی کہ وہ ان میں سے کسی رہنما کی مدد کرنے کیلئے سینہ سپر ہو جائیں۔ گزشتہ دنوں مولانا طارق جمیل کی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات ہوئی۔ یقینی طور پر اس ملاقات میں مولانا صاحب کو سمجھنے کا موقع ملا ہوگا کہ جب عمران خان ریاست مدینہ کی طرز پر پاکستان کو ماڈل ریاست بنانے کی بات کرتے ہیں تو وہ کن خطوط پر سوچتے ہیں اور اپنی اس سوچ میں وہ کس حد تک مخلص ہیں۔ اب مولانا طارق جمیل جیسی قدآور شخصیت کے بارے میں کیا بدگمانی رکھی جا سکتی ہے کہ انہوں نے ریاست مدینہ کا تصور سمجھنے میں غلطی کی ہوگی؟ لیکن میں آپ کو بتاؤں کہ بعض لوگوں کو بدگمانی ہے اور شدید بدگمانی ہے جو لوگ مولانا طارق جمیل پر تنقید کر رہے ہیں ان کی زیادہ تعداد مذہبی جماعتوں سے تعلق رکھنے والوں کی ہے۔ مذہبی جماعتوں کے قائدین وکارکنان اور مذہبی سیاسی جماعتوں کے حق میں لکھنے والے ہمارے ان دوستوں کے ذہنوں میں ریاست مدینہ کے ضمن میں جو تصور قائم ہے وہ محض حدود کی سزاؤں اور پردے کی حد تک ہے۔ مدینہ کی ریاست نے انسانوں کو حقوق دلوانے کیلئے جو کردار ادا کیا ہے وہ ان کے پیش نظر ہے اور نہ یہ ان کی ترجیح ہے۔ ریاست مدینہ کو جن خصوصیات نے اپنی ہم عصر ریاستوں سے افضل کیا اُس پر میں نے مذہبی رہنماؤں کو بات کرتے کبھی نہیں سنا۔ مولانا طارق جمیل کے بیان پر اعتراض سامنے آنے کے بعد میرے ذہن میں جن چار باتوں نے جنم لیا ہے وہ پہلے آپ کے سامنے رکھتا ہوں تاکہ بات بہتر طریقے سے سمجھ آسکے۔ مولانا طارق جمیل کے بیان کے تناظر میں یہ چار باتیں درج ذیل ہیں۔

1۔ مولانا طارق جمیل نے ریاست مدینہ کی بابت عمران خان کے تصورات کو سمجھنے میں غلطی کی ہے؟

2۔ مولانا طارق جمیل حکومت وقت کی حمایت کر کے اپنے لئے معاذ اللہ کسی منصب کے خواہش مند ہیں؟

3۔ مولانا طارق جمیل بذات خود ریاست مدینہ کے تصور کو سمجھنے سے قاصر ہیں؟

4۔ مولانا طارق جمیل پر تنقید کرنے والے دراصل ریاست مدینہ کے تصور سے نابلد وناآشنا ہیں۔

جہاں تک پہلی بات کا تعلق ہے تو یہ جان لیجئے کہ وزیراعظم عمران خان کے دل ودماغ میں ریاست مدینہ کا تصور راسخ ہے۔ وہ متعدد مواقع پر اپنے اس ویژن کا اظہار کر چکے ہیں چنانچہ اس ضمن میں جو کچھ انہوں نے کہا ہوگا وہ ان کے ایمان کا حصہ ہے۔ دوسری بات کا ذکر بھی میرے خیال میں اس لئے نامناسب اور غلط ہے کیونکہ مولانا اپنے کام کے حوالے سے جس جلیل القدر منصب پر فائز ہیں اور ان کیلئے جس قدر احترام وعزت ہر خاص وعام میں پائی جاتی ہے اُس سے بڑھ کر انہیں کوئی کیا پیش کر سکتا ہے اور وہ کیونکر اس کے طلبگار ہوں گے۔ تیسری بات کے حوالے سے بس ایک جملہ عرض ہے کہ ’’اگر مولانا ریاست مدینہ کے تصور کو سمجھنے سے قاصر ہیں تو پھر عالم اسلام میں کوئی ایسا نہیں ہے جو ریاست مدینہ کے بارے میں ہماری رہنمائی کر سکے‘‘

چوتھی اور سب سے اہم بات تنقید کرنے والوں سے متعلق ہے۔ مولانا طارق جمیل کے بیان کے بعد ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ یہ لوگ اپنے مؤقف سے رجوع کرتے اور عمران خان کے حوالے سے اپنے نظریات کو درست کرنے کی کوشش کرتے مگر انہوں نے اُلٹا مولانا کیخلاف محاذ کھول لیا اور ان پر تنقید کرنے لگے چنانچہ ایسا لگ رہا ہے کہ ان لوگوں کو مدینہ کی ریاست کے بنیادی اوصاف سے آگاہی نہیں ہے یا پھر یہ لوگ اس لئے مولانا پر تنقید کر رہے ہیں کیونکہ مولانا کے بیان کے بعد مذہب کے نام پر ان کے سیاست کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ مدینہ کی ریاست کا جو نقشہ اللہ کے رسولﷺ کی زندگی میں ہمارے سامنے آیا اور بعدازاں خلفائے راشدین کے تیس سالہ عہد میں ریاست کے جو خدوخال ہمیں معلوم ہوئے اُس کو پیش نظر رکھ کر باآسانی ایک بات کہی جا سکتی ہے اور وہ یہ کہ ریاست نے انسانوں کو ظلم وجبر کے نظام سے آزادی دلوائی اور انہیں عزت اور مقام دیا۔ انسانی حقوق کا پہلا چارٹر دینے والی ریاست مدینہ تھی اور عہد راشدہ میں آقا ورعایا کا فرق مٹانے والی بھی مدینہ کی ریاست ہی تھی۔ بادشاہوں کے دور میں خلیفہ کا مقام ایک ایسے شخص کا تھا جو خصوصی مراعات کا مستحق تھا اور نہ ہی قانون سے ماورا کوئی شخصیت۔ سادگی اور پرہیزگاری میں وہ اپنی مثال آپ تھا۔ سادگی ایسی کہ تاریخ انسانی میں اس کے مقابلے میں کوئی دوسری مثال ہی نہیں ملتی۔ کانگریسی حکومتیں 1937ء میں قائم ہوئیں تو مہاتما گاندھی نے وزراء کو پند ونصائح کرتے ہوئے حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ کی مثال دی اور کہا سادگی کی مثال پیش کرتے ہوئے میں مجبور ہوں کہ ابوبکرؓ اور عمرؓ کا نام لوں کیونکہ وہ بہت بڑی سلطنت کے حکمران تھے مگر انہوں نے فقیروں جیسی زندگی گزاری۔ افسوس کہ آج کے مذہبی رہنما اور ان کی زندگی کے شب وروز! اقبال یاد آتے ہیں۔

تجھے آبا سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی

تو گفتار وہ کردار تو ثابت، وہ سیارا

متعلقہ خبریں