Daily Mashriq


انائوں کا تبادلہ؟

انائوں کا تبادلہ؟

گزشتہ چند روز سے پاکستان میں قید ڈاکٹرشکیل آفریدی کی رہائی کے بدلے امریکی قید میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کی بات چیت کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔ڈاکٹر شکیل آفریدی اسامہ بن لادن اور ایبٹ آباد آپریشن کے معاملے میں قیدہیں اور کہا جاتا ہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کی پولیو مہم کے نتیجے میں ہی امریکہ اسامہ بن لادن تک پہنچنے میں کامیاب ہوا تھا ۔اسی لئے امریکہ کے لئے شکیل آفریدی کی اہمیت کا اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں ۔امریکہ ہر قیمت پر شکیل آفریدی کو رہا کرکے عزت اورتکریم کے ساتھ لے جانا چاہتا ہے ۔ان کے خیال میں یہ وہی شخص ہے جس نے امریکہ کے دشمن ِاول اسامہ بن لادن کو ڈھونڈ نکالنے میں سب سے ٹھوس تعاون کرکے ایک انہونی کو ممکن بنایا تھا ۔ امریکی حکام ہر ملاقات میں پاکستان کے حکمرانوں سے خاموشی سے شکیل آفریدی کی رہائی کا مطالبہ کرتے رہے۔ اب تو بات یہاں تک جا پہنچی تھی کہ امریکی کانگریس نے شکیل آفریدی کی رہائی کی قرارداد منظور کی ۔گویاکہ شکیل آفریدی کی رہائی کو امریکہ نے عزت اور انا کا مسئلہ بنا رکھا ہے ۔وہ جس شخص کو ہیرو کی آنکھ سے دیکھ رہے ہیں پاکستان میں ولن بنا جیل کی تنہائیوں کا شکار ہے ۔آج امریکہ اور پاکستان قدم قدم پر اسی نوع کے تضادات کی زد میں آکر ہر گزرتے دن کے ساتھ خرابی کی طرف جارہے ہیں ۔شکیل آفریدی کی طرح ڈاکٹر عافیہ کی رہائی بھی پاکستان میں قومی عزت اور انا کا معاملہ بن گیا ہے کیونکہ پاکستان میں یہ رائے بہت مضبوط ہے کہ عافیہ پاکستان کی بیٹی ہیں اور ان کی بے عزتی اور قید درحقیقت پاکستان کی قومی عزت اور غیرت پر برسنے والا مستقل اورمسلسل تازیانہ ہے ۔پاکستان میں ہمیشہ سے یہ سوچ موجود رہی ہے کہ شکیل آفریدی کے بدلے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کو یقینی بنانے کی کوشش کی جانی چاہئے گویاکہ پاکستان اور امریکہ کو اپنی اپنی انائوں کا تبادلہ کرکے اپنے تعلقات کی تاریخ کا ایک ناگوار باب ہمیشہ کے لئے بند کر دینا چاہئے ۔امریکہ نے ایک جدید تعلیم یافتہ مسلم خاتون کو حیلوں بہانوں سے گرفتار کر کے افغانستان میں بگرام ائیر بیس کے عقوبت خانے میں لے جا کر جس طرح غیر انسانی سلوک کا شکار بنایا ان کے معصوم بچے کو تشدد کرکے موت کے گھاٹ اُتارا گیا یہ روح فرساکہانی مغرب کی جدیدیت ،انسان دوستی ،خواتین کے حقوق اور آزادیوںکے دعوئوں کا منہ چڑا تی ہے ۔یہ ایسی کہانی ہے جو آنے والے زمانوں میں یونی پولر دنیا کی واحد طاقت کی سفاکی اور وحشت کی یادگار رہے گی ۔دنیا کو معلوم ہوگا کہ جب دنیا قدرت کے قائم اور عطا کردہ حسن یعنی توازن سے ذراسی دیر کو بھی محروم ہو جاتی ہے تو کیسی قیامتیں اور مصیبتیں انسانیت کے گھر کی راہ دیکھ لیتی ہیں۔اس لئے دنیا کو اس کے قدرتی حسن یعنی توازن پر قائم رہنا چاہئے ۔