الیکٹرانک وسوشل میڈیا کا بے لگام گھوڑا

الیکٹرانک وسوشل میڈیا کا بے لگام گھوڑا

طا رق جمیل صاحب فرماتے ہیں کہ یہود و ہنود جب کسی ملک کو تباہ و بر باد کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اُس ملک کی ثقافت پر یلغار کر تے ہیں ۔ اسکے لئے جس میڈیم کا انتخاب کیا جاتا ہے وہ الیکٹرانک میڈیا، انٹر نیٹ اور کیبل ہے۔ ذاکر نائیک کا کہنا ہے کہ میڈیا کے فائدے کم اور نُقصانات زیادہ ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا جس میں انٹر نیٹ اور دوسرے کئیذرائع شامل ہیں نو عمر بچے بچیوں کے اخلاق خراب کرنے کے لیئے خطرناک ہتھیار ہیں ۔ کیونکہ اُنکو سمجھ بوجھ اتنی نہیں ہو تی کہ وہ اپنے لئے اچھے اور بُرے کا انتخاب کریں۔پولیس کے ایک سینئر ترین افسر ذوالفقارچیمہ کہتے ہیں کہ پولیس سروس میں انہوں نے جنسی زیادتی اور اس میں قتل کے درجنوں کیس ڈیل کئے ہیں ۔ پولیس ایسے مجرموں سے پہلا سوال یہ کرتی ہے کہ تم نے ایسا گھنائونا فعل کیوں کیا؟۔ اس شیطانی فعل کے لئے تم نے اس معصوم بچے یا بچی کو کیوں چُنا؟۔ اور پھر اسے قتل کیوں کیا؟۔ 90 فی صد سے زیادہ مجرموں کا یہ اعتراف سامنے آتا رہا کہ میںعریاں فلمیں دیکھتا رہا جس سے مجھ پر شیطان غالب ہوگیا ، اپنے جرم کے بعداس کے واحد گواہ یعنی جس سے زیادتی کی ہوتی ہے کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ۔ ذوالفقار چیمہ مزید کہتے ہیں مُجھے یاد ہے کہ میں نے سنگاپور میں ایک سرکاری اہل کار سے پوچھا کہ آپ نے فحش سائٹس کو کیوں بند کر رکھا ہے ۔ اُس نے جواب دیا ہم نہیں چاہتے کہ ایسے مواد تک بچوں کی رسائی ہو۔ ا س سے نوجوانوں کے جذبات بے قابو ہو جاتے ہیں اور پھر ہمارے بچے حیوانیت کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ ایک امریکی دانشور کا کہنا ہے کہ ہماری نوجوان نسل کو تین چیزوں نے تباہ کیا سگریٹ، میڈیا اور موبائل فون ۔ امریکہ اب نوجوانوں کی بے راہ روی سے تنگ ہے اور یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے سابق وزیر خارجہ اور صدارتی اُمیدوار ہیلری کلنٹن نے کہا کہ اب ہمیں مذہب ، خاندانی سسٹم کو ازسر نو زندہ کرنا ہوگا۔ قُر آن مجید فُر قان حمید میں کی سورت 18 آیت نمبر32 میں ار شاد ہے اور زنا کے قریب نہ جا ئو۔ ہمیں اُن تمام چیزوں اور کاموں کی طرف نہیں جانا چاہئے جو ہمیں زنا ، بے ہو دہ اور بے حیائی کے کاموں کی طرف لے جاتی ہے۔ مندرجہ بالا ساری چیزیں ہمیں بر انگیختہ کرکے کسی غلط کام پرآمادہ کرتی ہیں کیونکہ بُرائی میں کشش ہے جسکی وجہ سے ہم وہ چیزیں دیکھتے ہیں جو ہمیں نہیں دیکھنی چاہئیں ۔ یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ تینوں چیزوں یعنی موبائل فون،الیکٹرانک میڈیااور انٹرنیٹ کے بے تحا شا اور بے لگام استعمال نے نہ صرف ہماری اخلاقی قدروں کا بیڑا غرق کیا بلکہ وہ انتہائی قیمتی وقت جو ہمیں اپنی دنیاوی اورآخروی علوم پر صرف کرنا چاہئے، ہم اُس قیمتی وقت کو انٹر نیٹ، کیبل دیکھنے اور موبائل فون پر غیر ضروری باتوں پر صر ف کرتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ فی زمانہ یہ تینوں چیزیں ہمیں جدید دور کے تقا ضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے انتہائی ضروری ہیںمگر یہ افسوس کا مقام ہے کہ ان تینوں کے بے تحا شا اور بے لگام استعمال نے ہماری اخلاقی ،مشرقی ثقافت اور اسلامی قدروں کو بے تحاشا نُقصان پہنچایا۔ پہلے ہم اورپھر ہمارے بچے جو قیمتی وقت درسی کتابوں کے مطالعہ، دینی کاموں اور مُثبت سرگرمیوں میں صرف کرتے تھے اب تحقیق کے مطابق بچے اپنا 40 فی صد وقت موبائل فون، انٹر نیٹ اور کیبل کے استعمال پر صرف کرتے ہیں اور 16 گھنٹے میں 150منٹ موبا ئل فون کو سُننے یا اسکے ساتھ کھیلنے میںضائع کئے جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں الیکٹرانک میڈیا کا معاشرے کے بگا ڑ میں بڑاکردار ہے۔ الیکٹرانک میڈیا پر عام طور پر گلیمر کو پیش کیا جاتا ہے اور اسکا مقصد مادہ پرستی کو پر وان چڑھانا ہوتا ہے۔ڈراموں میں جو کردار پیش کئے جاتے ہیں وہ زیادہ تر مصنو عی ہو تے ہیں ۔ عام طو ر پر جتنی بھی مصنوعات کے اشتہارات دکھائے جاتے ہیں وہ ہماری اخلاقی قدروں کو بگاڑنے کے لئے ہی کافی ہیں۔ٹیلی وژن پر کا رٹون اور دوسرے پروگراموں سے ہمارے نوجوانوں اور خاص طو ر پر بچوں کی اخلاقیات خراب ہوتے ہیں اور اُن میںتشدد کے جذبے کو پروان چڑھاتے ہیں۔کلچر کسی بھی معاشرے کا ایک اہم حصہ ہوتا ہے اور یہ تب صحت مند ہوتا ہے جس معاشرے میں مُثبت اخلاقی قدریں فروع پائیں۔مگر یہ افسوس کا مقام ہے میڈیا نے ہماری اقدار اور ثقافت کو تبدیل اور بگا ڑ دیا ہے اور ایک گلوبلائز کلچر کو پروان چڑھارہا ہے۔ والدین کو چاہیئے کہ خود بھی موبائل فون، کیبل ٹی وی اور انٹرنیٹ کا کم سے کم استعمال کریں، بچوں اور جوانوں کو سختی سے تاکید کریں کہ وہ مندرجہ بالا الیکٹرانک ذرائعکا استعمال کم سے کم کردیں۔ خدارا جو وقت ہم ٹی وی ، کیبل، انٹر نیٹ پر صر ف کرتے ہیں وہ ہمیں مطالعہ اور کھیل کود کی دوسری مثبت سرگرمیوں میں صرف کرناچاہیئے۔ ہمیں اپنے بچوں کی شادیاں جلدی کرنی چاہئے ۔ جتنی جلدی شادی ہوگی اتنا زیادہ بچوں کا غلط سرگرمیوں کی طرف جانے کا امکان کم ہوگا ۔ اور پھر وہ اپنی توانائیوں کو مُثبت کاموں میں صرف کریں گے۔میں حکومت پاکستان سے بھی یہ استد عاکرتا ہوں کہ وہ فحش اور بے ہو دہ سائٹس بلاک کردیں۔ تاکہ آئندہ وقتوں میں زینب واقعہ جیسے دلخراش واقعات پھررونما نہ ہوں۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ حکومت پاکستان کو اسلامی سزائیں جلد سے جلدنافذ کرنی چاہئیں تاکہ جرائم پر قابو پایا جا سکے۔

اداریہ