Daily Mashriq


مولانا صوفی محمد کے زریں خیالات

مولانا صوفی محمد کے زریں خیالات

کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ صوفی محمد نے کہا ہے کہ پاک فوج کے خلاف لڑنا حرام ہے اگر پاک فوج نہ ہوتی تو ملک کب کا تقسیم ہوچکا ہوتاکلمہ گو مسلمان کو قتل کرنا حرام اور ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانا خلاف شریعت ہے۔مولانا صوفی محمد کی ماضی کی تحریک اور نقطہ نظر سے اختلاف کی گنجائش ہے ان کا نقطہ نظر اس بناء پر معقول اور قابل قبول اس لئے ہے کہ اس میں شریعت کی پابندی کی پوری طرح سعی موجود ہوتی ہے۔ بہر حال ان کی ماضی کی تحریک اور نقطہ نظر سے قطع نظر انہوں نے مسلمانوں کے خون کی حرمت، ریاست کیخلاف ہتھیار اٹھانے اور پاک فوج کے حوالے سے جن خیالات کااظہار کیا ہے ان کے برحق ہونے میں شبہ نہیں اسے ہماری بدقسمتی ہی قرار دیا جائے گا کہ جب دہشت گرد مسلمانوں کے لبادے میں اور اسلام کا نام استعمال کرکے اپنی مذموم کارروائیوں کو جائز قرار دینے کی کوشش کرتے تھے تو جس قدر کھل کر علمائے کرام اب شریعت کی تشریح اور پاک فوج سے لڑنے کو حرام قرار دے رہے ہیں اس وقت اس کی اشد ضرورت ہونے کے باوجود ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ مولانا صوفی محمد کا اس علاقے میں بڑا احترام ہے خاص طور پر ملاکنڈ ڈویژن میں ان کے تحریک نفاذ شریعت کے لئے لوگ پوری طرح نہ صرف نکلے بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مزاحمت تک کی گئی۔ مولانا صوفی محمد اگر ان خیالات کااظہار قبل ازیں فرماتے تو ان کی افادیت مسلمہ تھی بہر حال دیر آید درست آید ان کے خیالات اور شریعت کی روشنی میں صورتحال پر واضح بیان دینے سے بہت سارے لوگوں کی غلط فہمیاں دور ہونا فطری امر ہوگا۔ یقینا پاک فوج ہماری محافظ اور نگہبان ہے اور اس بارے بھی دو رائے نہیں کہ ملکی وحدت کو محفوظ بنائے رکھنے میں ان کا کردار مسلمہ ہے جبکہ حرمت مسلم بھی مستند احادیث سے ثابت ہے ۔ شنید ہے مولانا صوفی محمد کے اس بیان کے بعد ان کو پابند بنانے اور ان کے خیالات کے اظہار کا موقع محدود کرنے کی بجائے اس امر کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے کہ ان کو عوامی اجتماعات سے خطاب کا موقع دیا جائے تاکہ ایک دینی و علمی شخصیت جو خود بھی اپنے موقف کے حوالے سے علمی جدوجہد کرتے ہوئے سختیاںجھیل چکے ہوں اور قید و بند سے گزرے ہوں ان کے خیالات یقینا دیگر علمائے کرام کے مقابلے میں زیادہ پر اثر اور عوامی مقبولیت کاحامل ہوں گے۔

متعلقہ خبریں