Daily Mashriq


ٹھو س فضائی اور آبی کی آلودگی کا حل

ٹھو س فضائی اور آبی کی آلودگی کا حل

ما حولیات کے مطابق آلودگی کی بُبت ساری اقسام ہیں مگر اس میں زیادہ خطرناک فضائی آلودگی یعنی Air Pollution ، ٹھو س آلودگی Solid State Pollution ہے۔ ٹھوس آلودگی والے عناصر میں کاغذاور پو لی تھین کے بیگز سر فہر ست ہیں ، جو ہمارے ماحول میں 37فی صد آلودگی کا سبب ہیں۔ ماہرین ماحولیات کہتے ہیں کہ پاکستان میں ایک کیوبک سنٹی میٹر پر ایک گرام تک ٹھوس آلودگی پائی جاتی ہے۔ماہر ماحولیات کہتے ہیں کہ پاکستان میں ایک ہفتے میں پلاسٹک اور شاپنگ بیگ کا فی کس استعمال 100گرا م ہے۔ پلاسٹک میں یہ خصو صیت ہے کہ زمین میں ہزاروں سال دبانے رہنے کے باوجود نہ تو یہ سَڑتا اور نہ گلتا ہے جو ماحول کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔پلاسٹک کو جلانے سے ہائیڈرو کلورک ایسڈ گیس بنتی ہے جو انسانی صحت کے لئے انتہائیخطر ناک ہے۔وطن عزیز میں 70 سے80 فی صد ٹھوس آلودگی کو صحیح طریقے سے ٹھکانے نہیں لگایا جاتا ہے جسکی وجہ سے ماحول کو کافی نُقصان پہنچ رہا ہے۔ٹھوس آلودگی کو صحیح طریقے سے ٹھکانے لگانے کے لئے دُنیا میں بُہت سے طریقے اختیار کئے جاتے ہیں، جس میںلینڈ فِل) (Land fill پائرو لائسس ((Pyrolysis انسانیریشن ((Incinerationاوشن ڈمپنگ(Ocean Dumping) ایروبک ڈیکمپوزیشن(Aerobic Decomposition)اور ریسائیکلنگ کا طریقہ شا مل ہے۔لینڈ فل ایک ایسا طریقہ ہے جس میں زمین میں گہرا گڑھا کھو داجاتا ہے ۔ جس میں سالڈ ویسٹ پر مٹی ڈال کر اسکو بُلڈوز کیا جاتا ہے۔اور اسی طرح فضلہ مٹی کے ساتھ گھل جاتا ہے۔10ہزار لوگوں کے سالانہ ویسٹ کو ٹھکانے لگانے کے لئے ایک ایکڑ زمین کی ضرورت ہو تی ہے۔پائرو لائسس طریقہ میں مختلف کیمیکل کے استعمال کے ساتھ زیادہ حرارت دی جاتی ہے جسکی وجہ سے مختلف ٹھوس قسم کا سالڈ ویسٹ ضائع ہو جاتا ہے۔ دوسرے طریقوں کی طرح انسانیریشن Incineration بھی ایک طریقہ ہے، جس میں زیادہ درجہ حرارت پر مختلف قسم کا سالڈ ویسٹ جلایا جاتا ہے اور بچے کھچے مواد کو زمین میں دبا یا جاتا ہے۔Ocean Dumpingطریقے میں دریا کے کنارے سالڈ ویسٹ کو زمین میں دبایا جاتا ہے جو گل سڑ جاتا ہے۔اس کے علاوہ دُنیا کے مختلف مما لک میں ٹھوس آلودگی کو ری سائیکل کیا جاتا ۔ مثلاً پلاسٹک کے تھیلوں کو جمع کر کے اسکو پریس کر کے پلاسٹک کے بلاک بناکر اسے عمارتوں کی تعمیر میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں پانی کی آلودگی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ایک رپورٹ میں بتا یا گیا ہے کہ پاکستان میں اکثر مقامات پر پانی قطعاً پینے کے قابل نہیں۔ پی سی آر ڈبلیو آر نے ۲۱ شہروں اور پانچ دریائوں کا سروے کیا اور رپورٹ کے مطابق تمام شہروں اور دریائوں کا پانی پینے کے قطعاً قابل نہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں سالانہ تقریباً ایک کروڑ لوگ ہیضے کا شکار ہو جاتے ہیں ۔اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ فی زمانہ بہت ساری بیماریاں جس میں ہیپاٹائٹس، ہیضہ، ملیریا، قے اور دست اور دوسری خطر ناک قسم کی بیماریاں آلودہ پانی سے لاحق ہو تی ہیں۔ اسی طر ح گندے پانی سے ۱۰ لاکھ ملیریا کے کیسز پاکستان میں سامنے آتے ہیں۔اسی طرح پاکستان میں ہیپیاٹائٹس بی، سی ، ڈی اور ای بھی تیزی سے پھیل رہا ہے۔دوسری وجوہات کے علاوہ ہیپاٹائٹس کی سب سے بڑی وجہ پینے کا گند ہ پانی ہے۔پاکستان میں ہیپاٹائٹس بی کے مریضوں کی تعداد ۱۵ فیصد، ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کی تعداد۹ فی صد ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق ۲۱ شہروں کے نل، ٹیوب ویل ، ہینڈپمپ ، چشموں ، تالابوں اور دریائوں کے پانی کے نمونے چیک کئے گئے۔ پانی کے ان نمونوں سے پتہ چلا کہ بڑے شہروں کا پانی چھوٹے شہروں کی نسبت زیادہ آلودہ تھا۔ گجرات ، حفدار ، لورالائی اور زیارت کا پانی پینے کے قطعی قابل نہیں تھا۔ اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جہلم، چناب ، راوی ، سُتلج دریائے سندھ اور دریائے کابل کا پانی حددرجہ مضر صحت اورآلودہ ہے۔کیونکہ اس میں نہ صرف زہریلے مواد اور کیمیکل ڈرین شامل ہو تے ہیں بلکہ سیوریج کا untreated پانی بھی ان دریائوں میں شا مل ہو جاتا ہے۔اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ دریائے کابل میں بڑے بڑے شہروں مثلاً مردان، چارسدہ، جہانگیرہ کا آلودہ پانی گرتا ہے جس سے پانی کا معیار مزید خراب ہو گیا ہے۔دریائے کابل کا پانی پاکستان کے دریائوں میں گندہ ترین پانی تصور کیا جاتا ہے۔عام طور پر گاڑیوں میں پٹرول اور ڈیزل کے جلنے سے کا ربن ڈائی آکسائیڈ، لیڈ، کاربن مانو آکسائیڈ زیادہ مقدار میں پیدا ہوتی ہے ۔ اور ہوا میں کاربن کی مقدار زیاد ہو تی ہے تو اس وجہ سے گرین ہائوس ایفکٹ کا مسئلہ پید اہوتا ہے اور اسی طرح زمین پر کاربن کی وجہ سے درجہ حرارت میں اضافہ ہو تاہے۔گرین ہائوس کی وجہ سے زمین سے چند میل کی اونچائی پر ہوا میں کاربن کی ایک تہہ پیدا ہوتی ہے جسکی وجہ سے عام طور پر درجہ حرارت میں اضافہ ہو تاہے۔ پاکستان کے بڑے شہروں جس میں کراچی ، لاہور اور پنڈی شا مل ہیں اس میں فضائی آلودگی کی شرح بین الا قوامی معیار سے ۲۰ چند زیادہ ہے۔ اگر زیادہ سے زیادہ درختوں کو اگایا جائے تو اس سے قدرتی طور پر ہوائی آلودگی کو قابو کیا جا سکتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں