Daily Mashriq


ہرطرف چور چور کی دہائی

ہرطرف چور چور کی دہائی

یوں لگتا ہے مُنو بھائی نے یہ نظم آج کے حالات پر لکھی ہے۔ وزیر اعظم کے وکیل کے دلائل اور اس پرمعزز جج صاحبان کی جرح کوسُن کر بے اختیار مُنو بھائی کی پنجابی نظم گنگنانے کو جی چاہتا ہے۔ 

احتساب دے چیف کمشنر صاحب بہادر

چوراں ڈاکواں قاتتلاں بارے کیہ پُچھدے او

ایہہ تہانوں کیہ دَسن گے' کیوں دسن گے

دَسن گے تے جینج وسدے نیں' کنج وسن گے

دِتی اے کدی کسے نے اپنے جُرم دی آپ گواہی

کہڑا پاندااے اپنے ہتھ نال اپنے گل وچ

موت دی پھاہی

کھوجی رسہ گیرنہیں سارے کیہ پچھدے او

اک دوجیدے جُرم سہارے کیہ پچھدے او

ڈاکواںکولوںڈاکواں بارے کیہ پچھدے او

چوراں ڈاکواں قاتلاں کولوں

منگیاں کدی ثبوت نہیںلبھدے

فائلاںوچ گواچ ہوئے

بڑے بڑے کرتوت نہیںسبھدے

رل کے مارے مل کے کھاہدے ہوئے لوکاں دیاں

قبراں چوں قلبوت نہیں لبھدے

عدالت کہتی ہے نااہلی کی سزا سنا دی تو قبر میں بھی اس داغ کے ساتھ جانا ہوگا۔ سوچتا ہوں لوٹنے والوں کی فکر نہ تھی تو عدالت اس فکر میں کیوں ہلکان ہو گئی کہ نااہلی کی سزا کا داغ کہاں تک ساتھ جائے گا۔ چوہدری نثار علی خان ایک لفظ اکثر استعمال کرتے ہیں مگر اس کا مخاطب ہمیشہ اپوزیشن رہی ہے۔ گاہے خیال آتا کہ اپنے آپ کو اصول پسند بنا کر پیش کرنے والا شخص عدلیہ اور عدالت کے باہر پیش کیے جانے والے بے تکے دلائل رنجیدہ ہو کر کبھی غصے میں حکومتی بنچوں کی طرف منہ کرکے کہہ دے گا کہ یہ کیا ''تماشہ'' لگا رکھا ہے۔ چوہدری نثار علی کی اصول پسندی بھی لیکن اوروں کی طرح سلیکٹو ہے' جہاں اپنا مفاد ہو اُصول پسند ہونے کا بھاشن دو اور جہاں اپنے لوگ سزاوار ہوں وہاں موقع کی مناسبت سے آنکھیں بند کر لو۔ عمران خان کو ''اُوئے توئے'' کا الزام دینے والوں نے چند روز میں کیا کیا زبان استعمال نہیں کی ہے۔ ''کانے خان'' ، ''کالے خان'' ، ''بہتان خان'' ، ''ہڈی نہیں ڈالی گئی'' وغیرہ وغیرہ۔ دانیال عزیز نے بے شرمی سے کہا خان یہ دیکھو یہ میری انگلی ہے۔ طلال چوہدری نے تمام حدیں پار کرتے ہوئے کہا نہ تمہارے باپ کا پتہ چلے گا اور نہ بچوں کا۔ یہ کون سی اخلاقیات قوم کے سامنے پیش کی گئیں۔ سچ یہ ہے کہ شرافت کا لبادہ اوڑھے چہروں سے نقاب اُتر گیا ہے اور پیچھے سے مکروہ چہرے برآمد ہوئے ہیں۔

