Daily Mashriq

عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ ٹھنڈے دل سے سوچیں ہم پاکستان کو کہاں لے کر جارہے ہیں: سعد رفیق

عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ ٹھنڈے دل سے سوچیں ہم پاکستان کو کہاں لے کر جارہے ہیں: سعد رفیق

ویب ڈیسک:سعد رفیق نے احتساب قانون کو کالا قراردیتے ہوئے تحریک انصاف کے ارکان کی گرفتاری کی پیش گوئی کر دی۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے سعد رفیق نے کہا کہ پروڈکشن آرڈر جاری کرنے پراسپیکر کا شکرگزار ہوں، پارلیمنٹ ابھی بھی بالادست نہیں ہے، بالادست ہوتی تو پہلے دن پروڈکشن آرڈر جاری ہو جاتے، نیب کا کالا قانون سیاسی وفا داریاں تبدیل کرنے کیلئے بنایا گیا، میں (ن) لیگ کے دور میں بھی احتساب کے عمل سے مطمئن نہیں تھا، قتل کے ملزم کا ریمانڈ 14 روز اور نیب کا 90 روزہے، نیب قانون میں تبدیلی نہ کی گئی تو سب پچھتائیں گے۔

سعد رفیق نے کہا کہ مجھ پر اورمیرے بھائی پر اس ہاؤسنگ سوسائٹی کا الزام ہے جو 15 سال پہلے بنی،میرے خلاف کوئی دستاویزی ثبوت نہیں ہے، جو کچھ میں گوشواروں میں درج کرتا تھا وہی میرے خلاف استعمال کیا گیا، میں نے گرفتاری کے وقت نیب افسران کے چہروں پرمجبوریاں پڑھ لیں، دوران حراست نیب حکام کارویہ بہت مناسب رہا۔

 مسلم لیگ (ن) کے رہنما کا کہنا تھا کہ ہم کسی کو سلاخوں کے پیچھے نہیں دیکھنا چاہتے، لگتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے مزید لوگوں کو پکڑا جائے گا اور معاملات کو متوازن کرنے کیلئے حکومتی لوگوں کو گرفتار کیا جائے گا۔ نیب حکام نے مجھ سے علیم خان کے بارے میں بھی پوچھا، میں نے کہا کہ وہ معقول آدمی ہیں، مجھ سے علیم خان کے متعلق پوچھنے کی ہمت نہ کریں، وہ میرے مخالف ہیں ۔

رہنما ن لیگ کا کہنا تھا کہ میثاق جمہوریت کوساری سیاسی جماعتوں تک وسعت دینا ضروری ہے، (ن) لیگ اور پیپلزپارٹی حکومت کو گرانا نہیں چاہتے، اگر حکومت کے دل میں کوئی خدشات ہیں تو نکال دیں، اگر آصف زرداری کو گرفتار کیا گیا تو طوفان اورہیجان کی کیفیت ہو گی، اس سے زیادہ تماشا کیا ہو گا کہ بلاول کو ایسے کیس میں بلایا جب اس کی عمر ایک سال تھی۔

متعلقہ خبریں