Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

لقمان ؑ ایک روز بڑی مجلس میں لوگوں کو حکمت کی باتیں سنارہے تھے ، اس دوران ایک شخص آیا اور اس نے سوال کیا کہ کیا آپ وہی شخص نہیں ہیں جو میرے ساتھ فلاں جنگل میں بکریاں چرایا کرتے تھے ؟

حضرت لقمان ؑ نے فرمایا کہ ہاں میں وہی ہوں ، اس شخص نے پوچھا کہ پھر آپ کو یہ مقام کیسے حاصل ہوا کہ خلق خدا آپ کی تعظیم کرتی ہے اور آپ کے کلمات سننے کے لئے دور دور سے جمع ہوتی ہے ؟ حضرت لقمان ؑ نے فرمایا کہ اس کا سبب میرے دو کام ہیں : ایک ہمیشہ سچ بولنا ،دوسرے فضول باتوں سے اجتناب کرنا اور ایک روایت میں ہے کہ حضرت لقمان ؑ نے فرمایا کہ چند کام ایسے ہیں ، جنہوں نے مجھے اس درجے پر پہنچا یا ، اگر تم اختیار کر لو تو تمہیں بھی یہی درجہ اور مقام حاصل ہو جائے گا ۔ وہ کام یہ ہیں : اپنی نگاہ کو پست رکھنا اور زبان کو بند رکھنا ، حلال روزی پر قناعت کرنا ، اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرنا ، بات میں سچائی پر قائم رہنا ، عہد کو پورا کرنا ، مہمان کا اکرام کرنا ، پڑوسی کی حفاظت کرنا اور فضول کام اور کلام کو چھوڑ دینا۔ ( ابن کثیرؒ )

سلطان نور الدین زنگی ؒ کا معمول تھا کہ وہ روزانہ رات کو لوگوں کے مسائل جاننے کیلئے بھیس بدل کر نکلا کرتے تھے ۔ ایک رات وہ حسب معمول بھیس بدل کر نکلے تو ان کے ہمراہ ایک جاں نثار غلام تھا جس نے ہاتھ میں شمع تھام رکھی تھی۔ گشت کے دوران انہوںنے دیکھا کہ ایک طالب علم پڑھائی میں اس انداز سے مصروف ہے کہ جب بھی اسے کتاب پڑھنے کی ضرورت پڑتی ہے وہ سامنے ایک دکان میں جلتے ہوئے چراغ کے پاس جا کر کتاب پڑھتا ہے اور پھر اپنی جگہ پر آکر اسے یاد کرتا ہے ۔سلطان نے اسی وقت اپنے ملازم کوحکم دیا کہ وہ اپنی شمع اس طالب علم کو دے دے اور سلطان خود اندھیرے میں واپس محل لوٹ آئے۔ اسی رات سرورکائنات ﷺ نے خواب میں سلطان نورالدین زنگی کو اپنی زیارت سے فیض یاب فرماتے ہوئے کہا اے نورالدین ! خدا ئے بزرگ وبرتر تجھے ایسی عزت بخشے جیسی تو نے میرے ایک وارث کو دی ہے ۔ سلطان نورالدین زنگی کی آنکھ کھلی تو انہیں وہ حدیث نبوی یاد آئی جس میں آقا کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ علماء انبیاء کے وارث ہیں۔

یہ حکایت علم کی اہمیت اورعلماء کی فضلیت پر دلالت کرتی ہے۔

اللہ تعالیٰ کی جانب سے انعامات کی ترتیب میں جو انعام اللہ رب العزت نے انسان کو سب سے پہلے عطا کیا وہ علم ہے ۔ انسانوں اور دیگر مخلوقات میں صرف علم کا فرق ہے ۔علم ہی کی بدولت انسان کواشرف المخلوقات کے درجہ پر فائز کیا گیا یہی علم مومن کی میراث قرار پایا۔ حصول علم کی اہمیت تو اس حدیث سے اور بھی واضح ہو جاتی ہے کہ علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین ہی جانا پڑے۔

متعلقہ خبریں