Daily Mashriq


لعن طعن ، جوتے اور پارلیمان کی وقعت

لعن طعن ، جوتے اور پارلیمان کی وقعت

سیانوں نے کہا ہے مگر کوئی غور کرے بھی تو ۔ بات عقل کی ہے کہ دوسروں کی طرف ایک انگلی اٹھانے والوں کو یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ اسی ہاتھ کی تین انگلیاں خود انہی کی جانب ہوتی ہیں ۔ بات ویسے تو ٹھیک ہے یعنی جو بات شیخ رشید نے تین بار اور عمران خان نے ایک بار کہی اور جسے دوہرا نے کی ہم میں تاب نہیں کہ یہ لفظ بہت ہی نامناسب (بلکہ اس سے کہیں زیادہ ) تھا اور وہ بھی اس پارلیمان کے لئے جس کے نہ صرف یہ دونوں خود بلکہ عمران خان کی پارٹی کے بہت سے ممبران بھی اسی پارلیمان (سینیٹ ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں ) کے منتخب اراکین میں شامل ہیں ، یوں اگر ایک انگلی پارلیمان کی جانب اشارہ کر رہی تھی تو تین انگلیاں خود ان کی جانب تھیں ، اور پھر اس پر جب بعض لعن طعن ہوئی تو عمران خان نے سونے پر سہا گہ والی بات کرتے ہوئے یہاں تک کہا کہ شکر کرو میں نے بہت رعایت کر دی ہے ورنہ میں تو اس سے بھی سخت لفظ استعمال کرنا چاہتا تھا ۔ ٹھیک ہی فرمایا کپتان صاحب نے شاید واقعی کوئی ایسا لفظ کہنا چاہتے تھے جسے سن کر پارلیمنٹ کے اراکین تلملا کر رہ جائیں ۔ حالانکہ برا تو انہوں نے اب بھی منایا ہے اور دونوں کے خلاف قرار داد مذمت بھی پاس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کو برا کہنے والوں کو یہاں سیاست کا حق نہیں ، سائیں سید خورشید شاہ کے ان الفاظ پر بھی غور کرنا پڑے گا ۔ کیونکہ جنہیں آج وہ ایک ''۔۔۔'' پارلیمنٹ میں سیاست کے حق سے محروم کرنے کی بات کر رہے ہیں ، کاش اس پوری ''۔۔۔'' پارلیمنٹ کو اس وقت یہ احساس ہوتا جب عمران خان اور ان کی جماعت نے 2014کے دھرنے کے موقع پر اپنے استعفے پیش کر کے پارلیمنٹ کی حیثیت کو ماننے سے انکار کر دیا تھا ۔ مگر اس وقت کیا حکومت اور کیا اپوزیشن ، تمام پارٹیوں نے آئین کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے یہ استعفے منظور نہ ہونے دینے میں ایکا کر لیا تھا ، اس لئے اگر اب خان صاحب اسی بے وقعت پارلیمنٹ پر لعن طعن کر رہے ہیں تو اس حد تک معاملات کو پہنچانے میں خود انہی پارلیمنٹیر ینز کا ہی ہاتھ ہے جنہوں نے ایک غلط فیصلے سے اس ادارے کو بے تو قیر کیا تھا اس لئے اب خان صاحب کے الفاظ پر تلملا نے کا کیا جواز بنتا ہے ؟ یعنی بقول ڈاکٹر افتخار مغل مرحوم

طالب خود فروشی کے دربار میں!

میری جانب سے لکھ دو نہیں! معذرت

جبکہ شیخ رشید کے استعفیٰ اور عمران خان کی اس کی تقلید میں اس پر غورکرنے پر عابد شیر علی کے بقول اب جبکہ اسمبلیوں کی مدت ہی بہت کم رہ گئی ہے ان استعفوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلنا ، اور بعض ماہرین کے مطابق اگر استعفے آبھی جائیں تب بھی سینیٹ کے انتخابات متاثر نہیں ہوں گے ۔

