اقوام متحدہ کے سیکر ٹری جنرل کی یقین دہانی ؟

اقوام متحدہ کے سیکر ٹری جنرل کی یقین دہانی ؟

وزیر اعظم محمد نواز شریف کااقوام متحدہ کے نئے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹریس سے ملاقات میں مسئلہ کشمیر کے حل میں اقوام متحدہ کی ناکامی کے حوالے سے صریح الفاظ میں ان کی توجہ مبذو ل کرانا کشمیر ی عوام کے لئے بالخصوص اور اہل پاکستان کے لیے بالعموم اطمینان کا حامل امر ہے ۔ وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے مسئلہ کشمیر کے حل کا وعدہ پورا نہیں کیا ۔اس حوالے سے دو رائے نہیں کہ کشمیر کے تنازعے کا حل اقوام متحدہ کا نامکمل ایجنڈا ہے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میںا ستصواب رائے بارے قرارداد کی منظوری اور اس وقت کے بھارتی وزیراعظم کا اس پر اتفاق اور عملدر آمد کے وعدے کے بعد گویا یہ تنازعہ اب بھارت اور پاکستان کے درمیان اور کشمیری عوام کا مطالبہ کی بجائے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ذمہ داری بن چکی تھی جس پر ہنوز عملدر آمدتو در کنار اس حوالے سے سلامتی کونسل نے ابتدائی پیشرفت کی زحمت بھی نہیں کی۔ سلامتی کونسل اگر مسئلہ کشمیر حل کرنے میں کامیاب ہوتا تو پاکستان اور بھارت کے درمیان نہ تو جنگیں ہوتیں نہ ہی پاکستان دولخت ہوتااور خطے کے دونوں ممالک کے درمیان دفاع پر کم کمر توڑ اخراجات کا بارنہ پڑتا۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مخاصمانہ نہ ہوتے تو یورپ کے مقابلے میں ترقی یافتہ برصغیر آج یورپ کو پیچھے چھوڑ چکا ہوتا مگر آج عالم یہ ہے کہ یہاں کے لوگ محض معاشی ترقی کی دوڑ میں مر کھپ کر بھی یورپ کی طرف مراجعت پر مجبور ہیں ۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی خرابی اور تنازعات کی بنیا دی وجہ کشمیر کا مسئلہ ہے جب تک یہ مسئلہ موجود ہے دونوں ممالک کے درمیان کشید گی فطری امر ہوگا۔ اقوام متحدہ دنیا بھر میں تنازعات کے حل اور بھائی چارے کی فضا پیدا کرنے اپنے چارٹر کے تحت اس طرح کے تنازعات کا ترجیحی حل تلاش کرنے کا ذمہ دار ہے مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ اقوام متحدہ اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں بوجوہ ناکام ہونے کے باعث دنیا میں اس کی وقعت میں کمی آتی جارہی ہے اور اس کا حشر بھی لیگ آف نیشن جیسا ہونے کا خطرہ ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے مظالم اورسلامتی کونسل کی جانب سے استصواب رائے کے وعدے کی عدم تکمیل کے باعث مقبوضہ کشمیر کے عوام اپنی آزادی اور حریت کی جدوجہد شروع کرنے پر مجبور ہوئے ہزاروں افراد نے جام شہادت نوش کیا بھارت لاکھوں کی تعداد میں مظالم ڈھانے والی فوج تعینات کر کے بھی حریت پسندوں کی جدوجہد اور کشمیر ی عوام کے جذبہ آزادی کی راہ میں رکاوٹ نہ ڈال سکا مگر اس کے با وجود بھی اقوام متحدہ کشمیری عوام پر مظالم کا نوٹس نہیں لیتا۔ اب جبکہ دنیا میں غیر متوقع تبدیلیاں ہو رہی ہیں دیوار برلن گرائی جا چکی اور برطانیہ کے عوام نے بریگزیٹ کے حق میں فیصلہ دیا مگر سلامتی کونسل اب بھی کشمیر کے مسئلے کے حل میں ناکامی کا شکار ہے ناکامی کا لفظ بھی اس وقت ہی مستعمل ہوتا ہے جب کسی امر کی سعی کی جائے اور وہ لا حاصل رہے یہاں تو سعی کی ابتداء ہی نہیںہوئی۔ اس صورتحال کا دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشید گی کی صورت میں سامنے آنا فطری امر ہے۔ عین اس وقت جبکہ وزیر اعظم نواز شریف اقوام متحدہ کے سیکر ٹری جنرل کو اس کے عالمی ادارے کی ناکا میاں یاد دلار ہے تھے اس وقت بھی لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی جانب سے فائر بندی کی خلاف ورزی ہورہی تھی۔ بھارت اکثر و بیشتر لائن آف کنٹرول پر سرحدی خلاف ورزی کا ارتکاب کرتا رہتا ہے جس کا جواب دینا پاک فوج کی مجبوری بن جاتی ہے۔ بھارت صرف اس پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ اقوام عالم کی بے حسی اور اقوام متحدہ کی بے بسی پر اب بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں اور پاکستان کے حصے کا پانی روکنے کے منصوبوں پر بھی عمل پیرا ہے جس پر اقوام عالم کی جانب سے بے حسی کا رویہ اختیار ہونے پر دونوں ممالک کے درمیان کشید گی اور جنگ کے خطرات بڑھ رہے ہیں ۔ اقوام متحدہ کے نئے سیکرٹری جنرل کی جانب سے وزیر اعظم کی سنجید گی اور مد لل طور پر مسئلے کی طرف توجہ مبذول کرانے کے جواب میں اس مسئلے کی حساسیت کے ادراک پر مبنی بیان کافی نہیں ۔ اقوام متحدہ کے نئے سیکرٹری جنرل کو اگر اقوام متحدہ کو مردہ گھوڑا بننے سے روکنا مقصود ہے تو عالمی ادارے کو دونوں ممالک کے درمیان تنازعہ کشمیر کے حل کے لئے سنجیدہ کردار ادا کرنے پر متوجہ ہونا ہوگا ۔ اصولی طور پر سلامتی کونسل کی قرار دادوں پر عملد ر آمد عالمی ادارے کی بنیادی ذمہ داری ہے اور استصواب رائے ہی مسئلے کا واحد حل ہے اس سے کم کوئی حل کشمیر ی عوام کو قابل قبول نہ ہوگا ۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بھارت کو اس قرارداد پر عملد رآمد کرنے اور بھارت کی جانب سے اس قرارداد پر عملد ر آمد کاوعدہ تو یاد دلائیں اور سفارتی سطح پر بھارت پر اس ضمن میں تعاون کیلئے دبائو ڈالا جائے ۔ جب تک مسئلہ کشمیر بارے اقوام عالم اخلاص اور سنجید گی کے ساتھ بھارت کو مجبور کرنے اور اس پر دبائو ڈالنے پر متوجہ نہیں ہوتے بھارت سے یہ توقع عبث ہے کہ وہ اخلاقی اور قانونی طور پر سلامتی کونسل کی قرارداد پر عملد ر آمدپر غور کرنے کی زحمت ہی گوارا کرے ۔

اداریہ