پرائی شادی میں........

پرائی شادی میں........

ہم گزشتہ کم و بیش ایک ماہ سے پرائی شادیوں میں وہ محاورے والے عبداللہ بنے ہوئے ہیں خدانخواستہ ابھی تک ہمارا دیوانہ ہونے والا مرحلہ تو نہیں آیا یہ سلسلہ اگر اسی طرح جاری رہا تو آ بھی سکتا ہے ۔ہم نے ان شادیوں کو پرائی اس لئے کہا کہ یہ ہماری اپنی نہیں تھی۔ہم بفضل تعالیٰ پورے 47 سال پہلے ،وہ جو ہمارے مہربان علامہ خلیل قریشی نے جسے خواگہ سنت کا رس بھرا نام دیا ہے ،اس مرحلے سے گزر چکے ہیں ۔ایک حسرت بہرحال چٹکیاں لیتی رہتی ہے جس کا ذکر ہم ازراہ مذاق اپنی جوان اولاد سے جو خود بھی شادیوں کے مراحل سے گزر چکی ہے ،کرتے رہتے ہیں۔ ان کی جانب سے اس خواہش کا مثبت جواب بھی ملتا ہے لیکن ہم خوو ہی بوڑھی گھوڑی لال لگام کا محاورہ یاد آنے پر اپنی اس دیرینہ خواہش کا گلا دبا دینے مجبور ہو جاتے ہیں ۔ہمارے پشتونوں کی شادی میں دلہا بارات کے ساتھ سسر کے گھر جاتا ۔اس موقع پر دلہن والوں کی جانب سے کسی بڑی دعوت کا اہتمام نہیں ہوتا۔باراتیوں کو حجرے میں بٹھا دیا جاتا ۔ان کی سادہ چائے اور مٹھائی سے تواضع کی جاتی ،خواتین دلہن کو تیار کرنے چلی جاتیں۔ اس کا سادہ قسم کا میک اپ کیا جاتا۔بیوٹی پارلر میں دلہنوں کے بنائو سنگھار کا ابھی کوئی رواج شروع نہیں ہوا تھا۔شنید ہے بیوٹی پارلر میں دلہن کے میک اپ کے50 ہزار بھی لئے جاتے ہیں۔پرانے زمانے میں کسب گرے کو دلہن کی سرخی پائو ڈر لگانے کے دس بیس روپے دے دیئے جاتے ۔ گھر کے صحن میں چارپائی جسے پالنگ کہتے رکھ دی جاتی ۔ دولہا کے نہایت ہی قریبی دوست جن کے گھر میں داخل ہونے کیلئے سسرالیوں سے اجازت لینا پڑتی ۔ دولہا کے ساتھ اندر آتے ۔ اور وہ چادر میں منہ چھپائے شرماتے لجاتے دلہا کو ہاتھ سے پکڑ کر پالنگ پر بٹھا دیتے پھر دولہا کو پالنگ پر کھڑا کیا جاتا اور وہ پہلے سے پہنے لباس پر سسرالیوں کی جانب سے دیا ہوا جوڑہ پہنتا، اس دوران دولہا کے دوستوں کو کھلی ٹوکری میں مٹھائی یا سوجی کا حلوہ تھال میں رکھ کر پیش کیا جاتا ۔ جسے د پالنگ حلوا یا مٹھائی کہتے اور یہ رسم پہ پالنگ ختل کہلاتی ۔ شرماتے دولہا کے منہ میں بھی دوست مٹھائی ٹھونسنے کی کوشش کرتے ۔اس موقع پر پستول سے فائر نگ بھی ہوتی جسے مشران ھلکہ مہ کویئے ، بس بس کہتے ہوئے منع کرتے ۔ دولہا کو ہاتھ سے پکڑ کر حجرے میں لایا جاتا مبارک شہ مبارک شہ کی آواز یں اُٹھتیں ۔ پرانے زمانے میں دو ر کے گائوں میں اونٹ پر ڈولی رکھ دی جاتی ۔ یا پھر بیل گاڑی میں لے جائی جاتی بعض پشتون گھرانوں میں شادی کے موقع پر دولہا کو باراتیوں کے ساتھ سسر کے گھر آنے کی اجازت نہ ہوتی ۔ ہمیں بھی ایسا ہی قدامت پرست خاندان نصیب ہوا ۔ جیسے کہ ہم نے عرض کیا سسر کے وسیع و عریض مکان کے صحن میں دوستوں کے جھر مٹ کے درمیان پالنگ پر چڑ ھنے کی خواہش پوری نہ ہوسکی ، ہر خاندان کی اپنی روایات ہوتی ہیں لیکن اب یہ روایت اُن قدامت پر ست خاندانوں میں بھی ختم ہوچکی ہے ۔ اب ڈولیاں گھر وں سے نہیں شادی ہالوں سے اُٹھائی جاتی ہیں۔ ماموں نم آلود آنکھوں سے اپنی بھانجی کو گود میں اُٹھا کر ڈولی میں بٹھا تے ۔ اب دلہن سہیلیوں کی بانہوںمیں بانہیں ڈال کر پھولوں سے لدی گاڑی میں ہنسی خوشی سوار ہوجاتی ہے ۔ ایسے موقعوں پر ماموں بے چارے کوکو ئی نہیں پوچھتا اُس کی اہمیت ختم ہو چکی ہے رخصتی سے پہلے شادی ہال کے سجے سجائے سٹیج پرپہلو بہ پہلودولہا دلہن کے فوٹو سیشن ہوتے ہیں ۔ دولہا ، دلہن تالیاں بجاتے ہیں اور اُن کے سامنے دلہن کی سہیلیاں اور دولہا کے دوست پاپ میوزک پر ڈانس کرتے ہیں ویڈیوز بنائی جاتی ہیں اور پھر یہ ویڈیو ز دور دراز کے رشتہ داروں کو نیٹ پر بھیجی جاتی ہیں۔ ہمارے زمانے میں شادی کارڈز کا رواج بھی نہ تھا ہمیں ایک شادی کے بارے میں بتایا گیا کہ اس پر دس ہزار روپے لاگت آئی ہے دولہا کے بھائی ماموں یا چچا ، خود لوگوں کے گھر پر جا کر شادی پر آنے کی دعوت دیتے ۔ جسے پشتومیں''ست ''کہتے ہیں حلالہ ، یعنی شادی سے ایک دن پہلے عصر کے وقت جانور ذبح کرنے کے موقع پر قریبی رشتہ داروں کو بلا یا جاتا اور یہ بڑے اعزاز کی بات سمجھی جاتی سرخ مٹھائی اور گڑ کی چائے سے مہمانوں کی تواضع کی جاتی شام کو اور بل پر آ تی خوانین ، کی لوڑ ماخ اور سفید چاولوں کی ضیافت دی جاتی جی ہاںشادی پر ذبح کئے جانے والے جانور کے گردے ، کپورے دل اور جگر وغیرہ کے پکوان کو لوڑ ماخ کہتے ہیں ،شام پکائے جانے والے ان سفید چاولوں میں صرف کشمش ڈالی جاتی ۔ بعض لوگ اُس میں گڑ کی کٹرنیں بھی شامل کردیتے ۔ صبح شادی والے دن فجر میں مہمانوں کی ضیافت کا اہتمام کیا جاتا ۔ کسب گر کو عشاء کے بعد دوبارہ ست کے لئے گھروں پر بھیجا جاتا ۔ مہمان زیادہ ہوتے تو اُن کے لئے محلے میں کوئی ہمسایہ اپنا گھر خالی کر دیتا ، دیگیں بھی ہمسا ئے کے گھر میں ہی پکائی جاتیں ، دعوت میں قورمے بھنے گوشت یامرغ، سیخ، کباب، حلوئوں،مانڈوںاور مشروبات کا کوئی تصورنہ تھا مہمان چارپائی یا زمین پر بچھی دری پر پینڈا بنا کر بیٹھ جاتے ، پینڈا چار آدمیوں کا ہوتا ۔ اُ ن کے درمیان ایک غور ئے ، دیگ کے چاولوں کی کھلی قاب اور اس پر زردے کی تہہ جما کراُن کے سامنے رکھ دی جاتی ، 47سال پہلے ہماری شادی پر بھی یہی کچھ ہوا تھامگر بس وہ ذرا ، پالنگ پر چڑھنے کی حسرت ۔۔۔چلیئے جانے دیجئے ۔ اس حسرت کے پورا نہ ہونے کے بغیر بھی ہم پوری طرح مطمئن ہیں۔ ضرور ی نہیں کہ ہر حسرت پوری ہوجائے ۔ 

اداریہ