Daily Mashriq


لوگوں کو سوچنے کا وقت دیں

لوگوں کو سوچنے کا وقت دیں

نے کہا تھا کہ لوگ آزادیٔ اظہار رائے مانگتے ہیں حالانکہ در اصل انہیں سوچ کی آزادی درکار ہوتی ہے جسے وہ بہت کم استعمال کرتے ہیں۔ شاید پاکستان کے حالات کے حوالے سے اس سے بہتر بات نہ کہی جاسکتی تھی۔ ہمارے ملک میں لوگوں کی نفسیاتی اور روحانی کیفیت کچھ ایسی ہی ہے۔ وہ انتہائی غلامانہ سوچ رکھتے ہیں۔ ان کی سوچ کبھی آزاد نہیں ہوتی اور آزادیٔ اظہار رائے کی جیسی جرأت ان لوگوں میں پائی جاتی ہے اس کی بھی مثال نہیں ملتی۔ موروثی سیاست کی پروردہ جماعتوں کے بڑ بولے نمائندے جو اپنے اپنے بادشاہوں کی خاندانی وراثت کو اپنے دامن میں اپنی ہتھیلیوں پر جمائے گھومتے ہیں اور جنہیں کبھی یہ تک احساس نہیں ہوتا کہ جس ملک ‘ جس جمہوریت کی وہ بات کرتے ہیں وہ صرف لفظوں میں ہی موجود ہے۔ جن لوگوں کی تیسری نسل بھی ملکی سیاست میں موجود ہے ان کے حقوق کی حفاظت کرنے والے‘ ان کی بڑائی بیان کرنے والے‘ ان کی تعریف میں رطب ا للسان یہ ننھے سیاسی مکبر بھلا کس بات کی سیاست کر رہے ہیں۔ جو خود ذہنی طور پر غلام ہیں وہ اپنے سیاسی مالکوں کی تشہیر کا ڈھول لئے گھومتے ہیں۔ ان کی اپنی نہ کوئی پہچان ہے اور نہ ہی کوئی سوچ ہے۔ وہ میاں نواز شریف اور مریم بی بی کے نام کی منا دی کروانے والے ہیں‘ وہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی وراثت اور بلاول بھٹو کے نام کی آوازیں لگانے والے ہیں۔ ان لوگوں کو آزادیٔ اظہار رائے چاہئے مگر کس لئے؟ تاکہ وہ اور زور سے چلائیں کہ مریم نواز کو ووٹ دو‘ بلاول کو ووٹ دو کیونکہ اس سے تم در اصل ذوالفقار علی بھٹو کو وٹ دے رہے ہو۔ 

کیسی عجیب باتیں ہیں اور اس سب شور شرابے کے درمیان 22کروڑ محصور لوگ جو خود فیصلہ کرنے کی آزادی بھی نہیں رکھتے۔ وہ کسی کی آزادیٔ اظہار رائے سے متاثر ہوتے رہتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے شیر کو ووٹ ڈالو‘ یہ اثبات میں سر ہلاتے ہیں‘ کوئی کہتا ہے تیر پر نشان لگائو‘ یہ وہاں مان جاتے ہیں‘ کوئی بلا ہاتھوں میں لئے گھومتا ہے اور یہ اس کے پیچھے ہو لیتے ہیں۔

