خادم اعلیٰ کی گڈ گورننس پر سوالیہ نشان

خادم اعلیٰ کی گڈ گورننس پر سوالیہ نشان

وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے اپنے گزشتہ Tenureمیںاپنے لیے وزیر اعلیٰ کی بجائے خادم اعلیٰ کے لقب کا انتخاب خود کیا۔ گو انہوںنے یہ بات ایک تقریب سے خطاب کے دوران کہی تھی لیکن اس لقب کو اس قدر پذیرائی ملی کہ دیکھتے ہی دیکھتے نہ صرف صوبہ پنجاب بلکہ پورے ملک میں خادم اعلیٰ کے لقب سے انہیں پکارا جانے لگا، بلکہ اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا پر پنجاب گورنمنٹ کی جانب سے جاری اشتہارات میں بھی خادم اعلیٰ ہی درج ہوتا، حتیٰ کہ انہوں نے جوپراجیکٹس شروع کیے اور ان پرجو نام لکھا گیا وہ بھی خادم اعلیٰ ہی انہوں نے اپنے لیے پسند کیا، پنجاب میں ترکی کی مددسے جو صفائی کی گاڑیاں چل رہی ہیں ان پر بھی خادم اعلیٰ ہی لکھا گیا ہے ۔شہباز شریف نے اپنے لیے خادم اعلیٰ کا لقب اس لیے پسند کیا کیونکہ ان کے بارے میں صوبہ بھرمیں مشہور ہے کہ انتھک محنت کرتے ہیں، سردی ہو یا گرمی حتیٰ بارش اور سیلاب میں بھی وہ اپنے لمبے اور مخصوص بوٹوںکے ساتھ متاثرین کے ساتھ نظرآئے۔ خود بھی چوکس رہنا اور عملے کو بھی چوکس رکھنا یہ شہباز شریف کے بارے میں مشہور ہونے لگا، بڑے ترقیاتی منصوبے انہوں نے دنوں میں مکمل کروائے ، جن میں فلائی اوور اورمیٹرو بس منصوبے سرفہرست ہیں۔ سو اس تناظر میں دیکھا جائے تو شہباز شریف نے ملک میں نئی روایت قائم کی اور منصوبوں کی خود نگرانی کرکے انہیں دنوں میں پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ اس کے بعد دیگر صوبوں میں بھی اس روایت کو اپنایا گیا اور ترقیاتی منصوبے سالوں میں پورے ہوتے تھے وہ دنوں میں پورے ہونے لگے۔ اسی طرح دیگر قومی اداروں کے ہنگامی دوروں کی وجہ سے بھی شہباز شریف مشہور ہیں، ناقص کارکردگی پر وہ ملازمین کو چند لمحوں میں ہی نوکری سے فارغ کر دیتے تھے۔ صوبے میں تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں کی بہتر صورت حال کا کریڈٹ بھی خادم اعلیٰ کو دیا جاتا تھا اور حکومتی کاسہ لیس فخریہ طور پریہ کہا کرتے تھے کہ صوبہ پنجاب دیگر صوبوں کی نسبت کارکردگی میں بہت بہتر ہے۔ لیکن صوبائی دارالحکومت لاہور میں خادم اعلیٰ کی ناک کے عین نیچے ایک ایسا سکینڈل منظر عام پر آیا جس نے خادم اعلیٰ اور اس کی ٹیم کی گڈ گورننس پر سوالیہ نشان لگا دیا۔ لاہور کے قدیم اور مشہور میو ہسپتال میں ڈاکٹرز' پروفیسرز اور دیگرعملہ ایسے فعل میں ملوث پایا گیا جو انسانی جانوں سے کھیل رہے تھے ، یہ کھیل کب سے جاری تھا' انہوں نے مقدس پیشہ کی آڑ میں کتنے شہریوں کی زندگیوں سے کھلواڑ کیا اس کی تفصیلات ابھی آنا باقی ہیں۔ لاہور ایف آئی اے کو ایک ایسے شخص کی جانب سے درخواست موصول ہوئی جو معمول کے چیک اپ کے لیے میو ہسپتال گیا، جہاں اسے بتایا گیا کہ اس کی حالت بہت خراب ہے ' اگر اس نے فوری طور پر دل کے بند والو کے لیے سٹنٹ نہ ڈلوائے تو اس کی حالت مزید خراب ہو سکتی ہے۔ یوں اس شہری کو ڈرا کر اس کا آپریشن کر کے جعلی سٹنٹ ڈال دیے گئے جس کے لاکھوں روپے اس سے وصول کیے گئے۔ شہری کو شک ہوا تو اس نے لاہور ایف آئی اے سے رابطہ کیا۔ ایف آئی اے نے درخواست پر کارروائی کا آغاز کیا اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر میاں اعجاز نے میو ہسپتال جا کر اپنا ٹیسٹ کرایا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں بھی سٹنٹ ڈلوانے کا مشورہ دیا،اس کے بعد ایف آئی اے نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا تو پتہ چلا کہ میو ہسپتال کے پروفیسرز نے ایک سٹنٹ بنانے والی کمپنی کے ساتھ ملی بھگت کرکے انہیں ہسپتال میں ایک کمرہ فراہم کیا ہوا تھا جہاں پر مریضوں کو جعل سازی سے جعلی سٹنٹ بھاری رقوم وصول کرکے ڈالے جا رہے تھے۔ ایف آئی اے نے ہسپتال سے کروڑوںروپے کے جعلی سٹنٹ قبضے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے ہسپتال کے پروفیسرز اور کمپنی کے اہل کاروں کو شامل تفتیش کر لیا ہے۔ ایف آئی اے کی تحقیقات کیا رخ اختیار کرتی ہیں یہ توآئندہ دنوں میں ہی معلوم ہو سکے گالیکن ایک بات طے ہے کہ اس طرح کا دھندہ اور اس قدر بڑے پیمانے پراعلیٰ حکام کی ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ ہسپتالوں کا نظام کس طرح چلایا جاتا ہے ،کن شخصیات کو کیسے نوازا جاتا ہے ایک چشم دید واقعہ ملاحظہ ہو:2014ء کے اوائل میں راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (RIC)میں میری اہلیہ کے دل کا آپریشن ہوا ، جس کی وجہ سے مجھے دل کے مریضوں کے مسائل کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ علاج اور ہسپتال کی میڈیسن کمپنیوں کے ساتھ معاہدوں بارے بھی معلومات حاصل ہوئیں۔ RICکی انتظامیہ نے مجھے طلب کیا اور پوچھا کہ آپ نے پیسے جمع کروا دیے تھے؟ میں نے جواباً دو لاکھ تیس ہزار روپے کے چیک کی کاپی ان کے سامنے رکھی جو ان کے اکاؤنٹ میں جمع کرائے گئے تھے۔ ایک صاحب بولے پھر کمپنی کیوں مطالبہ کر رہی ہے؟ میرا مسئلہ تو چیک کی کاپی جمع کرانے سے حل ہو گیا لیکن میں نے کمپنی کا کھوج لگایا تو پتا چلا کہ چند سال قبل ایفی ڈرین کیس میں ملوث راولپنڈی کی سیاسی شخصیت کی کمپنی ہے جس سے دل کے مریضوں کے لیے کروڑوں روپے کا سامان لیا جاتا ہے۔ اعلیٰ سیاسی شخصیات کو میڈیسن کا ٹھیکہ دینے کے ساتھ ساتھ ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ خادم اعلیٰ پنجاب ان کی فیملی کا کوئی ممبر بھی ان ہسپتالوں سے علاج نہیں کراتا۔ گزشتہ سال وزیر اعظم نواز شریف کی ہارٹ سرجری لندن میں ہوئی تھی۔ خادم اعلیٰ بھی ہر ماہ امریکہ سے چیک اپ کرانے کے لئے جاتے ہیں۔اس تناظر میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ گڈ گورننس پر ڈھول پیٹنے والو!ملک کے ہسپتالوں میں تم خود علاج کیوں نہیں کراتے؟

اداریہ