ویسے جس پارلیمان کے حوالے سے نازیبا الفاظ استعمال کئے گئے ہیں اس کی قدر وقیمت بھی اگر جانچ لیں تو کچھ سوال تو ضرور اٹھتے ہیں ، اور وہ سوال یہ ہے کہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف خود اس ایوان کو کتنی اہمیت دیتے تھے اور جب تک وہ وزیراعظم رہے ان لگ بھگ ساڑھے تین سال میں کتنی بارا نہوں نے سینیٹ اور قومی اسمبلی اجلاسوں میں شرکت کی ، حالانکہ اسی تناظر میں عمران خان پر بھی اعتراضات کئے جارہے ہیں کہ انہوں نے کتنے کروڑ تنخواہ وصول کر کے بھی محض چند بار ہی اسمبلی اجلاس میں شرکت کی ، گویا سابق وزیرا عظم اور عمران خان اس حوالے سے ایک ہی کشتی کے سوار دکھائی دے رہے ہیں ، دوسرا سوال یہ ہے کہ پارلیمنٹ نے عوام کی فلاح و بہبود کیلئے اس دوران میں کتنی قانون سازی کی ؟ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ارکان پارلیمنٹ نے عوام کی بجائے خود اپنے مفادات کو تحفظ دینے کیلئے اقدامات کئے ، ترقیاتی فنڈز کی چھینا جھپٹی میں لگے رہے ، نوکریوں کی بندر بانٹ میں مصروف رہے ، مبینہ کرپشن اور لوٹ مار کے خلاف تو کیا اقدام اٹھائے جاتے ، الٹا با اثر اور طاقتور حلقوں کے مفادات کے تحفظ کی کوششیں کی جاتی رہیں ، اپنے لئے مراعات کے حصول میں تو یہ لوگ ہمیشہ ایک پیج پر نظر آتے ہیں اور اپنی تنخواہوں اور دیگرمراعات کے تحفظ کیلئے فوراًاقدامات پر آمادہ رہنے والوں نے بے چارے سرکاری ملازمین اور پنشنروں کیلئے سالانہ دس فیصد سے زیادہ نتخواہوں اور پنشن کو بھی آگے بڑھنے نہیں دیا ۔ بجلی ، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر اپوزیشن ارکان صرف حاضری لگانے کی حد تک مخالفت ضرور کرتے ہیں مگر بیانا ت کی حد سے آگے جانے کو بھی تیار نہیں ہوتے اس لئے کہ انہیں تو جو مراعات ملتی ہیں ان میںیہ سب چیزیں مفت فراہم ہوتی ہیں یوں یہ مال مفت دل بے رحم کے مقولے پر عمل پیرا رہتے ہیں ۔ اس لئے اگر خان صاحب کے پارلیمنٹ کے حوالے سے ''اقوال زریں '' پر طیش میں آکر یہ کہا جارہا ہے کہ اگر یہ لوگ اب پارلیمنٹ آئے تو جو تے پڑیں گے ، یعنی وہ جو سلسلہ سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش سے چلا تھا اور بعد میں کئی افراد اس ''جو تاکلب '' میں شامل ہوتے گئے ، یہاں تک کہ سابق کمانڈو صدر جنرل مشرف بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے تھے تو اب ایک ہی ہلے میں درجنوں کو جوتے پڑنے کی وجہ سے جوتا کلب کا ممبر بنتا دیکھ کر دنیا والے ہمارے بارے میں کیا سوچیں گے ؟ اگر چہ جوتوں کے حوالے سے کئی ایک لطیفے ہم آپ کی خدمت میں پیش کر سکتے ہیں مگر اسے کسی اور موقع کیلئے اٹھا رکھتے ہیں اور صرف ایک سیانے کی بات پر اکتفا کرتے ہیں یعنی مشہور ادیب اور دانشور اشفاق احمد نے کہا تھا کہ ''جب جوتے شیشے کی الماری میں رکھ کر سیل ہوں اور کتابیں فٹ پاتھ پر بکتی ہوں تو سمجھ لو اس قوم کو علم نہیں جوتوں کی ضرورت ہے '' ویسے ہماری آج جو حالت ہے اس میں اشفاق احمد کی بات کچھ غلط تو نہیں ۔

متعلقہ خبریں