Daily Mashriq


ایک اور میثاق جمہوریت کی بازگشت

ایک اور میثاق جمہوریت کی بازگشت

نئے میثاق جمہوریت کی بات میں کتنی سنجیدگی ہے اس سوال پر پہلے ہی سوچنا پڑے گا کیونکہ بزرگوں نے یونہی تو نہیں کہا تھا کہ آزمودہ را آز مودن جہل است بلکہ ایک اور فارسی کہاوت بھی تو ہے کہ تو درون درچہ کردی کہ بیرون خانہ آئی۔ یعنی وہ جو پہلے ایک میثاق جمہوریت کا سوانگ رچایاگیا اس کا مقصد تو بس یہ نظر آتا ہے کہ لوگوں کو بڑی تعداد میں لندن بلوا کر سیر کرائی جائے۔ موج مستی‘ رنگ بازی اور بس ٹائیں ٹائیں فش‘ بڑی جماعتوں کا تو چلیں مسئلہ تھا کہ وہ ’’کسی ‘‘ کے اکسانے پر ہر دو تین سال بعد ایک دوسرے کی حکومت گرانے کے کام میں مدد گار ہو کر حکومتیں گراتی تھیں اور انہیں ایک لحاظ سے اس صورتحال سے توبہ تائب ہو کر باہر نکلنا تھا کیونکہ تب جنرل مشرف نے اقتدار پر قبضہ کرکے دونوں کو ٹھینگا دکھا دیا تھا مگر چھوٹی جماعتیں تو ویسے ہی گھوڑوں کو نعل لگواتے دیکھ کر پائوں اوپر کرکے تلوے سامنے کرنے کے شوق میں شامل باجہ بننے کی کوشش کر رہی تھیں اور پھر جس کام کی ابتداء ہی نیتوں کے فتور سے کی جائے اس کا انجام وہی ہوتا ہے جو پہلے میثاق جمہوریت کا ہوا۔ یعنی اس میثاق کا مقصد بی بی کے نزدیک مشرف پر سیاسی دبائو ڈال کر ایک نئے این آر او پر مجبور کرنا تھا تو میاں صاحب بھی اپنی واپسی کے لئے راستے کی تلاش میں تھے‘ یوں بقول احمد فراز

اپنے اپنے بے وفائوں نے ہمیں یکجا کیا

ورنہ میں تیرا نہیں تھا اور تو میرا نہ تھا

نظر بہ ظاہر اگرچہ بی بی نے اپنے خون کا نذرانہ دے کر نہ صرف ملک میں ایک بار پھر جمہوریت کی بجھتی ہوئی شمع کی لو تیز کرا دی تھی بلکہ ان کی شہادت کے بعد میاں صاحب کو انتخابات کے بائیکاٹ سے منع کرانے میں آصف زرداری نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگا کر اہم کردار ادا کیا اور میثاق جمہوریت کی روح کو تازہ کرنے کے لئے مری میں دونوں جماعتوں کے بیچ ایک اور اجلاس میں کچھ اور سمجھوتے بھی ہوئے۔ تاہم حقیقت تو یہ ہے کہ مشرف کے ساتھ این آر او کرنے کی وجہ سے میثاق جمہوریت کو جو ڈینٹ لگ چکا تھا یعنی شیشے میں بال آچکا تھا اس کے بعد دنیا کی وہ کونسی طاقت تھی جو اس ڈینٹ کو مرمت کرکے شیشے کو اصل حالت پہ لے آتی اور بیانات کی حد تک تو میثاق جمہوریت زندہ رکھا گیا بلکہ اب بھی اس کی باز گشت کہیں نہ کہیں سنائی دے جاتی ہے مگر میاں صاحب نے بھی عدلیہ بحالی موومنٹ کے دوران میثاق جمہوریت کی روح کو مزید زخمی کرتے ہوئے افتخار چوہدری کی بحالی کے لئے تاریخی ریلی نکالی حالانکہ اسی میثاق میں طے ہوا تھا کہ ڈکٹیٹر کے زیر کمان حلف اٹھانے والی عدلیہ کے ججوں کو تسلیم نہیں کیا جائے گا اور اسی ریلی کے بعد پیپلز پارٹی اور لیگ (ن) کے مابین اختلافات انتہائوں کو چھونے لگے تھے یعنی دونوں نے مل کر میثاق جمہوریت کو دفن کرنے میں اپنا اپنا کردار ادا کیا تھا حالانکہ نظریہ ضرورت کے تحت اب بھی دونوں جماعتیں ایک دوسرے کو اس کی یاد دلاتی رہتی ہیں مگر اس کی روح کب کی پرواز کر چکی ہے اور پیچھے صرف بے چارے میثاق کا لاشہ رہ گیا ہے جس پر دونوں سینہ کوبی کرکے دل کا غبار نکالتی رہتی ہیں گویا بقول عبیداللہ علیم