کونسی سوچ ہے جو ان کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہے یہ اس ملک کے سیاسی لیڈر بھی نہیں جانتے۔شاہ پرستوں کی قوم ہے جو لوگوں کی آزادیٔ اظہار رائے پر کان دھرے بیٹھی ہے۔ کیاہم نے کبھی اپنے خیال کی آزادی کی طاقت کو محسوس کیا ہے۔ کہاں ہم نے یہ سوچا ہے کہ اصل ترازو تو ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے۔ ایک بے وجہ کا رجحان زور پکڑ چکا ہے جس میں سیاسی پٹھو جو چاہتے ہیں سیاسی مخالفین کے حوالے سے کہتے ہیں۔ ان کی زبان آج تک کبھی کسی نے نہ تھامی تھی یہ پہلی بار ہوا ہے کہ ا لیکشن کمیشن پاکستان نے تین بڑے سیاسی لیڈران کو نوٹس جاری کئے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن‘ ایاز صادق اور پرویز خٹک کو اپنی الیکشن کمپیئن کے دوران نازیبا الفاظ استعمال کرنے سے نہ صرف سختی سے روکا گیا ہے بلکہ 21جولائی کو انہیں کمیشن کے سامنے پیشی کا حکم بھی دیاگیا ہے۔

یہ ایک انتہائی احسن اقدام ہے کیونکہ جس آزادیٔ اظہار رائے کی ہمارے سیاست دانوں کو عادت ہو چکی ہے اس سے قوم کا سماعتی استحصال ہو رہا ہے۔ لوگوں کو مسلسل ایسی گھٹیا زبان اور جملے بازی کا سامنا ہے جو کسی مہذب قوم کو زیب نہیں دیتی لیکن ہمارے ملک میں سیاسی جماعتیں خاص طور پر تحریک انصاف اور مسلم لیگ(ن) نے اسی کام کے لئے لوگ مقرر کر رکھے ہیں جو مسلسل مخالفین کے حوالے سے بد زبانی کرتے ہیں۔ جس قدر زیادہ بد زبانی کی جاتی ہے اتنی ہی زیادہ انہیں داد ملتی ہے۔ پرانے زمانے میں بادشاہوں کے درباروں میں مسخرے اسی کام کے لئے رکھے جاتے تھے جو دشمن کی تضحیک اڑاتے اور بادشاہ سے انعام پاتے۔ فی زمانہ یہ کام سیاسی مسخرے کر رہے ہیں اور اپنے اپنے بادشاہوں سے اپنی کارروائی کا انعام بھی پاتے ہیں۔ وہ لوگ جو سیاست میں کہیں دکھائی نہ دیتے تھے گزشتہ سیاسی حکومت کے پانچ سالوں میں اپنی بد زبانی کے عوض وزارت کے عہدوں پر بھی فائز کئے گئے۔ ان کا کمال بس ان کی زبان تھی جس نے لغویات بولنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی تھی۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی اس حالیہ پابندی کی جتنی بھی تحسین کی جائے کم ہے۔

آزادیٔ اظہار رائے کے نام پر مغلظات کاایک طوفان ہمارے ارد گرد برپا ہے اور کبھی کسی نے یہ نہیں سوچا کہ سامعین کی آزادی اس سے کس بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ ہر سامع کو بھی یہ اجازت ہونی چاہئے کہ محض آزادیٔ اظہار رائے کے نام پر اونچی آوازوں والے اور لائوڈ سپیکروں والے اس کی سمع خراشی میں مشغول نہ رہیں۔ اس کی سماعت کو محفوظ رہنے کا حق بھی دان کیا جانا چاہئے اور جب تک یہ بے وجہ ‘ بے ہنگم اور بد تمیز شور بند نہ ہوگا اس وقت تک لوگوں کو سوچنے کی آزادی نہ ہوگی۔ وہ ہمیشہ شور کے قیدی رہیں گے اور اپنا فیصلہ نہ کرسکیں گے۔ الیکشن کمیشن کو میڈیا پر چلنے والی تشہیری مہم کا بھی جائزہ لینا چاہئے کیونکہ لوگوں کو سوچنے کے لئے وقت چاہئے۔ سکون چاہئے اور خاموشی بھی چاہئے۔ انتخابات سے دو دن پہلے یہ شور بھی بند کردیا جائے تاکہ پہلی بار ہی سہی اس ملک کے لوگ اپنے مستقبل کے حوالے سے سوچ بچار کرسکیں۔

متعلقہ خبریں