عدم تواز ن سے دنیا میں واحد طاقتور خود کو ارضی دیوتا سمجھ کر انسانوں کو اپنی بندگی اور پرستش پر مجبور کرتا ہے ۔اسی روش اور رویے کو تاریخ میں فرعونیت کہا گیا ہے ۔عافیہ پاکستانی شہری ہیں ۔اس لحاظ پاکستانی قوم اور حکومتوں کا فرض ہے کہ وہ ان کی رہائی کے لئے ہمہ وقت مصروف جدوجہد رہیں ۔امریکہ میں ایک نئی حکومت تشکیل پا چکی ہے ۔ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے ایک منفر دقسم کے صدر ہیں ۔ان کا انتخاب بھی دنیا کے لئے ایک حیران کردینے والا واقعہ تھا ۔ان کی اس انفرادیت کی پٹاری سے کیا برآمد ہوتا ہے ؟اب دنیا کی نظریں اس بات پر لگی ہیں ۔باراک اوباما قصۂ پارینہ بن چکے ہیں۔ایسے میں ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لئے قائم تنظیم عافیہ موومنٹ کے میڈیا انفارمیشن سیل کی طرف سے ایک خبر جاری ہوئی ہے جس کے مطابق ڈاکٹر عافیہ کے امریکی اٹارنی اسٹیفن ایف ڈاونز اور کیتھی مینلے نے حکومت پاکستان سے اپیل کی ہے کہ وہ عافیہ کی رہائی کے لئے امریکہ کو باضابطہ خط لکھنے میں تاخیر کرکے رہائی کا تاریخی موقع نہ گنوائے ۔اب جبکہ شکیل آفریدی کی رہائی کے بدلے عافیہ صدیقی کی رہائی کی بات چل رہی ہے تو عافیہ کی رہائی میں دیر کرنا بہت غلط ہوگا ۔عافیہ صدیقی کے ان وکلا کے اس بیان کی ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔ دو سال قبل بھی عافیہ صدیقی کے یہ وکلاء پاکستان آئے تھے اور انہوں نے مختلف تقریبات اور میڈیا کے سامنے دوٹوک انداز میں کہا تھا کہ حکومت پاکستان اگر امریکی انتظامیہ کے نام ایک خط لکھے تو عافیہ کی رہائی کا معجزہ رونما ہوسکتا ہے ۔دوسال گزرنے کے بعد بھی عافیہ صدیقی کے وکلا ایک خط کا سوال اور مطالبہ کر رہے ہیں ۔نجانے حکومت کن مصلحتوں اور مجبوریوں کا شکار ہو کر یہ اتمام حجت کرنے سے گریزاں ہے حالانکہ جہاں ان امریکی وکلا ء کی ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے وہیں میاں نوازشریف کا ایک وعدہ بھی میڈیا میں زیر بحث ہے جس میں انہوں نے عافیہ صدیقی کی والدہ سے ان کی بیٹی کو عزت کے ساتھ وطن واپس لانے کاکہا تھا ۔یہ وعدہ اس وقت ہوا تھا جب میاں نوازشریف وزیر اعظم نہیں تھے ۔وزیر اعظم بننے کے بعد وہ اپنے وعدے کو فراموش کربیٹھے نوبت یہاں تک جا پہنچی کہ ایک رسمی ساخط لکھنا بھی گوارا نہیں۔ امریکہ سے ملنے والے عافیہ صدیقی کی رہائی کے اس اشارے اور پیدا ہونے والے امکان کے بعد ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لئے سستی اور کوتاہی ایک تاریخی غلطی ہوگی ۔وزیر اعظم کے خارجہ امور کے معاون خصوصی طارق فاطمی نے بھی شکیل آفریدی کی رہائی پر غور کرنے کا عندیہ دیا ہے ۔جس کا مطلب ہے کہ درون ِخانہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان اپنے اپنے قیدیوں کی رہائی کے لئے ڈیل کی بات چل رہی ہے ۔اگر معاملہ محض ایک خط لکھنے کا ہے جس کا اظہار عافیہ صدیقی کے امریکی اٹارنی نے کیا تو اس میں تاخیر نہیں کی جانی چاہئے ۔

متعلقہ خبریں