Daily Mashriq


افغان مہاجرین کی واپسی میں مزید تاخیر کی گنجائش نہیں

افغان مہاجرین کی واپسی میں مزید تاخیر کی گنجائش نہیں

پاکستان نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ الزامات لگانے کے بجائے ملک میں موجود 30لاکھ افغان پناہ گزین کی قابلِ عزت واپسی کے لیے امدادی پیکج فراہم کرے۔وفاقی وزیر داخلہ اور وفاقی وزیر برائے ترقی و منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان سے یہ امید نہ رکھی جائے کہ حکام 30لاکھ افغان مہاجرین کا جائزہ لے کر یہ بتائیں کہ ان میں سے کون امن پسند ہے اور کون دہشت گردی میں ملوث ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ جب مہاجرین اپنے ملک واپس لوٹ جائیں گے تو پاکستان اپنی سرزمین پر دہشت گرد کی عدم موجودگی کی ضمانت دے سکتا ہے۔دنیا بھر میں سب سے زیادہ مہاجرین کو پناہ دینے اور سب سے بڑی تعداد میں مہاجرین کو کھپانے کا جو ریکارڈ پاکستان رکھتا ہے اس کی نظیرنہیں ملتی۔وفاقی وزیر داخلہ کے بیان سے قبل بھی پاکستان بار بار اس طرف توجہ دلاتا رہا ہے لیکن امریکی صدر ٹرمپ کی متنازعہ ٹویٹ کے بعد پاکستان افغان مہاجرین کی مکمل طور پر وطن واپسی میں جس قدر سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہا ہے اگر اس طرح کی سعی پہلے کی جا چکی ہوتی تو آج نہ صرف افغان مہاجرین کی وطن واپسی ہوچکی ہوتی بلکہ پاکستان پر دہشت گردوں کو پناہ دینے اور حقانی نیٹ ورک کی پاکستان میں موجودگی جیسے لغو الزامات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ اس بات سے انکار کی گنجائش نہیں کہ پاکستان میں افغان مہاجرین ہی کے بھیس میں دہشت گردوں سے لے کر حقانی نیٹ ورک کے کارندوں تک بلکہ سی آئی اے' را اور موساد کے ایجنٹ بھی موجود ہوسکتے ہیں۔ بلاشبہ افغان مہاجرین کی غالب ترین اکثریت کا مقصد محض ترک وطن کرنے کے بعد روز گار اور کاروبار کرکے یہیں سکونت ہے اتنی بڑی تعداد میں افغان مہاجرین میں یہ امتیاز کرنا مشکل ہے کہ حقیقی مہاجرین کون ہیں اور ان کے بھیس میں گھس بیٹھئے کون ہیں؟ افغان مہاجرین کے جرائم میں ملوث ہونے کے معاملات کوئی افسانوی بات نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ اغواء برائے تاوان کی وارداتیں اور افغانستان کے علاقے سے بھتے کی کالیں اور رقوم کی وصولی جیسے مسائلمیں گوکہ کمی آئی ہے لیکن ہنوز ان مسائل سے مکمل طور پر چھٹکارا ممکن نہیں ہوسکاہے۔ ان تمام مشکلات و مسائل سے قطع نظر بھی دنیا میں کہیں بھی کسی دوسرے ملک کے شہریوں کو اس قدر پر سہولت مواقع نہیں دئیے گئے جو پاکستان میں افغان مہاجرین کو اب تک حاصل ہیں۔ انہی عناصر کے بھیس میں ہونے والے اقدامات و واقعات کو بنیاد بنا کر اگر پاکستان ہی کو مطعون کیا جانے لگے تو پاکستان کے پاس ان عناصر کی واپسی کے علاوہ کوئی اور صورت کیا باقی رہ جاتی ہے۔ خود امریکہ کی پالیسی میں مہاجرین تو درکنار قانونی طور پر امریکہ میں مقیم افراد اور امریکہ اور یورپی ممالک جانے کے خواہشمند افراد سے جو سلوک روا رکھا جانے لگا ہے اس کے بعد امریکہ اور عالمی دنیا کے پاس پاکستان سے افغان مہاجرین کی مزید میزبانی اور ان کو مہلت دینے کے مطالبے کا جواز ہی باقی نہیں بچتا۔ جہاں تک افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے لئے وسائل کی فراہمی کا سوال ہے ہمارے تئیں یہ لوگ چونکہ امریکہ ہی کے لئے متاثر ہوئے تھے اور مقصد پورا ہونے یا نہ ہونے کے بعد اب یہ امریکہ ہی کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کی وطن واپسی' بحالی اور آبادی کاری کے انتظامات کرے۔ امریکہ کو اس ذمہ داری کو اٹھانے سے اب پس و پیش نہیں کرنا چاہئے۔ پاکستان میں لاکھوں افغان مہاجرین کی موجودگی میں ان عناصر کی پہچان اور ان کے خلاف کارروائی ممکن ہی نہیں جس کاامریکہ مطالبہ کرتا آیا ہے۔ جب افغانوں کی واپسی مکمل ہو جائے تو اس کے بعد ہی اس امر کا جائزہ لینا ممکن ہوگا کہ کتنے پاکستانی اور کس کس علاقے کے افراد مشکوک سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور کس حد تک ہیں ان کے خلاف کیا کارروائی کی ضرورت ہے اور روک تھام کا عمل کیسے ممکن ہے۔ جہاں تک افغان حکومت کا تعلق ہے اس کی کمزور پوزیشن بھی خطے میں عدم استحکام اور دہشت گردوں کے لئے تقویت کاباعث ہے۔ بنا بریں افغانستان میں ایک مستحکم حکومت کے قیام میں امریکہ کی ذمہ داریاں اہم ہیں خود افغان حکمران اس امر کا واضح طور پر اظہار کررہے ہیں کہ امریکی امداد کے بغیر ان کی حکومت نہیں چل سکتی جس کا واضح مطلب یہی نکلتا ہے کہ وہ داخلی استحکام کے قابل نہیں اور نہ ہی وہ لاکھوں مہاجرین کی واپسی کے متحمل ہوسکتے ہیں۔ اس طرح کی صورتحال میں امریکہ نہ تو افغانستان میں قیام امن کی ذمہ داریوں کی ادائیگی پر توجہ دے رہا ہے اور نہ ہی اس کو خطے میں دوسرے ممالک کے کردار کااعتراف ہے۔ پاکستان کو کٹہرے میں کھڑے کرنے کی ریت جب تک اختیار ہوتی رہے گی اور مسائل کو سمجھنے کی بجائے الزامات اور انگشت نمائی کی صورتحال جاری رہے گی تب تک خطے میں امن و استحکام کی امیدیں پوری ہونا مشکل امر ہوگا۔ پاکستان نے افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے لئے جس حتمی اقدام کا فیصلہ کیا ہے اس پر عمل پیرا ہونے کے علاوہ اب کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں رہ گیا ہے جس میں اب نرمی کی گنجائش نہیں اور نہ ہی اس میں توسیع کی جانی چاہئے تاکہ یہ معاملہ یکبارگی حل ہو اور امریکی تحفظات دور کرنے کی راہ ہموار ہو اور پاکستان پرمزید الزامات نہ لگیں۔

متعلقہ خبریں