الزاماتی سیاست اور بد زبانیوں کی گنجائش نہیں ہے

الزاماتی سیاست اور بد زبانیوں کی گنجائش نہیں ہے

مال روڈ دھرنا یا احتجاجی جلسہ سانحہ ماڈل ٹائون کے شہداء کو انصاف دلوانے کے لئے تھا۔ جناب قادری سمیت متحدہ اپوزیشن کے سارے ''جغادری'' پچھلے چند دنوں سے کہہ رہے تھے کہ شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ کا استعفیٰ لے کر جائیں گے۔ لیکن ہوا کیا۔ بد زبانی' دشنام طرازی' غداری کے فتویٰ کا اجراء اور شیخ رشید کا استعفیٰ۔ کاش ان سیاستدانوں( فقیر انہیں سیاستدان لکھنے پر شرمندہ ہے) نے ماضی سے سبق سیکھا ہوتا۔ شیخ رشید اور عمران خان سے کوئی شکوہ نہیں' پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے سربراہ آصف زرداری سے سوال ہے۔ کس خوشی میں انہوں نے نواز شریف کو جاتی امراء کا شیخ مجیب الرحمن قرار دیا؟ کیا وہ بیسویں صدی کی آخری تین دہائیوں کی سیاست کو اپنی بقا سمجھتے ہیں یا پھر مروجہ سیاست کے اصول کے تحت اسٹیبلشمنٹ کی ملازمت کرنے پر تیار ہوگئے ہیں۔ نواز شریف ان کی جماعت اور تین ادوار حکومت کے جرائم بہت زیادہ ہیں ان پر تنقید کی جاسکتی ہے' سب کرتے ہیں مگر ''کسی'' کی خوشنودی کے لئے کسی کو غدار کہنا درست نہیں۔ وضاحت بھی ضروری ہے کہ شیخ مجیب الرحمن مطالعہ ، پاکستان ، ڈاکٹر صفدر محمود قبیل کے لوگوں کی کتابوں اور جماعت اسلامی کی صالحیت کے معیار کے غدار ہیں ۔ ورنہ سچ یہ ہے کہ وہ مشرقی پاکستان کی 98فیصد آبادی کے منتخب قائد تھے۔
میاں نوازشریف کی سیاست طرز حکمرانی' اقربا پروری' حکومت کی آڑ میں خاندانی اثاثوں کو ہزار فیصد بڑھانے پر تنقید جائز ہوگی لیکن انہیں غدار' مودی کا ایجنٹ یا سوشل میڈیا کے مخلولیوں کا یہ الزام کہ بھارت کنٹرول لائن پر دہشت گردی نواز شریف کے کہنے پر کرتا ہے کسی بھی طرح درست ہے نہ ان کی تحسین ممکن ہے۔ وہ دوسرے کسی بھی سیاستدان کی طرح محب وطن ہیں کسی بھی جرنیل جج اور جرنلسٹ کی طرح پاکستانی۔ افسوس ہوا کہ 17جنوری کی شام مال روڈ پر شیخ رشید اور عمران خان نے پارلیمان پر لعنت بھیجی۔ اسی پارلیمان پر جو ہم ایسے زمین زادوں کے ٹیکسوں سے رزق پاتی ہے۔ ہمارے ووٹوں سے منتخب ہوتی ہے۔ پارلیمان نے عوام کی توقعات پوری نہیں کیں۔ ایک بھی ایسا قانون نہیں بنا جس سے غربت' جہالت' نا انصافی' بے روز گاری کم ہوتی' طبعی سہولتیں ملتیں۔ پارلیمان نے عوام دوست کردار سے انحراف کیا اس پر تنقید صد فیصد درست ہوگی لیکن اس پر لعنت کا مطلب ووٹ دینے اور اپنے ٹیکسوں سے تنخواہ اور مراعات فراہم کرنے والوں پر لعنت کرنا ہے۔ عمران تو چلیں جمہوری سیاسی عمل سے نا بلد ہیں پر شیخ نے تو کونسلری سے سیاست شروع کی طالب علم لیڈرہونے کا بھی انہیں دعویٰ ہے۔ اب جبکہ وہ پارلیمان پر لعنت بھیج چکے تو کیا ہم امید کریں گے کہ وہ بطور رکن اسمبلی لی گئی تنخواہ اور دوسری مراعات کا حساب کرکے ایک ایک پیسہ ملکی خزانے میں جمع کروادیں گے؟۔