لفظ چبا چبا کر بولنے والے یہ لیگی رہنما ہیں جو کہا کرتے تھے کہ میاں صاحب کی بیرون ملک جائیدادوں کا ایک ایک ثبوت حاضر ہے۔ آج عدالت عظمیٰ میں ثبوت پیش کرنے کا وقت آیا ہے تو وزیر اعظم کے وکیل کبھی آرٹیکل 66کے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رہے ہیں اور کبھی آئین کے آرٹیکل 248کا ذکر آ رہا ہے۔ نعیم بخاری کے دلائل کا مغز تھا کہ قطری شہزادے کے خط کو بیچ میں سے نکال دیا جائے تو نام نہاد منی ٹریل کی حقیقت آشکار ہو جائے گی۔ آج مخدوم علی خان وزیر اعظم کے دفاع میں دلائل دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ وزیر اعظم کی پارلیمنٹ میں کی گئی تقریر کو بیچ میں سے نکال دیا جائے تو بیانات میں تضاد اور غلط بیانی کا معاملہ ختم ہو جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وزیر اعظم نے پاکستان کی قومی اسمبلی میں جو تقریر کی وہ جھوٹ پر مبنی تھی اور اس میں غلط بیانی کی گئی ہے؟ یعنی یہ ہے پارلیمنٹ کا تقدس جس کی بالادستی کے بارے میں آئے دن ہمیں لیکچر سننے کو ملتے ہیں۔ جمہوریت نوازوںکے ہاتھوں اگر پارلیمنٹ کو اس طرح بے توقیر ہونا تھا تو جمہوریت جمہوریت کی رٹ کیوں لگائی گئی اور کیوں ہر مصیبت میں جمہوریت کے پیچھے چھپنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ جمہوریت فقط ایک ڈھکوسلا ہے۔ درحقیقت اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے جمہوریت کا ڈرامہ رچایا جاتا ہے اور جمہوریت کے نام پر دو خاندانوں کی بادشاہت اس ملک پر مسلط ہے۔ وزیر اعظم کے وکیل نے آٹھ دن کے دلائل میں لندن میں فلیٹوں کی ملکیت کی بابت کیا ثبوت پیش کیے ہیں؟ کہاں گئے وہ ذرائع جن کے بارے میں وزیر اعظم نے اسمبلی فلور پر دونوں ہاتھ ہوا میں لہرا کے کہا تھا کہ ''حضور…یہ ہیں وہ ذرائع''۔ آج نہ کوئی ثبوت ہے اور نہ کوئی منی ٹریل کی ٹھوس گواہی۔ عدالت کو مطمئن کرنے میںناکامی کے بعد اب لیگی وزراء عدالت کو ڈرانے دھمکانے پر آ گئے ہیں۔ پنجاب کے وزیر قانون جن کے حوالے سے مسلم لیگ ن کے وزیر عابد شیر علی کے والد محترم 'خود وزیرلاقانون' کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں کاکہنا کیاعدالت کودھمکانے کے مترادف نہیں ہے کہ نواز شریف کے خلاف فیصلہ آیا تو عوام اس کو قبول نہیں کریں گے۔ کچھ اس قسم کی باتیں وفاقی وزراء نے بھی کی ہیں۔ چنانچہ عدالت کو دباؤ میں لانے کا ماحول بنایا جا رہا ہے تاکہ ہمیشہ کی طرح مرضی کا فیصلہ حاصل کیا جا سکے۔ بلاول بھٹو زرداری نے فیصل آباد جلسے میں درست نشاندہی کی ہے کہ میاں فیملی نے عدالتی فیصلوں کو اپنے حق میں حاصل کرنے کے لیے کبھی چمک استعمال کی اور کبھی ججوں کو ٹیلی فون کیے گئے۔ یہ باتیں اب راز نہیں ہیں بلکہ عوام کے سامنے آ چکی ہیں۔ عوام دیکھ رہے ہیں کہ کل تک جو لوگ پارسائی کے دعویدار تھے ان کی اصل حقیقت کیا ہے ۔ کل تک اخلاقیات کے درس دینے والوں کی اپنی زبانیں کس قدر گندی ہیں اور کل تک قانون کی بالادستی اور عدلیہ کے فیصلوں کی پابندی کی بات کرنے والے آج کس طرح اسی منہ سے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی خلاف ورزی کاعندیہ دینے لگے ہیں۔ عوام سمجھ رہے ہیں کہ کل تک چور سپاہی کا جعلی کھیل کھیلنے والوں کو آج عدلیہ کارروائی سے موت کیوں پڑ رہی ہے اور کیا وجہ ہے کہ اپنی صفائی دینے کی بجائے ہر طرف چور چور کی دہائی دے کر حقیقت دھندلانے کی مذموم کوشش کی جا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں