بس اب کارروائی ہی کرنا باقی ہے

بس اب کارروائی ہی کرنا باقی ہے

مصنوعات کی پیکنگ پر صحت سے متعلق آگاہی پیغامات کی عدم طباعت پر حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں بچوں کیلئے دودھ اور ٹھوس خوراک سپلائی کرنیوالی کمپنیوں کیخلاف کارروائی کا فیصلہ اور اس سلسلے میں عملدرآمد کیلئے کمپنیوں کو ایک ماہ کی مہلت کے ساتھ حتمی نوٹس کا اجراء قابل اطمینان امر ہے۔خیال رہے کہ بچوں کوڈبے کا دودھ پلانے کے رجحان میں کمی کیلئے خیبر پختونخوا میں قانون سازی کی گئی ہے ۔ اس قانون کے تحت بچوں کیلئے دودھ اور خوراک بنانیوالی کمپنیوں کیلئے بھی لازم ہے کہ ڈبے کے پیکٹ پر40فیصد کے تناسب سے آگاہی پیغامات کی طباعت کی جائیں ان ہدایات پر ابھی تک کسی بھی شعبے میں عمل نہیں ہورہاجس کے بعد ایکشن لینے کے علاوہ کوئی چارہ کار باقی نہیں تھا۔بہت سارے معاملات میں موثر قانون کی عدم موجودگی سب سے بڑی رکاوٹ ٹھہرتی ہے لیکن خوش آئند امر یہ ہے کہ ایک جدید نوعیت کے مسئلے سے قانونی طور پر نمٹنے کے لئے خیبر پختونخوا میں قانون سازی کرلی گئی ہے جس کے بعد عملدرآمد کا سوال باقی تھا ۔ توقع کی جاسکتی ہے کہ متعلقہ قوانین کو بروئے کار لاتے ہوئے عوام کی صحت سے کھیلنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی یقینی بنائی جائے گی۔


اسفندیار ولی کا دعوت احتساب
عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفند یار ولی خان کی جانب سے بدعنوانی ثابت ہونے پرہر قسم کی سزا بھگتنے کیلئے تیار ہونے کی پیشکش تحریک انصاف کی صوبائی حکومت اور نیب دونوں ہی کے لئے کھلا چیلنج ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت کے حوالے سے بد اچھا بدنام برا کا تاثر پورے صوبے میں ہے۔امر واقع یہ ہے کہ اے این پی کی حکومت اوررہنمائوں پر بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے تمام تر الزامات کے باوجود کسی کارروائی کا نہ ہونا اور اے این پی کے رہنمائوں کا اس طرح سینہ تان کر دعوت احتساب دینا توجہ طلب امر ہے۔ اگر ان پر بدعنوانی کے الزامات میں حقیقت تھی تو اب تک ان کے خلاف کارروائی اور احتساب کے عمل میں کیا امر مانع رہا ہے۔صوبائی حکومت اور نیب کے حکام کو اسفندیار ولی خان کی پیشکش کا خیر مقدم کرتے ہوئے ان کے خلاف اور اے این پی کی گزشتہ حکومت کے خلاف تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔

اداریہ