گفتگو کا فن

گفتگو کا فن

اچھی گفتگو کرنا بھی ایک فن ہے اور بہت سے لوگ اس فن سے ناآشنا ہوتے ہیںبغیر بات چیت کے کب بات بنتی ہے ہمارے اردگرد موجود لوگ ہماری بات چیت کے انداز سے ہی ہمارے بارے میں مثبت یا منفی رائے قائم کرتے ہیں۔ہمیں خریداری کرتے ہوئے دکانداروں سے بات کرنا پڑتی ہے اور اگر ہم دکاندار ہیں تو ہمیں دن بھر خریداروں کے ساتھ بہت سی باتیں کرنی ہوتی ہیں غرضیکہ آپ کا تعلق کسی شعبے سے بھی ہو بولے بغیر بات کیے کام نہیں چلتا۔ شادیوں میں دوستوں رشتہ داروں سے ملنا جلنا ہوتا ہے ہم سب کے ساتھ ملتے ہیں ان کا حال احوال پوچھتے ہیں یوں کہیے تو شاید نا مناسب نہیں ہوگا کہ ہماری ساری زندگی بولتے ہی گزر جاتی ہے۔ بولنا اچھا بھی ہوتا ہے اور برا بھی۔ سلیقے سے کی ہوئی گفتگو آپ کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرتی ہے اور بے ڈھب انداز سے بولے گئے جملے آپ کے لیے نت نئی پریشانیاں لے کر آتے ہیں۔ اخلاق سے گفتگو کیجیے اس پر کچھ خرچ نہیں آتا۔ ہم نے یہ جملہ ایک بہت بڑی دکان پر لکھا ہوا دیکھا تو ہم اس جملے کو پڑھ کر بڑے اطمینان کے ساتھ دکان میں داخل ہو گئے کہ یہاں سے باآسانی خریداری کی جاسکتی ہے ۔مشہور چینی کہاوت ہے کہ اگر آپ مسکرا کر بات نہیں کرسکتے تو آپ کو دکان نہیں کھولنی چاہیے۔ہر بندے کو اپنی عزت نفس عزیز ہوتی ہے آپ کے خلوص سے کہے گئے دو تین تعریفی جملے لوگوں کو آپ کا گرویدہ بنادیتے ہیں لیکن یہ خیال رہے کہ سچی تعریف اور خوشامد میں بڑا فرق ہوتا ہے اگرچہ خوشامد سے فی زمانہ بڑے بڑے معرکے سر کیے جارہے ہیں لیکن پھر بھی عقل سلیم رکھنے والے ذہین لوگ خوشامد کو کبھی بھی پسند نہیں کرتے اور یہ بھی ذہن میں رہے کہ آپ کی خوشامد کرنے والا آپ کو بے وقوف سمجھ کر آپ کی خوشامد کرتا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بہت کم لوگ ہی خوشامد کے جال سے بچ پاتے ہیں۔بات چلی تھی گفتگو کے فن سے ۔ستم ظریفی ملاحظہ کیجیے کہ گفتگو کا فن بولنے میں نہیں بلکہ سننے میں چھپا ہوا ہے۔ کسی دانش ور کا قول ہے کہ جو اچھا سامع اور کم گو ہو اس کا ہر وقت اورہر جگہ بہترین استقبال کیا جاتا ہے اور اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ لوگ آپ سے دور بھاگیں تو پھر اپنی تعریفوں کے پل باندھنا شروع کر دیجیے یہ نسخہ آپ ان لوگوں پر بھی آزما سکتے ہیں جنہیں آپ ناپسند کرتے ہیں۔ لوگوں کو بولنے کا موقع دیجیے لوگ اپنے بارے میں گفتگو کرنا پسند کرتے ہیں ان سے ان کے کاروبار کے حوالے سے گفتگو کیجیے ان سے ایسے سوالات پوچھئے جن کا جواب دیتے ہوئے وہ اپنی صلاحیتوں کے بارے میں آپ کو زیادہ سے زیادہ بتا سکیں۔بات چیت چند لوگ مل کر ہی کرتے ہیں جب آپ محسوس کریں کہ آپ کی بات سنتے ہوئے کوئی سوال نہیں پوچھ رہا کوئی تبصرہ نہیں کر رہا ۔ آپ کی باتوں میں کسی بھی قسم کی دلچسپی نہیں لے رہا تو پھر جلد از جلد دوسروں کو بولنے کا موقع دیجیے۔ گفتگو کے دوران دوسروں کی بات کاٹنا بھی خلاف تہذیب بات ہے اکثر لوگ بڑے مزے سے دوسروں کی بات کاٹ کر اپنی بات شروع کردیتے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ بات کاٹنے کی معافی چاہتا ہوں۔ اگر آپ کسی کی انتہائی بور قسم کی باتیں سن سن کر بوریت محسوس کرنے لگے ہوں اور آپ کے لیے اس کی مزید باتیں سننا ممکن نہ ہو تو آپ اس کا کوئی جملہ خوبصورتی سے اچکتے ہوئے کہہ سکتے ہیں کہ آپ کی بات سن کر مجھے فلاں واقعہ یا د آگیا ہے جو میں آپ کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں۔اگر دوران گفتگو آپ کی بات کاٹی جائے تو سب سے اچھی بات یہ ہے کہ آپ خاموش ہو جائیں ۔کبھی بھی اپنی ادھوری بات مکمل کرنے کی کوشش نہ کریں بس چپ سادھ لیں جو یقینا باتونی لوگوں کے لیے ایک مشکل کام ہے۔ دوبارہ اس وقت تک مت بولیے جب تک آپ سے کہا نہ جائے۔ایک بات کا خیال رکھا جانا بہت ضروری ہے کہ محفل میں بات کرتے ہوئے صرف ایک شخص کو مخاطب نہیں کرنا چاہیے بلکہ ایسا موضوع چن کر اس پر بات کی جائے جو سب کے لیے باعث دلچسپی ہو ۔ آج کل ٹی وی چینلز پر ہر وقت بحث مباحثے ہوتے رہتے ہیں ۔ سیاستدانوں کو بلایا جاتا ہے ان پر تنقید کی جاتی ہے ان کی غلط پالیسیوں کو ہدف تنقید بنایا جاتا ہے میزبان چونکہ ذہن بنا کر آیا ہوتا ہے کہ مہمان کو تگنی کا ناچ نچانا ہے اس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھنا ہے کوشش کرنی ہے کہ عوام کے سامنے اس کے قول و فعل کے تضاد کو پوری طرح آشکارا کردیا جائے۔اس لیے وہ مزے لے لے کر طرح طرح کے سوالات اٹھاتا ہے۔ آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ اگر تین مہمان ہیں اور دو تو بڑھ چڑھ کر بول رہے ہیں اپنی جماعت اور موقف کا دفاع بڑی شدت کے ساتھ کررہے ہیں لیکن ایک مہمان ایسا ہے جو بہت کم بولتا ہے اور جو بات اس سے پوچھی جاتی ہے وہ صرف اسی بات کا جواب دیتا ہے ۔ اس کے جواب دینے کا انداز بھی بڑا دھیما ہوتا ہے اس کی کوشش ہوتی ہے کہ باقی کے دو مہمان میزبان کے ساتھ الجھے رہیںیہی وہ شخص ہے جو گفتگو کا فن جانتا ہے ۔

اداریہ