Daily Mashriq


پرامن ماحول میں انتخابات کی مساعی

پرامن ماحول میں انتخابات کی مساعی

نگران وزیر اعظم جسٹس(ر)ناصر الملک نے ہدایت کی ہے کہ سیاسی قیادت اور جلسوں میں شریک عوام کی سیکورٹی اور حفاظت کے لیے خصوصی انتظامات کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ انتخابات کا دن قریب ہے، لہٰذا اس کے پر امن انعقاد اور انتخابی عمل ہموار بنانے کے لیے نگرانی، تعاون اور مزید کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔دریں اثناء نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے بھی اس امر کا اعادہ کیا ہے کہ پر امن اور غیر جانبدار انتخابات کا انعقاد ان کی اولین ترجیح اور بڑا چیلنج ہے۔خیبر پختونخوا حکومت کی اولین ترجیح پر امن ماحول میں انتخابات کے انعقاد کی بجائے کابینہ کے اراکین کی تعداد میں اضافہ نظر آتا ہے۔ نگرانی کی مدت کے ہفتہ دو ہفتہ رہ جانے کے باوجود تواتر کے ساتھ کابینہ میں توسیع ہو رہی ہے۔ حالیہ اضافہ ایک خاتون کا ہے جس کی کابینہ میں شمولیت کو جس زاویے سے بھی دیکھیں نا موزوں ہی ہے۔ حالانکہ یہ وقت اس قسم کے مشغلوں کا نہیں بلکہ پوری طرح انتخابات کی تیاری کا ہے۔ بہر حال اس سے قطع نظر نگران حکومت کے دعوے کی حد تک اس کی ترجیح انتخابات کا پرامن انعقاد ہے باوجود اس کے کہ صوبائی دارالحکومت میں ایک سیاسی اجتماع بد ترین خود کش دھماکہ کا نشانہ بنا اور مختلف مقامات پر امیدواروں کے قافلوں پر حملے ہوئے۔ سب سے حیرت انگیز امر یہ ہے کہ خطرات کا ڈھنڈورا پیٹنے کے باوجود وہ حقیقی حفاظتی انتظامات نظر نہیں آتے جس کی صورتحال متقاضی ہے۔ منصوبہ بندی کے ساتھ انتظامات کا عندیہ تو دیا جاتاہے لیکن اب تک نگران حکومتیں امیدواروں کو اس حد تک سیکورٹی نہیں دے سکی ہیں کہ وہ آزادانہ طور پر انتخابی مہم چلا سکیں۔ اب تو بمشکل تین دن رہ گئے ہیں اور انتخابی مہم ختم ہونے کو ہے تو امیدواروں کی بجائے انتخابی عمل کو پر امن اور محفوظ بنانے پر توجہ مرکوز کرنے کی زیادہ ضرورت ہے۔ ویسے بھی ہمارے ہاں پیشگی حفاظتی اقدامات کی روایت کم ہی ہے۔حیرت اس بات پر ہوتی ہے جب کوئی بڑا سانحہ رونما ہو جاتا ہے اور لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں تبھی اس موقع پر ایسے حفاظی اقدامات کئے جاتے ہیں اور اس قسم کے مناظر سامنے آتے ہیں کہ ہر قسم کے حفاظتی اقدامات کے لئے وسائل بھی موجود ہیں افرادی قوت کی بھی کمی نہیں اور سرکاری مشینری بھی بے دست و پا اور اپاہج نہیں مگر اسی اثناء میں دوسری طرف صورتحال اس قسم کی سامنے آتی ہے کہ کوئی اور بدترین واقعہ رونما ہونے کو ہوتا ہے۔ سیاسی عمائدین کے قافلے کو نشانہ بنایا جاتاہے۔ یہ ایک ایسا معمہ ہے جو سمجھنے اور سمجھانے کا تو ہے نہیں الٹا شکوک و شبہات میں اضافے کا باعث صورتحال ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں پر امن انتخابات کے انعقاد کے لئے حکومتی صفوں اور سرکاری مشینری کے درمیان قریبی روابط اور خوشگوار تعلقات از بس ضروری ہیں۔ انتخابات کے دنوں میں واپس طلب کردہ ایف سی نفری کی فوری طور پر پولیس کے ساتھ سیاسی اجتماعات ‘ ریلیوں اور سیاسی شخصیات کی حفاظت کے لئے بلا تاخیر تعیناتی کی ضرورت ہے۔ ہر تھانے کی پولیس کو اس امر کا پابند بنایا جائے کہ وہ اپنے علاقے میں سیاسی سر گرمیوں اور اجتماعات کو مکمل تحفظ فراہم کرے۔ سیاسی کارکنوں کو اپنی صفوں اور راستوں میں احتیاط کے ساتھ مشکوک عناصر پر نظر رکھنے اور کسی اجنبی و مشکوک شخص کو شامل ہونے سے روکنے کی اپنی ذمہ داری نبھانے پر خاص طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انتخابات کے انعقاد کے لئے جو ماحول ناگزیر ہے وہ تحفظ ہے۔جس میں ناکامی پرانتخابات کے ماحول پر سخت برے اثرات مرتب ہوں گے۔ انتخابی عمل کو پر امن رکھنے اور عوام کی معقول تعداد کو پولنگ سٹیشنز تک لانے کے لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام کا حفاظتی اقدامات پر شکستہ اعتماد بحال کیا جائے اور فلیگ مارچ اور نظر آنے والے یقینی حفاظتی اقدامات سے عوام کو ووٹ کے دن بلا خوف و خطر نکلنے پر آمادہ کیا جائے بصورت دیگر کم ٹرن آئوٹ سے انتخابی عمل مشکوک ہوگا اور انتخابات کے بعد آنے والی قیادت کھوکھلے پن کا شکار ہوگی اور اس کے لئے عوامی مسائل کا حل اور عوام کی توقعات پر پورا اترنا ممکن نہ ہوگا جس سے جمہوریت اور جمہوری نظام پر عوام کا اعتماد مزید متزلزل ہوگا۔ اگر صورتحال بعض کو پرے دھکیل کر بعض کو مواقع دینے کی بن گئی تو پھر انتخابات کے بعد احتجاج اور انتشار سے مزید حالات بگڑ سکتے ہیں۔ ایسے میں انتخابات بے معنی ہوں گے۔ اس قسم کی صورتحال کو آنے سے روکنے کے لئے ہنگامی اقدامات اور انتظامات کے ساتھ ساتھ اس قسم کے تاثر کا خاتمہ بھی بہتر انتخابی ماحول کے لئے ضروری ہے۔ نگران حکومت اور الیکشن کمیشن کو ان حالات سے نمٹنے اور عوام کو پر امن انتخابی ماحول اور سارے امیدواروں کو یکساں مہم چلانے کی آزادی و تحفظ کی فراہمی کی ذمہ داری میں کوتاہی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے تاکہ عام انتخابات کے نتیجے میں حقیقی عوامی قیادت سامنے آئے اور ملک کا انتظام عوام کے حقیقی نمائندوں کو منتقل ہو۔

متعلقہ خبریں