Daily Mashriq


سیاستدانوں کے آپس کے تعلقات!

سیاستدانوں کے آپس کے تعلقات!

ویسے سیاست میں سیاستدانوں کا ایک دوسرے پر الزامات لگانا‘ کمتر ثابت کرنا اور ہر لحاظ سے خامیوں کا پیکر بنا کر عوام کے سامنے پیش کرنا پوری دنیا میں عام معمول ہے۔ لیکن بھارت اور پاکستان میں انتخابات کے موسم میں ایک دوسرے کو ملک دشمن اور غدار کہلوانا شاید انتخابی ضرورت بھی بن جاتی ہے۔ گزشتہ دنوں بھارت میں کانگریسی رہنمائوں نے نریندر مودی کو نواز شریف کا’’ دوست‘‘ پکار کر ان پر بھی ایسے ہی مقدمات چلانے اور جیل پہنچانے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ ہمارے ہاں بھی بعض سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں کو امریکہ نواز بھارت نواز اور کئی قسم کے دیگر القابات سے بھی نوازا جاتا ہے۔ اسی طرح امریکہ میں بھی ہوتا ہے۔ ابھی کل ہی امریکہ کے سیاستدانوں نے اپنی ہی جماعت کے صدر ٹرمپ کو پیوٹن سے ملاقات کرنے اور روسی صدر کی تعریف کرنے پر لتاڑا ہے۔ اس سے پہلے ٹرمپ کے مخالف سیاستدانوں نے امریکی انتخابات میں روسی مداخلت کو ہوا بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی اور یہ شوشہ اب بھی امریکی سیاست کی زریں لہروں میں موجود ہے۔ مراد یہ ہے کہ سیاست میں اس قسم کی چیزیں جمہوریت کے لوازمات میں شامل ہیں لیکن پاکستان میں سیاستدان ایک دوسرے پر جو الزامات اور بہتان لگاتے ہیں وہ شاید ہی کسی دوسرے ملک میں لگائے جاتے ہوں۔سر شام مختلف ٹی وی چینلز پر اور علی الصبح اخبارات میں اپنے سیاستدانوں کے ایک دوسرے کے بارے میں زریں خیالات اور بیانات سنتے پڑھتے پاکستان کے عوام حیران و پریشان رہ جاتے ہیں کہ یا الٰہی! یہ لوگ پارلیمنٹ میں ایک چھت کے نیچے بیٹھ کر پاکستان اور پاکستان کے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے کیا کام کرسکیں گے جبکہ حال یہ ہے کہ یہ ایک دوسرے کے وجود کو برداشت کرنے کے متحمل نہیں۔ ایک دوسرے کو عوام کی آنکھوں میں بد نما‘ داغدار اور میلا بنانے کے لئے باپ دادا بلکہ پر دادا تک کے گڑھے مردے اکھاڑنے سے دریغ نہیں کرتے۔ ہمارے ان سیاستدانوں کے آج کل کے جلسوں میں ٹیپ کے مصرعوں کی طرح دہرائے جانے والے جملوں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ ایک دوسرے سے کتنی ’’ محبت و عقیدت‘‘ رکھتے ہیں۔

ایک خاص بات یہ کہ ایک دوسرے کے نام بگاڑ کر جلسوں میں عوام کے سامنے مزے لے لے کر پیش کرتے ہیں۔ شہباز شریف کو ہمارے دو سیاستدان ’’ شوباز شریف‘‘ کہہ کر پکارتے ہیں۔ جواب میں شہباز شریف ان کو الزام خان‘ جھوٹے خان وغیرہ کے ’’ خطابات‘‘ سے نوازتا ہے۔ ہمارے نوجوان بلاول طالبان خان کہہ کر عمران خان کو طالبان سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس قسم کی باتوں کو عوام اگرچہ انجوائے بھی کرتے ہیں لیکن ہماری سماجی اور اخلاقی اقدار پر اس کے ناخوشگوار اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔ لیکن ان سے ہٹ کر جو خطرناک چیز ہے وہ یہ ہے کہ اس وقت تحریک انصاف کی پشت پر انٹیلی جنس ایجنسیوں کی اعانت کو ثابت کرنے کے لئے تین چار بڑی سیاسی جماعتوں کے چوٹی کے لیڈر جو اشارے کنایے کرتے ہیں ان سے نہ صرف انتخابات کے متنازعہ ہونے کے خدشات پیدا ہوتے ہیں بلکہ اس کے اثرات پاک افواج پر بھی پڑتے ہیں۔ جبکہ آئی ایس پی آر کے ترجمان کے مطابق پاک افواج کا انتخابات سے کوئی لینا دینا نہیں سوائے اس کے کہ الیکشن کمیشن کی درخواست پر سیکورٹی کے لئے پاک افواج کی خدمات الیکشن کے دن پیش کی جائیں گی۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ پاک افواج جو ہماری قومی فوج ہونے کے ناتے وطن عزیز کا واحد منظم اور پاسبان ادارہ ہے کو انتخابات اور سیاست میں ملوث ہونے سے گریز کیا جائے۔اور یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ اگر سیاستدانوں کے درمیان دال اسی طرح جوتیوں میں بٹتی رہی تو ملک کی حفاظت و سلامتی کے لئے پھر انتخابات( خدا نہ کرے) ملتوی اور متاثر بھی ہوسکتے ہیں۔

پاک افواج کی پشت پر ہر حال میں عموماً لیکن آج کے حالات میں بالخصوص عوام اور سیاستدانوں کی بھرپور سپورٹ‘ اعانت اور تائید کی ضرورت ہے کیونکہ ایک طرف دہشت گردی کا ناسور پھنکار رہا ہے اور دوسری طرف افغانستان میں ایسے علاقائی اور بین الاقوامی عناصر موجود ہیں جن کی شدید خواہش اور کوشش ہے کہ پاک افواج اور عوام کے درمیان بے لوث اور مضبوط عقیدت اور محبت کے رشتوں کو کسی نہ کسی طرح کمزور کیا جاسکے۔ اس مذموم مقصد کے لئے سوشل میڈیا پر بہت ہی مسموم پروپیگنڈا جاری ہے جس میں وطن عزیز کے بعض نادان دوست اور نا بالغ عناصر بھی شامل ہیں اس لئے سیاستدانوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہے کہ ایک دوسرے پر الزامات کے بجائے عوام کے سامنے آئندہ پانچ برسوں کا ایسا دلکش اور قابل عمل منشور پیش کرے کہ ووٹ ان کی جھولی میں پڑیں اور جس پارٹی کو دو تہائی یا سادہ اکثریت حاصل ہو جائے اس کو حکومت سونپ کر تعمیر وطن کے لئے حزب اقتدار وحزب مخالف دونوں مل کر ایک دوسرے کا ہاتھ بٹائیں تاکہ وطن عزیز ان گمبھیر مسائل سے نجات پا کر اپنی منزل مقصود کی طرف گامزن ہوسکے۔

متعلقہ خبریں