جناب زرداری کو کیا ہوا' کچے پکے مقدمات میں 11سال جیل کاٹ کر اور پانچ سال ایوان صدر میں بطور صدر مملکت قیام کرکے بھی سیاسی عمل کی نزاکتوں اور حسن کو نہیں سمجھے؟ کیا انہوں نے طے کرلیا ہے کہ مستقبل میں اسٹیبلشمنٹ کی ملازمت کریں گے اور اس کی خوشنودی کے لئے کبھی گریٹر پنجاب اور کبھی غداری کا الزام لگائیں گے؟ معاف کیجئے گا یہ بھٹو کی پیپلز پارٹی کو ہو کیا گیا ہے۔ طاقت کا سر چشمہ عوام کو قرار دینے والی جماعت پر یہ وقت آن پہنچا ہے کہ اس کے مالک اسٹیبلشمنٹ کی نوکری پر آمادہ ہیں۔اسی اسٹیبلشمنٹ کی جس نے 2013ء میں پیپلز پارٹی کی کم از کم 15قومی اسمبلی اور 23 پنجاب اسمبلی کی نشستیں چھین کر دوسروں کو عطا کردیں؟۔ جناب زر داری! یہ انداز سیاست اور فتوئوں کی چاند ماری ہر گز درست نہیں۔ پاکستان 1970ء میں نہیں 2018ء میں جی رہا ہے۔ وسطی پنجاب کی سیاسی سوچ میں بہت بڑی تبدیلی آچکی ہے۔ بھارت دشمنی کا بخار پہلے جیسا نہیں رہا۔ پڑوسیوں سے نفرت پر لوگ سوال کرنے لگے ہیں۔ انہیں گفتگو اور تقاریر کرتے وقت دانش مندی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ وہ پیپلز پارٹی کے سربراہ ہیں کسی جہادی جماعت کے نہیں۔ مکرر عرض ہے سانحہ ماڈل ٹائون کے مظلومین کو انصاف دلوانے کے لئے ہونے والے احتجاج کو غلط سمت لے جانے کا جو نقصان ہوا اس کا ذمہ دار کون ہے؟۔ مکرر عرض کروں ہم نفرتوں' فتوئوں اور بد زبانیوں کی سیاست کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ یہی بنیادی نکتہ سب کو سمجھنا ہوگا۔
حرف آخر یہ ہے کہ کراچی میں ایک عام محنت کش نقیب خان محسود( یہ نوجوان کپڑے کا کاروبار کرتا تھا) کو جعلی پولیس مقابلوں کے ماہر ایس ایس پی رائو انوار نے ایک جعلی پولیس مقابلہ میں قتل کرکے دہشت گرد اور طالبان کا ساتھی قرار دے دیا۔ اس سفاکانہ قتل پر پچھلے دو تین دن سے سوشل میڈیا پر مختلف طبقات سراپا احتجاج ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا سندھ حکومت اپنی ناک کے نیچے ماورائے عدالت قتل کی وارداتوں سے بے خبر ہے؟ نوجوان نقیب خان چند سال قبل وزیرستان سے اپنے خاندان کے ہمراہ کراچی منتقل ہوئے ۔انہیں ماڈل بننے کا جنون کی حد تک شوق تھا۔ روز گار کا ذریعہ کپڑے کا کاروبار تھا۔ کراچی کا شاید ہی کوئی اخبار' جریدہ اور چینل ہو جسے اس نے اپنی تصاویر نہ بھیجی ہوں کہ مجھے ماڈلنگ کاشوق ہے۔ کیا کسی خفیہ جماعت کا کارکن اپنی سینکڑوں تصاویر پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کو بھیجتا اور سوشل میڈیا کی سائٹس پر لگاتا ہے؟ رائو انوار ہر دوچار دن بعد دو تین معصوم نوجوانوں کو دہشت گرد قراردے کر ماردیتا ہے اور انعام حاصل کرتا ہے۔ جعلی پولیس مقابلوں کے ذریعے کروڑوں روپے کمانے والے اس پولیس افسر کے سامنے عدالتیں' حکومت اور ادارے بے بس ہیں۔ آخر اس بے بسی کی کوئی تو وجہ ایسی ہوگی؟ سندھ کے وزیر اعلیٰ کا فرض بنتا ہے کہ وہ رائو انوار کے جعلی پولیس مقابلوں کی ہائیکورٹ کے جج سے تحقیقات کروائیں تاکہ ہم بھی یہ جان سکیں کہ دہشت گرد مارنے والے کو خود خراش تک نہیں آتی۔

اداریہ