Daily Mashriq


اب شکوک و شبہات کے اظہار کی گنجائش نہیں ہونی چاہئے

اب شکوک و شبہات کے اظہار کی گنجائش نہیں ہونی چاہئے

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کے فوج کو اپنی حدود اور الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی)کی جانب سے فراہم کردہ ضابطہ اخلاق میں رہتے ہوئے ای سی پی کی مدد فراہم کرنے کی ہدایت کے بعد تمام چہ میگوئیوں کاخاتمہ ہونا چاہئے تھا جو خواہ مخواہ اور بلا وجہ کی ہو رہی تھیں۔جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ فوج دیگر سیکورٹی اداروں کے ساتھ کام کرتے ہوئے پاکستان میں عوام کو جمہوری حق استعمال کرنے کے لیے سازگار ماحول دینے کے لیے پر عزم ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے خصوصی اجلاس میں جنرل ہیڈ کوارٹرز(جی ایچ کیو)کے نمائندے میجر جنرل آصف غفور نے بتایا کہ ہمارا انتخابات سے براہ راست کوئی تعلق نہیں، ہم صرف الیکشن کمیشن کی ہدایت پر امن و امان کی صورتحال بہتر رکھنے کے لیے کام کررہے ہیں۔فوج کی مختلف مواقع پر ضرورتاً اور طلب کئے جانے پرسول اداروں کی مدد معمول کی بات ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے فوج کی اعانت کے حصول کے لئے وزارت دفاع کو لکھے گئے خط کے ذریعے اس مرتبہ کے عام انتخابات میں حفاظتی امور اور بعض انتظامات میں فوج کی مدد لی گئی ہے۔ جہاں تک انتخابات کے ماحول کے دیگرکرداروں کی بات ہے اس ضمن میں شکوک کا اظہار معمول کی بات ہے۔ پاک فوج کو جو ذمہ داری دی جاتی ہے اس کا دائرہ کار اور دائرہ اختیار طے ہوتا ہے جس کے اندر رہ کر کام کرنے سے انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے کی کوئی صورت نہیں ہوتی۔ اس کے باوجود بھی بعض عناصر کی جانب سے جن خدشات کااظہار سامنے آرہا تھا جنرل قمر جاوید باجوہ کے دو ٹوک اعلان اور پاک فوج کے ترجمان کی وضاحت کے بعد اس امر کی گنجائش نہیں ہوگی کہ کسی حلقے کی جانب سے مداخلت سامنے آئے۔ اس کا امکان اس لئے بھی نہیں کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے جو انتخابی عملہ مقرر کیاگیا ہے پولنگ سے لے کر گنتی تک اور نتیجے کا بذریعہ سمارٹ فون براہ راست الیکشن کمیشن کو ارسال کرنے کے انتظامات سبھی متعلقہ عملے کے پاس اور ان کی ذمہ داری ہوگی۔ اگر ہماری پولیس اور انتظامیہ مطلوبہ استعداد کی حامل ہوتی تو فوج کی تعیناتی کی ضرورت باقی نہ ہوتی۔ پاک فوج بھی اسی طرح ایک حکومتی ادارہ ہے جس طرح دوسرے ادارے ہیں اس لئے خواہ مخواہ اس حوالے سے کسی قسم کے شکوک و شبہات میں پڑنے کے بجائے اسے اپنا کام کرنے دیا جائے تاکہ پر امن ماحول میں انتخابات کا انعقاد یقینی ہو اور اقتدار کی منتقلی کا جمہوری عمل ممکن ہو۔

نیب کے پی کا امتحان

پشاور ہائی کورٹ نے پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ کوریڈور(بی آر ٹی)منصوبے کو ناقابل اعتماد اور نا قابل اعتبار قرار دیتے ہوئے قومی احتساب بیورو(نیب)کو اس کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔ہائی کورٹ نے سات ماہ قبل حکام کو مذکورہ منصوبے پر کام جاری رکھنے اور اس کی پروگریس رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔عدالت نے اپنے تفصیلی حکم نامے میں کہا ہے کہ تمام دلائل سننے کے بعد ہمیں لگتا ہے کہ معاملے پر نیب سے مزید تحقیقات کروانی چاہیے۔پشاور ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ بی آر ٹی کا منصوبہ ایسی کمپنی کو دیا گیا جو دیگر صوبوں میں بلیک لسٹ ہے جبکہ بی آر ٹی منصوبہ 24 جون 2018 تک مکمل بھی نہیں کیا گیا۔حکم نامے میں کہا گیا کہ منصوبے کے ٹھیکے کا دیا جانا، اس میں تاخیر اور دیگر تمام امور ناقابل اعتبار اور نا قابل اعتماد ہیں۔یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ بی آر ٹی منصوبے کی لاگت 49.3 بلین روپے سے بڑھ کر 67.9 بلین تک پہنچ گئی ہے جبکہ دیگر منصوبوں کے فنڈز کو بھی بی آر ٹی میں لگادیا گیا ہے جس میں اس بات کو واضح نہیں رکھا گیا کہ دیگر منصوبے بھی عوام کے لیے انتہائی اہم تھے۔عدالت کے سامنے جو امور پیش ہوئے اور جس پر احکامات دئیے گئے وہ کسی طور صرف نظر نہیں ہوسکتے تاہم تحقیقات کے نتیجے میں جو تفصیلات اگلی سماعت میں سامنے آئیں گی اس سے اس امر کا تعین ہوسکے گا کہ بی آر ٹی منصوبے میں کس حد تک بد عنوانی اور بد انتظامی کا ارتکاب کیاگیا تھا۔ خیبر پختونخوا کی نگران حکومت نے نیب سے یہ درخواست بھی کی ہے کہ صوبائی خزانے سے صرف چائے کی مد میں بیس کروڑ روپے کے اخراجات کی بھی تحقیقات کی جائے۔ گو کہ اس کی بظاہر تو کوئی وجہ نہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ نیب کی خیبر پختونخوا میں کارکردگی عوامی اطمینان کے مطابق نہیں اور نیب صوبے میں اسی سرگرمی سے مختلف معاملات کی تحقیقات نہیں کررہی ہے جو عجلت اور کارروائی دوسرے صوبوں میں نظر آتی ہے۔ بہر حال اب جبکہ ایک معاملے کی عدالت اور دوسرے کی نگران حکومت کی طرف سے تحقیقات کی ذمہ داری سونپی گئی ہے تو یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ ان دو معاملات کی چھان بین کرکے جلد سے جلد معاملے کو عدالت‘ حکومت اور عوام کے سامنے لایا جائے گا اور اگر اس میں اسراف‘ بد انتظامی‘ بد عنوانی یا غلط منصوبہ بندی کے باعث خزانے کو نقصان پہنچا ہے تو اس کی ذمہ داری کا تعین کرکے ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

متعلقہ خبریں