Daily Mashriq


نصاب تعلیم میں قرآن کی تعلیمات اور ناظرہ

نصاب تعلیم میں قرآن کی تعلیمات اور ناظرہ

ویسے تو ہر حکومت اپنی دانست میں اس زعم میں ہوتی ہے کہ وہ بہت ہی اچھے کام کرتی ہے اور عوام کا بہت خیال رکھتی ہے لیکن پاکستان میں ایسی حکومتیں بہت کم آئی ہیںجن سے عوام صحیح معنوں میں مطمئن ہوئے ہوں۔ یہ الگ بات ہے کہ پاکستانی عوام دنیا کے اچھے لوگوں میں اس لئے شمار ہوتے ہیں کہ جیسے تیسے بھی زندگی گزارتے ہوئے شکوہ شکایت بہت کم کرتے ہیں۔ اس مملکت کیلئے بدیر سہی ، جو آئین و دستور تشکیل دیا گیا ، اُس پر اگر حقیقی معنوں میں عمل در آمد کرایا جاتا تو بلا شبہ آج پاکستان ایک مثالی ریاست اور پاکستانی عوام ایک مثالی اور خوشحال معاشرہ میں رہتے ۔ قیام پاکستان کے ساتھ ہی اگر تین چار بڑے فیصلے آئین و قانون کے ذریعے لاگوہوجاتے تو پاکستا ن کی حالت آج یہ نہ ہوتی بلکہ خطہ ء زمین صحیح معنوں میں مسلما نان عالم کے لئے ایک مثالی اسلامی ریاست کا نمونہ ہوتا ۔ عالم اسلام میں اس کی تقلید ہوتی اور پاکستان اسلامی دنیا کا قائد اور رہنما ہوتا۔ زبان کسی بھی معاشرے کے افراد کی تعلیم و تعلم اور تہذیب و تمدن کے لیے بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے ۔ پاکستان جیسے کثیر القومی وقبائلی ملک کے لئے ایک متفقہ اور اکثریتی لوگوں کی سمجھ میں آنے والی کسی زبان کو قومی زبان کی حیثیت سے آئین و قانون کے ذریعے تحفظ و ترقی کے مواقع فراہم کر کے نافذ کروایا جاتا ہے ۔ بر صغیر پاک و ہند کے مسلما نوںنے باہمی رابطہ وضبط کے لئے اردو زبان تخلیق دی لیکن اس اہم زبان کو دفتری ، سرکاری اور قومی بنانے کے لئے آئین پاکستان میں واضح الفاظ میں دستور کا حصہ بنا کر اور حالیہ برسو ں میں سپریم کورٹ آف پاکستا ن کے حکم کے باوجود اس کے لئے سنجیدہ کوششیں آج تک نہ ہو سکیں جس کا قومی سطح پر عوام بہت بڑا خمیازہ بھگت رہے ہیں ۔ قوم دو واضح حصوں میں بٹی ہوئی ہے ایک ایلیٹ(طبقہ و اشرافیہ)ہے جن کے انگریز ی میڈیم تعلیمی اداروں میں اور دوسرا عوامی طبقہ جوٹاٹ پر بیٹھ کر اردو اور مادری زبانوں میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے اشرافیہ کا مقابلہ کبھی نہیں کر سکتے ۔ دوسرا اہم فیصلہ یہ تھا کہ پاکستان ایک نظریاتی ملک ہونے کے ناتے اس بات کا پابند ہے کہ وہ اپنے عوام کو ملک کی نظریاتی اساس کے بارے میںمنظم و محکم علم حاصل کرنے کے ذرائع و مواقع فراہم کرے ۔ آئین پاکستان کے مطابق تعلیمی اداروں میں قرآن کریم ناظرہ اور بعض مو ضوعاتی مضامین قرآن کریم پڑھانا لازمی تھا۔ اس کے علاوہ پاکستان میں یکساں نصاب تعلیم کو ممکن اور آسان بنانے کیلئے سارے علوم کی بنیاد قرآن و سنت پر مبنی ہونا لازمی تھا ۔اور اس کے بغیر پاکستان جیسے ملک بالخصوص اور دیگر اسلامی ممالک بالعموم وہ اہداف کبھی حاصل نہیں کر سکیں گے جو مسلمان امت کے لئے اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول خاتم انبیینۖ مخصوص کئے گئے ہیں ۔ قرآن کریم کو سیکھنے کے لئے عربی زبان کے ضروری قاعدے وغیرہ سمجھنا بہت ضروری ہے ۔ لہٰذا قرآن کریم کی تعلیمات کے ذریعے اصلاح معاشرہ کے لئے ضروری ہے کہ سکولوں میں پانچویں جماعت سے بچوں کو میٹرک تک اتنی عربی زبان ضرور سکھانے کے انتظامات کئے جائیں جس کے ذریعے قرآن فہمی آسان ہو جائے اس کے لئے جہاں سکولوں میں ایسے اساتذہ کی ضرورت ہوگی جو کسی مستند مدرسے کے فارغ التحصیل ہوں وہاں ایسے اساتذہ کے لئے کچھ جدید اور عصری علوم کا حصول بھی لازمی ہوگا۔ اور ایسے اساتذہ کا انتخاب ہو جو مشنری جذبہ کے حامل ہوں ۔ خیبر پختونخوا کی موجودہ حکومت نے پانچویں سے میٹرک تک قرآن کریم ناظرہ اور قرآن کریم کے دیگر مضامین کو نصاب کا حصہ بنا کر بہت بڑا کا م کیا ہے ۔ یہ بہت دوررس اثرات کا حامل کام ہے ۔ لیکن اس کے لئے بہت ہمہ گیر اور حکمت پر مبنی تعلیمی پالیسی کی ضرورت ہے ۔ سکولوں میں قرآن کریم سکھانے پڑھانے اور سمجھانے کے لئے سکول کے پرنسپل ، اساتذہ طلبہ اور اے ٹی استاد مل کر ماحول ایسابنائیں گے جس پر قرآن کریم کی تعلیمات کا نور چمکتا ہوا نظر آئے ۔اس کے لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ صوبائی وزارت تعلیم ، ٹیکسٹ بک بورڈ اور ماہرین تعلیم مل کر ورکشاپوں ، سیمیناروں اور کانفرنسوں کے ذریعے ایک جامع لائحہ عمل اور واضح نقشہ جات اور جدول کے ذریعے صوبے کے سارے سکولوں پر بیک وقت نفاذ کے لئے سرکلرایشو کر واکر عمل درآمد کا پابند بنایا جائے ۔ اگر ہمارے سکولوں میں قرآن کریم اور سنت مطہرہ کی تعلیمات پڑھانے اور سکھانے کا یہ پروگرام کامیاب کر ادیاگیا تو وہ دن دور نہیں کہ ایک طرف معاشرتی و سماجی برائیوں کا قلع قمع ہوگا اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اس ملک اور معاشرے پر برسیں گی ۔ ہماری نئی نسل جب قرآن کریم و حدیث کی نورانی تعلیمات سے منور ہوںگی تو اُن کو معلوم ہو جائے گا کہ آج کے مسلمان معاشروں کا سب سے بڑا مسئلہ سودی معیشت ہے اور اس معاشی نظام کے چلانے والوں کے ساتھ اللہ و رسول ۖ کی طرف سے اعلان جنگ ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس عظیم تعلیمی منصوبے کو کامیاب کرے جو آئین پاکستان کی ایک اہم شق پر عمل کرنے کی بنیاد بھی ہے ۔

متعلقہ خبریں