جعلی ایک من دودھ میں ایک کلو دودھ

جعلی ایک من دودھ میں ایک کلو دودھ

پشاور میں پنجاب سے لائے گئے آٹھ ہزار لیٹر مضر صحت دودھ کو ضائع کرکے فرنچائز سیل اور پانچ افراد کی گرفتاری سنجیدہ کارروائی ضرور ہے لیکن اس کارروائی کے بعد شہریوں کو اس امر کا اطمینان نہیں ہونا چاہیے کہ انہیں خالص اور صاف دودھ مل رہا ہے کیونکہ خود ساختہ دودھ صرف پنجاب سے ہی نہیں لایا جاتا بلکہ اب تو ہر دودھ والے کا اپنا فارمولہ ہے۔ اگر انتظامیہ چاہے تو دودھ والوں کے ان گوداموں کا باآسانی کھوج لگاسکتی ہے جہاں دودھ تیار ہو تا ہے بعض دودھ والوں کو دودھ بنا کر دینے کی ذمہ داری گھر کی خواتین انجام دے رہی ہیں یہ الزام نہیں چشم دید ہے ۔ جس بڑے پیمانے پر دودھ کی سپلائی ہوتی ہے کیا کبھی اس پر کسی نے غور نہیں کیا کہ اتنے بڑے پیمانے پر دودھ کی پیدا وار ممکن ہے اگر ممکن ہے تو پھر ہر دودھ کا ذائقہ اور ہر دہی والے کی دہی کا ذائقہ اور معیار الگ الگ کیوں ہے ، کچھ ہم شہری بھی معیار پسندی اور ذائقے کے ہاتھوں ان عناصر کا آسان شکار بن جاتے ہیں ۔ایک اندازے کے مطابق ہمارے ہاں اسی فیصد سے زائد اشیائے خورد ونوش میں ملاوٹ پائی جاتی ہے اس کی تیاری میں صفائی و نظافت کی صورتحال کبھی کبھار ٹی وی چینلز پر کیمرے کی آنکھ سے ملاحظہ کرنے کا بیشتر قارئین کو اتفاق ضرور ہوا ہوگا اس کے باوجود ہمارے باز نہ آنے کا رویہ ملاوٹ کنندگان اور صفائی کاخیال نہ رکھنے والوں کے کاروبار کو کامیابی سے چلانے کا باعث بن رہا ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق ایک من تیار شدہ دودھ میں صرف ایک کلو گرام خالص دودھ شامل ہوتا ہے ۔ خیبر پختونخوا میں دودھ کو جانچنے کیلئے لیبارٹری کا قیام اور دودھ کو جانچنے کے بعد ہونے والی کارروائی انتظامیہ اور عوام دونوں کے لئے چشم کشاہے ۔ قائمقام ڈپٹی کمشنر پشاور کی جانب سے پشاور میں دودھ کی تمام فرنچائز اور دکانوں میں فروخت ہونے والے دودھ کالیبارٹری میں معائنہ کا اعلان قابل اطمینان امر ہے۔ انتظامیہ کے ساتھ ساتھ یہ صارفین کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ و ہ دودھ کے نام پر زہر نہ خریدیں اور نہ ہی ملاوٹ والی اشیاء استعمال کریں۔ اگر عوام ان اشیاء اور خاص طور پر اپنی صحت کے حوالے سے محتاط ہو جائیں اور ان اشیاء کا استعمال ترک کردیں تو اس ''منافع بخش کاروبار '' میں کمی آسکتی ہے۔ انتظامیہ اگر تسلسل کے ساتھ دودھ اور اشیائے خوردنی کا معائنہ کرکے ملاوٹ اور جعلی دودھ تیار کرنے والوں کو سخت سے سخت سزا دلوائے تو بھی تدارک ہو سکتا ہے ۔ چونکہ اب روایتی ملاوٹ نہیں ہوتی اس لئے اس حوالے سے قوانین کو بھی سخت سے سخت بنانے کے لئے موجودہ قانون کی منظوری اور بل پاس کر کے باقاعدہ قانون کے نفاذ پر بھی توجہ کی ضرورت ہے ۔
افغان حکومت درست راستے پر
دفترخارجہ کے ترجمان کا بیان ہے کہ کچھ عناصر پاک افغان تعلقات خراب کرنے کے در پے ہیں جبکہ دوسری جانب پاکستان میں افغان سفیر ممتاز عالم دین مولانا سمیع الحق سے دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک آکر ملاقات کرتے ہیں اور افغان صدر اشرف غنی کہتے ہیں کہ قیام امن کے لئے نظر یں آپ کی طرف اٹھتی ہیں ۔مدارس کو شد ت پسندی سے جوڑنے اور خاص طور پر دارالعلوم اکوڑہ خٹک کو اس ضمن میں کلیدی ہونے کی آراء کے اظہار کے با وجود افغان سفیرکا اسی مرکز کی مستند شخصیت سے رجوع اور افغان صدر کا ان سے توقعات وابستہ کرتا یقینا دلچسپ امر ہے ۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات سے قطع نظر پاکستان کی جانب سے بھی طالبان سے مذاکرات شروع کرتے وقت دارالعلوم حقانیہ کے اکابرد ین کی خدمات حاصل کی گئی تھیں اور اب افغانستان کی جانب سے طالبان سے مذاکرات اور معاملات کیلئے اسی ادا رے سے رجوع اچھی ابتداء قرار دی جا سکتی ہے ۔ پاکستانی مذاکرات ناکام رہے اور پاکستانی حکومت نے طاقت کے استعمال کا فیصلہ کیا جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے مگر افغانستان کی حکومت کے پاس مو خرالذکر راستہ اختیار کرنے کی طاقت نظر نہیں آتی اس لئے ان کے پاس صرف اور صرف مذاکرات کے ذریعے معاملت کا راستہ باقی رہ جاتا ہے ۔ افغا نستان میں قیام امن کیلئے ایک پاکستانی شخصیت کوئی کردار ادا کرسکے تو یقینا یہ ہمارے لئے اطمینان کا باعث امر ہوگا۔ ہمارے تئیں اگر افغان حکومت اور افغان صدر بھارت کی بولی ترک کر کے اگر پاکستان سے مدد چاہیں تو اسے بھی اپنا ممدو معاون پائیں گے ۔ افغان سفیر کی ابتداء تو اچھی ہے انہوں نے جو ذریعہ چنا ہے وہ بھی مناسب ہے بہتر ہوگا کہ افغان حکومت اس سلسلے کو آگے بڑھائے اور اپنے اندرونی گروپوں کے ساتھ کوئی قابل قبول فارمولہ وضع کرکے جارح عناصر سے صلح کرے۔ افغانستان میں جب تک داخلی طور پر معاملات کا حل تلاش نہیں کیا جاتا اس وقت تک قیام امن ممکن نظر نہیں آتا داخلی امن و استحکام کے بعد ہی افغان حکام اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ ان کے دوسروں پر الزامات محض شبہات تھے ۔

اداریہ