بنا گلاب تو کانٹے چبھا گیا اک شخص

ہوا چراغ تو گھر ہی جلاگیا اک شخص

بلاول زرداری کو نئے میثاق جمہوریت کا شوشہ چھوڑنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس سوال کاجواب اگرچہ اوپر کی سطور میں بہ آسانی تلاش کیاجاسکتا ہے تاہم ایک بار پھر تھوڑی سی وضاحت کردیتے ہیں کہ ایک تو پہلے والا میثاق جمہوریت ایک آمر سے گلو خلاصی کے لئے تھا یعنی اس کی بنیاد بغض پر رکھی گئی تھی اور دوسرا یہ کہ بقیہ سیاسی قیادت کی مجموعی طاقت کو استعمال کرکے ریلیف لینا مقصود تھا۔ تاہم اس دوران پلوں کے نیچے بہت سا پانی بہہ چکا ہے اور معروضی حالات کے جبر نے ایسی آوازوں کی بازگشت بھی سنی جب چھوٹے صوبوں سے نئے میثاق جمہوریت کے برعکس نئے سوشل کنٹریکٹ یعنی نئے آئین کی تشکیل کے حق میں مطالبات سامنے آتے رہے کیونکہ ان صوبوں کے عوام یہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ آئین نے بھی ان کے حقوق کا تحفظ کرنے میں وہ کردار ادا نہیں کیا اور ان کے ساتھ زیادتی اب بھی جاری ہے۔ یہی وہ صورتحال ہے جس نے آج چھوٹے صوبوں میں محرومیاں جنم لینے کی بنیاد رکھی ہے تو بڑے صوبے میں بھی وسطی اور جنوبی حصوں کے مابین حقوق کی تقسیم پر سوال اٹھانے شروع کئے جبکہ دیگر علاقوں سے بھی انتظامی یونٹوں کے نام پر مطالبات سامنے آتے رہتے ہیں۔ یعنی نئے صوبوں کی باز گشت در اصل حقوق کی بازیافت کے حوالے سے ہی ہے۔ بات بہت دور نکل گئی تاہم اس جانب اشارہ کئے بنا چارہ بھی نہیں تھا کہ نئے میثاق جمہوریت اور نئے عمرانی معاہدے میں بھی تھوڑا سا فرق سامنے لایا جائے۔اس لئے اگر نئے میثاق جمہوریت کی بات ہونی ہے تو اسی میں ایسا بندوبست بھی لازمی ہے کہ جو لوگ نئے عمرانی معاہدے کی بات کرکے موجودہ آئین کی جگہ نئے آئین کی تشکیل کے لئے آوازیں بلند کرتے رہے ہیں ان کو بھی بڑی حد تک مطمئن کیا جائے کیونکہ ہماری گزشتہ ستر سالہ تاریخ آئین کی تشکیل کے حوالے سے انتہائی تلخ تجربات سے عبارت ہے اور یہ بات سمجھ لینی چاہئے آئین بنانا کوئی کھیل نہیں ہے جبکہ موجودہ آئین جن لوگوں نے مل کر بنایا ان کے قد کاٹھ کے سیاسی رہنما( انتہائی معذرت کے ساتھ) آج بہت ہی کم بلکہ آٹے میں نمک کے برابر بھی نظر نہیں آتے۔ اس لئے اب ہمیں ایک نئے میثاق جمہوریت پر ہی اکتفا کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ اس میثاق کے تحت ملک کو درپیش تمام حقیقی مسائل کو حل کرنے کی تدبیر کی جائے خواہ اس کے لئے نئے آئینی ترمیم کے ذریعے آئین میں سے ایسی شقوں کو نکال باہر کرنا ہی کیوں نہ لازمی ہو جن سے عوام کے مختلف طبقوں اور ملک کے مختلف حصوں میں نفرتیں پھیل رہی ہوں یا پھر کسی کو بھی اپنے حقوق کے غصب ہونے کی شکایتیں ہوں۔

متعلقہ خبریں